جیسن روئے کو امپائرز کے فیصلے سے اختلاف مہنگا پڑ گیا

12 جولائ 2019

ای میل

ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں غلط آؤٹ قرار دیے جانے کے بعد جیسن روئے امپائرز سے بحث کر رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز
ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں غلط آؤٹ قرار دیے جانے کے بعد جیسن روئے امپائرز سے بحث کر رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ سیمی فائنل میں 85رنز کی جارحانہ اننگز کھیلنے والے مایہ ناز انگلش اوپننگ بلے باز جیسن روئے کو امپائرز سے تلخ کلامی مہنگی پڑ گئی اور ان پر میچ فیس کا 30فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں 224رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیسن روئے اور بیئراسٹو نے 124رنز کی شاندار اوپننگ شراکت قائم کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔

خصوصاً جیسن روئے نے جارحانہ انداز اپنایا اور 85رنز کی اننگز کھیلی جس میں 5 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے لیکن سنچری سے چند قدم کے فاصلے پر انہیں کیچ آؤٹ قرار دے دیا گیا۔

جیسن روئے امپائر کے فیصلے سے ناخوش نظر آئے اور ری پلے سے صاف ظاہر تھا کہ گیند ان کے بلے کو چھوئے بغیر وکٹ کیپر تک گئی ہے لیکن بیئراسٹو اپنی وکٹ بچانے کے لیے پہلے ہی ریویو ضائع کر چکے تھے۔

اس موقع پر روئے نے ریویو تو نہ لیا البتہ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف امپائر امپائرز سے بحث کی اور اپنی خفگی کا اظہار کیا۔

اس ردعمل پر جیسن روئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے اور ان پر میچ فیس کا 30فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

اوپننگ بلے باز امپائرز کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرنے کے آرٹیکل 2.8 کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے اور انہوں نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

میچ فیس سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ روئے کو دو منفی پوائنٹ بھی دیے گئے ہیں لیکن وہ فائنل میچ میں پابندی کی سزا سے بچ گئے البتہ اگر انہوں نے دوبارہ 12ماہ کے دوران یہی غلطی کی تو ان پر پابندی لگ سکتی ہے۔