روہنگیا مہاجرین کا باقاعدہ شناخت کے بغیر میانمار واپسی سے انکار

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2019

ای میل

اس سے قبل بھی روہنگیا افراد نے وطن واپس لوٹنے کی پیشکش مسترد کردی تھی—فائل فوٹو:اے پی
اس سے قبل بھی روہنگیا افراد نے وطن واپس لوٹنے کی پیشکش مسترد کردی تھی—فائل فوٹو:اے پی

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں نے میانمار کی جانب سے ان کو بحیثیت قوم تسلیم کرنے اور باقاعدہ شناخت دیے جانے کے اعلان سے قبل اپنے ملک واپس لوٹنے سے انکار کردیا۔

روہنگیا پناہ گزینوں کے رہنماؤں نے یہ مطالبہ وطن واپسی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے آئے میانمار کے حکام سے کیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق میانمار کی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ایک پر تشدد مہم کے نتیجے میں 2017 میں تقریباً 7 لاکھ 30 ہزار روہنگیا جان بچا کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے جہاں وہ کاکس بازار کے قریب مہاجر کیمپ میں مقیم ہیں اور واپس لوٹنے سے گریزاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار کی فوج نے عالمی عدالت کا جامع روہنگیا تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ میانمار میں وسیع پیمانے پر قتل عام، گینگ ریپ اور جلاؤ گھیراؤ نسل کشی کے ارادے سے کیا گیا تاہم میانمار نے ان الزامات کی تردید کی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری مرتبہ ہے جب میانمار حکام نے وطن واپسی کے لیے روہنگیا افراد کو آمادہ کرنے کی غرض سے کاکس بازار کیمپ کا دورہ کیا۔

اس سے قبل اکتوبر میں بھی میانمار سے ایک وفد مذاکرات کے لیے یہاں آیا تھا تاہم اس وقت بھی روہنگیا افراد نے وطن واپس لوٹنے کی پیشکش مسترد کردی تھی۔

سیکریٹی خارجہ مائنٹ تھو کی سربراہی میں میانمار سے آنے والے وفد نے روہنگیا کے رہنماؤں سے ملاقات کی، اس موقع پر سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: روہنگیا افراد کے قتل میں ملوث میانمار کے سپاہی ایک سال سے بھی کم مدت میں رہا

روہنگیا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وطن واپسی سے قبل میانمار انہیں ایک علیحدہ نسلی گروہ تسلیم کرتے ہوئے میانمار کی شہریت دے۔

مذاکرات میں شریک ایک روہنگیا رہنما دل محمد کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انہیں بتادیا ہے کہ ہم اس وقت تک نہیں لوٹیں گے جب تک ہمیں میانمار میں روہنگیا شناخت نہیں دی جائے گی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تک انصاف کی فراہمی، بین الاقوامی تحفظ، اور ان کے حقیقی گاؤں اور زمینوں پر جانے کے مطالبات پورے نہیں کردیے جاتے وہ واپس میانمار نہیں جائیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم شہریت اور اپنے تمام حقوق چاہتے ہیں، ہمیں ان پر بھروسہ نہیں، اس لیے ہم صرف اسی صورت میں واپس جائیں گے کہ ہمیں بین الاقوامی تحفظ دیا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈھائی لاکھ روہنگیا مہاجرین کو شناختی کارڈز فراہم کردیے گئے، اقوام متحدہ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اپنی زمینوں پر واپس جانا چاہتے ہیں اور وہاں جا کر کیمپوں میں نہیں رہنا چاہتے‘۔

خیال رہے کہ نومبر میں وطن واپسی کے لیے شروع کیا گیا عمل اس وقت روک دیا گیا تھا جب کوئی روہنگیا میانمار واپس لوٹنے کے لیے آمادہ نہیں ہوا تھا۔

دوسری جان اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین اور دیگر امدادی گروہ بھی میانمار میں روہنگیا کے تحفظ کے سلسلے میں ان کی واپسی کے منصوبے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔