ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے معیار پر سوالیہ نشان لگ گیا

15 جولائ 2019

ای میل

نیوزی لینڈ کے سب سے تجربہ کار بلے باز روس ٹیلر فائنل میں امپائر کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے— فوٹو: اے پی
نیوزی لینڈ کے سب سے تجربہ کار بلے باز روس ٹیلر فائنل میں امپائر کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے— فوٹو: اے پی

انگلینڈ کے عالمی چیمپیئن بننے کے ساتھ ہی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 اپنے اختتام کو پہنچا لیکن پورے عالمی کپ خصوصاً ایونٹ کے ناک آؤٹ مرحلے کے دوران امپائرنگ انتہائی غیرمعیاری رہی۔

ورلڈکپ کے دوران کئی میچوں میں امپائرنگ کے معیار پر سوالات اٹھائے گئے کیونکہ ان میچوں میں ناقص امپائرنگ مقابلوں کے فیصلوں اور ٹیموں کی عالمی کپ میں کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہوئی۔

راؤنڈ میچز میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف میچ میں امپائرنگ کا معیار انتہائی ابتر رہا اور فیصلے ویسٹ انڈیز ٹیم کے کلاف آئے جس کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو اس میچ میں شکست کا منہ بھی دیکھنا پڑا۔

مزید پڑھیں: ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپر اوور کا استعمال

پھر بقیہ میچوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور جو آگے چل کر ناک آؤٹ میچز میں بھی نہ رک سکا۔

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ورلڈ کپ سیمی فائنل میچ میں سری لنکن امپائر کمار دھرما سینا نے جیسن روئے کو کیچ آؤٹ قرار دیا حالانکہ گیند ان کے بلے کے قریب بھی نہ تھی۔

اس فیصلے پر جیسن روئے نے احتجاج بھی کیا اور اس پر اپنی میچ فیس سے محروم ہوگئے لیکن اس واقعے کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کمار دھرماسینا کو فائنل کے لیے امپائر برقرار رکھا۔

فائنل میں امپائرنگ کا معیار توقعات سے کہیں زیادہ ابتر رہا اور یہ بری کارکردگی چیمپیئن شپ میچ کے نتیجے پر بھی اثرانداز ہوئی۔

نیوزی لینڈ نے فائنل بیٹنگ شروع کی تو ہنری نکولس کو دھرماسینا نے ایل بی ڈبلیو قرار دیا جس پر انہوں نے ریویو لیا اور ان کا یہ اقدام درست ثابت ہوا کیونکہ گیند وکٹ کے اوپر سے گزر رہی تھی، یوں نکولس آؤٹ ہونے سے بال بال بچ گئے۔

پھر دھرماسینا نے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کے خلاف کیچ کی اپیل مسترد کردی البتہ انگلینڈ نے ریویو لیا تو سری لنکن امپائر پھر غلط ثابت ہوئے اور انہیں اپنا فیصلہ تبدیل کر کے کیوی کپتان کو آؤٹ قرار دینا پڑا۔

نیوزی لینڈ کی اننگز آگے بڑھی تو ایک ایسے موقع پر جب روس ٹیلر اور ٹام لیتھم اپنی ٹیم کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے، امپائر میراس ایراسمس نے ٹیلر کو ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔

ری پلے سے صاف ظاہر تھا کہ گیند لیگ اسٹمپ کے اوپر سے گزر رہی تھی لیکن بدقسمت ٹیلر اس فیصلے کو چیلنج نہ کرسکے کیونکہ مارٹن گپٹل پہلے ہی ریویو ضائع کر چکے تھے۔

یہ سلسلہ انگلینڈ کی بیٹنگ کے دوران بھی جاری رہا جب اننگز کی پہلی ہی گیند پر ٹرینٹ بولٹ نے جیس روئے کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل کی لیکن میراس ایراسمس نے اسے مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پوری زندگی ولیمسن سے معافی مانگتا رہوں گا، بین اسٹوکس

نیوزی لینڈ کے کپتان نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ریویو لیا جس میں صاف واضح تھا کہ گیند وکٹوں پر لگ رہی ہے البتہ امپائر کے فیصلے کی وجہ سے روئے آؤٹ ہونے سے بچ گئے۔

اب یہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے لیے بڑا سوال ہے کہ آخر اچھے معیار کے اماپئرز کی موجودگی کے باوجود ایسے امپائرز کو ٹائٹل میچ کی ذمے داری کیوں سونپی گئی جہاں ان کے فیصلے میچ کے نتیجے پر اثرانداز ہوئے۔

اس فیصلے سے ایک مرتبہ پھر ون ڈے کرکٹ میں دو ریویوز کی موجودگی پر سوال اٹھ گیا ہے اور کھیل کی عالمی گورننگ باڈی کو چاہیے کہ وہ کرکٹ کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ٹیم کو کم از کم 2 ریویوز دے تاکہ امپائرز کی غلطی میچ کے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہو۔