2015 ورلڈ کپ کے ہیرو گپٹل کیلئے 2019 کا عالمی کپ ڈراؤنا خواب بن گیا

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

مارٹن گپٹل فائنل سے قبل ہیڈ کوچ گیری اسٹیڈ کے ہمراہ بیٹنگ ٹریننگ کر رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز
مارٹن گپٹل فائنل سے قبل ہیڈ کوچ گیری اسٹیڈ کے ہمراہ بیٹنگ ٹریننگ کر رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

مارٹن گپٹل نے 2015 ورلڈ کپ میں شاندار کھیل پیش کیا تھا اور عالمی کپ میں سب سے بہترین بلے باز رہے تھے البتہ 2019 ورلڈ کپ ان کے لیے اب تک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔

ورلڈ کپ 2015 میں مارٹن گپٹل نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے سب سے زیادہ رنز بنائے تھے اور ایک ڈبل سنچری سمیت 547رنز اسکور کیے تھے۔

لیکن 2019 ورلڈ کپ اوپننگ بلے باز کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں اور وہ اب ایونٹ میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کر سکے ہیں جہاں عالمی کپ کے 10 میچوں کی 9 اننگز میں انہوں نے صرف 167رنز بنائے ہیں۔

عالمی کپ میں اس بدترین کارکردگی کی وجہ سے نیوزی لینڈ کو ورلڈ کپ میں اپنے افتتاحی میچ کے سوا کسی بھی موقع پر اچھا آغاز نہیں مل سکا اور کئی مواقعوں پر وہ مشکلات سے دوچار ہوئی۔

تاہم انہوں نے اس خراب بیٹنگ کا ازالہ کسی حد تک اپنی فیلڈنگ کردیا اور آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ میچ میں اسٹیون اسمتھ کا شنادار کیچ لینے کے ساتھ ساتھ سیمی فائنل میں مہندرا سنگھ دھونی کو براہ راست تھرو پر رن آؤٹ کرنا اوپننگ بلے باز کو تاعمر یاد رہے گا۔

اپنی خراب کارکردگی پر مارٹن گپٹل نے تسلیم کیا کہ خود بھی کافی پریشان ہیں اور ورلڈ کپ فائنل میں بہترین کھیل پیش کرنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے فائنل میچ سے قبل ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ بہت ہی زیادہ مشکل ہے، مجھے لگا کہ میں گیند پر بہت لیٹ جا رہا ہوں لیکن انتہائی کوشش کے باوجود بھی اب تک بہتر کھیل پیش نہ کرنے پر پریشان ہوں۔

اوپننگ بلے باز کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ میری کارکردگی سے حد سے زیادہ مایوسی کا شکار ہیں لیکن کوئی بھ یاتنا پریشان نہیں ہو گا جتنا میں خود اپنی کارکردگی سے پریشان ہوں۔

گپٹل کا کہنا تھا کہ میں نیٹ پریکٹس میں بہت محنت کر رہا ہوں اور امید ہے کہ اگلے میچ میں بہتر کھیل پیش کرنے میں کامیاب رہوں گا۔