ورلڈکپ سیمی فائنل: بھارت کو شکست، نیوزی لینڈ ایک مرتبہ پھر فائنل میں

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2019

ای میل

بھارت کی پوری ٹیم 221 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی—فوٹو:اے ایف پی
بھارت کی پوری ٹیم 221 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی—فوٹو:اے ایف پی
نیوزی لینڈ مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی—فوٹو:اے  پی
نیوزی لینڈ مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی—فوٹو:اے پی
نیوزی لینڈ نے بھارت کو جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف دیا تھا۔ — فوٹو: رائٹرز
نیوزی لینڈ نے بھارت کو جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف دیا تھا۔ — فوٹو: رائٹرز
نیوزی لینڈ مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی—فوٹو:اے ایف پی
نیوزی لینڈ مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی—فوٹو:اے ایف پی

ورلڈ کپ 2019 کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے شان دار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 18 رنز سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے میچ کو گزشتہ روز بارش سے متاثر ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم نے دوسرے روز اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی۔

بھارت کی مضبوط ٹیم کو ایک مشکل وکٹ پر جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف ملا لیکن اس کے مایہ ناز بلے باز نیوزی لینڈ کی شان دار باؤلنگ کے سامنے گزشتہ میچوں کی اچھی کارکردگی کا تسلسل دکھانے میں ناکام ہوئے۔

روہت شرما، ویرات کوہلی اور راہول صرف ایک، ایک رن بنا کر پویلین لوٹے تو اس وقت بھارت کا مجموعی اسکور صرف 5 رنز تھا جس کے بعد دنیش کارتک صرف 6 رنز بنا کر 24 کے مجموعے پر آؤٹ ہوئے۔

بھارت کی جانب سے پانچویں وکٹ کے لیے ہرڈیک پانڈیا اور رشبھ پنٹ نے 47 رنز کی شراکت بنائی اور اسکور کو 71 رنز تک پہنچایا تاہم پانٹ 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

سابق کپتان دھونی جب بیٹنگ کے لیے آئے تو بھارت کو شدید دباؤ کا سامنا تھا لیکن انہوں نے ذمہ داری نبھاتے ہوئے پانڈیا کے ساتھ 21 رنز کی شراکت بنا کر ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم اس دوران پانڈیا ایک اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو بھارت کا اسکور 6 وکٹوں پر 92 رنز تھا۔

دھونی اور جدیجا نے 116 رنز کی شراکت قائم کی—فوٹو:آئی سی سی ٹویٹر
دھونی اور جدیجا نے 116 رنز کی شراکت قائم کی—فوٹو:آئی سی سی ٹویٹر

دھونی نے پانڈیا کے بعد جدیجا کے ساتھ 116 رنز کی شان دار شراکت بناکر بھارت کے فائنل تک رسائی کے امکانات بھی روشن کردیے جبکہ جدیجا نے شان دار بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری بنائی۔

جدیجا 59 گیندوں پر 4 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 77 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو اس وقت بھارت کو جیت کے لیے مزید 32 رنز درکار تھے۔

دھونی بھارت کو جیت کے قریب لا کر 216 کے اسکور پر تیز رننگ کرتے ہوئے مارٹن گپٹل کی شان دار فیلڈنگ کا نشانہ بنے جبکہ انہوں نے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کر لی تھی۔

بھارت کو 49ویں اوور میں دو نقصان برداشت کرنا پڑے جب دھونی 50 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس کے بعد فرگوسن نے بھونیشور کمار کی وکٹیں بھی اڑا دیں، یوں بھارت کی فائنل تک پہنچنے کی امیدیں دم توڑنے لگیں۔

بھارت کی پوری ٹیم آخری اوور میں 221 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد سیمی فائنل میں اسے 18 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میٹ ہنری کو میچ میں سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کرنے پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ نے 2015 کے ورلڈ کپ میں ہوم گراؤنڈ میں جنوبی افریقہ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر آسٹریلیا کے خلاف فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا، تاہم فائنل میں یک طرفہ مقابلے کے بعد اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بھارت کی ٹیم بھی ورلڈ کپ 2015 کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی تاہم سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 95 رنز کے واضح مارجن سے شکست ہوئی تھی۔

قبل ازیں گزشتہ روز کی طرح نئے دن میں بھی بھارتی گیند بازوں نے کیویز کو رنز بنانے نہیں دیے اور پوری ٹیم مقرر 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنا سکی۔

مزید پڑھیں: ورلڈ کپ: پہلے سیمی فائنل میں سکھ تماشائیوں کو اسٹیڈیم سے کیوں نکالا گیا؟

نیوزی لینڈ کی جانب سے روس ٹیلر نے سب سے زیادہ 74 رنز بنائے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں کین ولیمسن 67 اور ہینری نکولس 28 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

بھارت کی جانب سے بھونیشور کمار 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ جسپریت بمرا، ہاردک پانڈیا، رویندرا جدیجا اور یوزویندر چہل ایک، ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو ان کی بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے درست تصور نہیں کیا جارہا تھا، لیکن باؤلرز نے اس کو درست ثابت کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کتنے میچز ریزرو ڈے پر کھیلے گئے؟

ورلڈ کپ کے دوران ناکامی کی شکار کیویز اوپننگ جوڑی اس میچ میں بھی ناکامی کا شکار ہوئی جہاں بھارتی باؤلرز نے اپنی بہترین باؤلنگ کے بدولت انہیں آزادانہ طریقے سے کھیلنے سے روکے رکھا۔

سیمی فائنل کے پہلے روز نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن اور ان کے ساتھی کھلاڑی محتاط حکمت عملی کے تحت رن بناتے رہے، تاہم اس دوران ان کا رن اوسط انتہائی سست روی کا شکار رہا۔

کیویز اننگز کے 47ویں اوور کی پہلی گیند کے بعد بارش نے میچ میں مداخلت کی تو میچ کو روک دیا گیا، جب بارش کا سلسلہ طویل ہوا تو میچ کو ایک روز کے لیے ملتوی کردیا گیا۔