تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2019

ای میل

متاثرہ خاتون بے شک معاف کردے لیکن قانون تیزاب گردی کے ملزم کو معاف نہیں کر سکتا، چیف جسٹس — فوٹو: اسد فاروقی
متاثرہ خاتون بے شک معاف کردے لیکن قانون تیزاب گردی کے ملزم کو معاف نہیں کر سکتا، چیف جسٹس — فوٹو: اسد فاروقی

سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلے میں تیزاب گردی کے ملزم کی رہائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ متاثرہ فریق کی معافی کے باوجود ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملزم جاوید اقبال کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تیزاب گردی کا مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خاتون نے ان کے موکل کو معاف کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین پر تیزاب پھینکنے والے کو 14 سال کی قید

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تیزاب گردی کے کیس میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ؎

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون بے شک معاف کردے، لیکن قانون تیزاب گردی کے ملزم کو معاف نہیں کر سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ تیزاب گردی سے متعلق قانون انتہائی سخت ہے جبکہ کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوہائے کا نیا ڈرامہ تیزاب گردی کا شکار لڑکی کی کہانی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے خاتون کو تیزاب سے جلا کر بہت بڑا ظلم کیا۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کسی پر تیزاب پھینکنے کی سزا عمر قید ہے اور یہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے متاثرہ خاتون کو دھمکا کر بیان دینے کے لیے سپریم کورٹ بھیجا گیا ہو۔

انہوں نے ملزم کی بریت کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ قانون، تیزاب سے چہرہ جلانے والے کو معاف نہیں کر سکتا۔