انگلینڈ کو 1992 کے ورلڈ کپ کی جرسی سے مماثلت راس آ گئی، 27سال بعد فائنل میں

11 جولائ 2019

ای میل

انگلینڈ کی 2019 کی جرسی 1992 کے ورلڈ کپ کی جرسی کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھی— فوٹو: آئی سی سی / اے ایف پی
انگلینڈ کی 2019 کی جرسی 1992 کے ورلڈ کپ کی جرسی کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھی— فوٹو: آئی سی سی / اے ایف پی

انگلینڈ نے آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں شکست دے کر 27سال بعد 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

انگلینڈ نے ایجبسٹن میں کھیلے گئے ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کو شکست دے کر 27سال بعد ورلڈ کپ فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

اس سے قبل انگلینڈ نے آخری بار 1992 کے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا تھا جہاں اسے پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کو 1992 کی جرسی سے مماثلت حد سے زیادہ راس آ گئی جہاں اس ورلڈ کپ کے لیے انگلینڈ نے 27سال قبل کھیلے گئے عامی ایونٹ سے ملتی جرسی بنائی اور جرسی کا رنگ بھی وہی رکھا۔

انگلینڈ نے اپنی جرسی کا رنگ اور ڈیزائن بھی اسی لیے 1992 کے ورلڈ کپ کی جرسی سے ملتا ہوا رکھا تھا کہ وہ اس ورلڈ کپ میں انگلش ٹیم کی کارکردگی سے تحریک حاصل کر سکیں اور یہ مماثلت انگلینڈ کو اس حد تک راس آئی کہ وہ 27سال بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں پہنچ گئے۔

انگلینڈ کو اس سے قبل مجموعی طور پر تین فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے جہاں اس نے 1979، 1987 اور 1992 کے عالمی کپ کا فائنل کھیلا۔

1979 کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے انگلش ٹیم کو شکست دی تو 1987 میں آسٹریلین نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی جبکہ 1992 میں پاکستان نے انگلینڈ کو زیر کیا تھا۔

1996 کے عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کو مات دی جبکہ 1999 میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر انگلش ٹیم راؤنڈ مرحلے میں ہی ایونٹ سے باہر ہو گئی اور سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکی۔

2003 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کا سفر گروپ مرحلے میں ہی تمام ہوا البتہ 2007 میں وہ سپر ایٹ تک پہنچنے میں کامیاب رہے لیکن سیمی فائنل میں نہ پہنچ سکے۔

2011 کے ورلڈ کپ میں انگلش ٹیم کو کوارٹر فائنل میں شکست ہوئی جبکہ 2015 کے عالمی ایونٹ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے ساتھ انگلینڈ کا عالمی کپ میں سفر تمام ہوا تھا۔

2015 ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ نے اپنی مینجمنٹ اور بورڈ میں تبدیلی کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیم میں نوجوان اور جارح مزاج کھلاڑیوں کو شامل کیا جس کی بدولت گزشتہ 4 سال کے دوران انگلینڈ نے سب سے بہترین کھیل پیش کیا۔

ورلڈ کپ کے دوران بھی انگلینڈ نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں ان کا مقابلہ نیوزی سے ہو گا۔