قبائلی اضلاع میں شناختی کارڈ کو بطور صحت کارڈ استعمال کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2019

ای میل

صحت سہولت پروگرام کے تحت ہر گھر کو ہسپتالوں میں 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے، — فائل فوٹو/اے پی پی
صحت سہولت پروگرام کے تحت ہر گھر کو ہسپتالوں میں 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے، — فائل فوٹو/اے پی پی

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ضم کیے گئے اضلاع کے رہائشیوں کے قومی شناختی کارڈ کو صحت سہولت کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا قبائلی علاقوں میں صحت کارڈ فراہم کرنے کا حکم

اجلاس میں بتایا گیا کہ انضمام شدہ علاقوں کی عوام اپنے شناختی کارڈ کو صحت سہولت کارڈ کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر محمود خان نے کہا مفت صحت کی سہولیات صوبے کے تمام شہریوں کا حق ہے جو ریاست کی فلاح کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت ہر گھر کو ہسپتالوں میں 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے معذور افراد کو صحت کارڈ جاری کرنے کی منظوری دے دی

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مفت علاج پروگرام کا تمام اضلاع تک پھیلاؤ کے بعد خیبر پختونخوا شناختی کارڈ کو صحت سہولت کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینے والا پہلا صوبہ بن گیا جو عوامی فلاح کے لیے اہم قدم ہے۔

اجلاس میں انہیں بتایا گیا کہ قبائلی علاقوں کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں شہری اپنے شناختی کارڈ کو مفت علاج کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ صحت اور معلومات کو ہدایت کی کہ عوام میں مفت علاج کی سہولت کے حوالے سے آگاہی پھیلائی جائے۔