لفظ تماشا: سپر مین بچھیا اور ببن میاں

اپ ڈیٹ 13 اگست 2019

ای میل

چَھنن، چَھنن، چَھنن، چَھنن۔ یہ چھنا چَھن 2 روز سے گلی میں گونج رہی ہے اور اس کے ساتھ بچوں کا شور بھی۔ جانور ’شریف‘ ہے، اس لیے بچے اسے گھماتے پھر رہے ہیں۔ ان آوازوں کے درمیان گاہے گاہے ایک آواز ’ببن میاں‘ کی بھی ابھرتی ہے: ’ابے ’سمال‘ کے جھنڈا زمین پہ ناں لگے‘۔

جانور ببن میاں کا ہے، بچے محلے والوں کے اور جھنڈا مملکتِ خدادادِ پاکستان کا۔ جو اس صحت مند جانور پر کچھ اس طرح بندھا ہے کہ اگر جانور اُڑ سکتا تو بنا چَڈّی کا ’سپر مین‘ کہلاتا۔

’ارے ببن میاں یہ کیا؟‘، اختر خالو نے حیرت سے بچھیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’بچھیا‘، ببن میاں نے عارفانہ تجاہل برتا۔

’میں جھنڈے کا پوچھ رہا ہوں‘، اختر خالو کے لہجے میں جھنجھلاہٹ آگئی۔

’جھنڈا پاکستان کا ہے‘، ببن میاں کی بے نیازی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

’تو اس غریب جانور پر کیوں باندھ دیا، خود اوڑھ لیتے‘، اختر خالو کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے پلٹے تو ببن میاں نے لپک کر ان کا بازو تھام لیا اور انہیں پُچکارتے، بھلاتے، پُھسلاتے اور کسی قدر کھینچتے ہوئے گلی میں بچھے تخت تک لے آئے۔

’اماں اختر میاں کاہے غصہ ہوتے ہو، لو گلوری کھاؤ‘، ببن میاں نے پان کی ڈبیا ان کی جانب بڑھادی۔

’قربانی کے جانور پر جھنڈا۔ یہ قربانی کا مذاق اور جھنڈے کی توہین ہے‘، یہ کہتے ہوئے اختر خالو نے تلے اوپر 2 مختصر گلوریاں کلّے میں داب لیں۔

پھر چُٹکی میں لگے کتھے کو اپنے سر سے پونچھا اور طنز کا تیر چلایا: ’اچھی تربیت کر رہے ہو بچوں کی‘۔

’تربیت ہی تو کرریا ہوں بچوں کی‘، ببن میاں نے ’تربیت‘ پر زور دیا۔

’وہ کیسے؟‘، اختر خالو کا منہ حیرت سے کھلا تو پیلے دانت اور لال زبان پکار اٹھے:

’دیکھو ’ہمیں‘ جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘، ببن میاں نے جواب میں مناظرے باز مولوی کا سا انداز اختیار کیا اور سائل کو سوال ہی کی راہ سے گھر پہنچا دیا۔

پوچھا ’قربانی کس لیے؟‘

’اللہ کے لیے‘، اختر خالو نے جوابی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

’پاکستان کس کے نام پر بنا؟‘

’اسلام کے‘

’گائے کون ذبح کرتا ہے؟‘

’مسلمان‘

’گائے کون پوجتا ہے؟‘

اس سوال کے ساتھ ہی جیسے اختر خالو بات کی تہہ تک پہنچ گئے اور بے ساختہ نعرہ لگایا: ’پاکستان زندہ باد‘، پھر لپک کر ببن میاں کا ماتھا چوم لیا۔ جس کا نتیجہ ماتھے پر رنگین لعاب کی صورت میں ثبت ہوگیا۔

اختر خالو جو اب تک ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے، جوتا اتار کر صحیح سے تخت نشین ہوگئے اور بولے: ’ببن میاں تم نے تو قربانی، آزادی اور دو قومی نظریے کو ایک بچھیا ہی میں نبٹا دیا۔ اب ایک پروبلم ہماری بھی سلجھا دو‘۔

’وہ کیا‘، ببن میاں بھی سنبھل کے بیٹھ گئے۔

’عید الاضحیٰ کا کیا مطلب ہے؟ درست لفظ بکرا عید یا بقرہ عید؟‘

ببن میاں ’فارم‘ میں آچکے تھے، چنانچہ گویا ہوئے تو جیسے دبستاں کُھل گیا:

لفظ ’عید‘ کا مطلب ہے ’جو بار بار آئے‘۔ اسی سے لفظ ’وعدہ‘ اور ’وعید‘ بھی ہے۔ ان دونوں لفظوں میں لوٹ کر آنے کا تصور موجود ہے۔ چونکہ خوشی کا یہ تہوار ہر سال لوٹتا یا ’عود‘ کرتا ہے اس لیے ’عید‘ کہلاتا ہے۔ ویسے اس دن ایسے عشاق سے ہوشیار رہنا چاہیے جو رسمِ دنیا، موقع اور دستور کو بطورِ حوالہ پیش کرکے گلے پڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔

رہی بات ’ اضحیٰ‘ کی تو اس کے معنی ’قربانی کے جانور‘ کے ہیں۔ دراصل یہ لفظ ’اُضحٰیہ‘ سے نکلا ہے جو عید پر ذبح کی جانی والی بکری کو کہتے ہیں۔ یوں عید الاضحیٰ کا مطلب ہوا خوشی کا وہ تہوار جس پر جانور ذبح کیے جائیں۔

نور الغات والے مولوی نور الحسن کے مطابق ’عید الاضحیٰ‘ لکھنا درست ہے۔ اس عید الاضحیٰ کو ’بقرہ عید‘ بھی کہتے ہیں۔ ’بقرہ‘ عربی میں گائے کو کہتے ہیں اور اس عید پر گائے بھی قربان کی جاتی ہے شاید اس لیے اسے ’بقرہ عید‘ بھی کہہ دیتے ہیں۔

بے شک اس عید پر ’بکرے‘ بھی کٹتے ہیں مگر اس رعایت سے اسے ’بکرا عید‘ کہنا درست نہیں، ورنہ یہ سلسلہ چل نکلا تو ’دنبہ عید اور مینڈھا عید سے ہوتا ہوا اونٹ عید‘ تک پہنچ جائےگا۔ پھر جو غدر مچے گا اس کا تصور آپ خود کرلو۔

جانور ذبح کرنے والے کو عام طور پر ’قصائی‘ لکھا جاتا ہے، جب کہ بڑے محقق لکھ گئے ہیں کہ درست لفظ ’قسائی‘ ہے، جو قساوت یعنی سنگدلی سے نکلا ہے۔

ہندوؤں میں گوشت فروش کو ’کھٹیک‘ کہتے ہیں، شاید اس لیے کہ وہ جانور کی گردن ’کھٹ‘ سے اڑا دیتا ہے۔ واللہ اعلم

گائے سے یاد آیا کہ اسے سنسکرت میں ’گاؤا‘ کہتے ہیں۔ اسی سے ’راؤ‘ کے وزن پر ’گاؤ‘ اور ’رائے‘ کے وزن پر ’گائے‘ ہے۔ اس کی ایک تخفیفی صورت ’گؤ‘ بھی ہے۔ اسی ’گؤ‘ سے ’گوپال‘ یعنی گائے پالنے والا اور ’گوالا‘ یعنی گائے والا کی ترکیبیں بنی ہیں۔

چونکہ حرف ’گ‘ اور ’ک‘ اکثر موقعوں پر ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں لہٰذا ہندی کا ’گاؤ‘ انگریزی زبان میں Cow (کاؤ) ہوگیا ہے۔ اس صوتی تبدیلی کی ایک مثال لفظ ’نکہت‘ بھی ہے جسے ’نگہت‘ بولا اور لکھا جاتا ہے۔

عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں اکثر موقع پر حرف ’ن‘ کے ساتھ ’ب‘ آجائے تو ’میم‘ کی آواز دیتا ہے۔ اسے عربی کے ’منبر‘ اور فارسی کے ’گنبد‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب لفظ ’دنبہ‘ پر غور کریں نام کا مطلب خود ہی ظاہر ہوجائے گا۔

لفظ ’دنب‘ کا تلفظ ’دُم‘ ہے، چونکہ زیرِ بحث جانور کی دُم خاصی چوڑی چکلی ہوتی ہے لہٰذا اس نسبت سے اسے ’دنبہ‘ پکارا جاتا ہے۔

دنبے ہی کا ہم قبیلہ ایک مویشی’ بھیڑ‘ ہے۔ اس کے نر کو بھیڑا اور مینڈھا کہتے ہیں۔ یہ بات ہمیں بہت بعد میں پتہ چلی۔ خیر سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر ایک خون خوار (خون پینے والا) جانور کو بھیڑیا کس حساب میں کہتے ہیں؟

عرض ہے کہ بھیڑیا چونکہ بھیڑوں کے گلوں پر حملہ آور ہوتے ہیں لہٰذا بھیڑ کی نسبت سے اسے ’بھیڑیا‘ پکارا گیا ہے۔

اس سے پہلے کہ مضمون بکرا پیڑی بن جائے ہمیں اجازت دیں آئندہ نشست میں کچھ نئے مویشیوں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔