ہمیں پائیدار شہر تعمیر کرنے ہوں گے

اپ ڈیٹ 09 اگست 2019

ای میل

زلزلے اور سیلاب اس وقت ’آفات‘ کہلاتے ہیں جب ان کے باعث انسانوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ یہ واقعات قدرتی ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر تباہ کاریاں انسان کی تخلیق کردہ ہوتی ہیں۔ قدرتی واقعات کو روکنا تو ہمارے بس میں نہیں لیکن ممکنہ جانی و مالی نقصانات سے بچنے کی تیاری ضرور کی جاسکتی ہے۔

چند اہم رجحانات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ سنگین آفات وجود پذیر ہو رہی ہیں۔ جہاں قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں عالمی جنوب کو ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں درجہ حرارت اور شہری سیلاب کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ہمارے بڑے شہروں میں برستی موسلادھار برساتوں سے ہم پر حیرتوں کے پہاڑ نہیں ٹوٹنے چاہئیں لیکن حالیہ مون سون برساتوں کے دوران کراچی میں ایک درجن سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔ آنے والے برسوں میں اس قسم کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، لہٰذا ہمیں اس چیلنج سے نمٹنے کی تیاری پکڑنا ضروری ہے۔

سب سے اہم یہ سوال ہے کہ اس طرح کی آفات سے زیادہ نقصانات کا خطرہ کن لوگوں کو ہوتا ہے۔ عمومی طور سب سے زیادہ خطرے کی زد میں غربا اور کنارے سے لگے لوگ ہوتے ہیں۔

چند برس قبل شدید گرمی کی لہر یا ہیٹ ویو سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کراچی میں گرمی کی لہر کے دوران سب سے زیادہ خطرے کی زد میں جو گروہ (vulnerable groups) پائے گئے ان میں پسماندہ بستیوں کے رہائشی، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور اور چھوٹے بچے شامل تھے۔ خطرے کی زد میں رہنے والے دیگر گروہوں میں گلیوں میں پیدل چل کر مختلف پھل سبزی یا دیگر چیزیں بیچنے والے، بھکاری، ٹریفک پولیس اہلکار، ہاکرز اور بے گھر افراد شامل ہیں۔

خطرے کی زد میں رہنے والے گروہ غیر محفوظ گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس اچانک سے وقوع پذیر ہونے والے قدرتی واقعات کی سختیوں اور تناؤ سے نمٹنے کے لیے نہ زیادہ پیسے ہوتے ہیں اور نہ کوئی تیاری۔ اس کے علاوہ ان کے پاس مضبوط آواز بھی نہیں ہوتی کہ جو ریاست کا احتساب کرسکے۔ موجودہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مختلف عناصر کے دباؤ نے گھرانوں کے لیے تباہ کاریوں سے خود کو محفوظ رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔

نقل مکانی کرنے والے افراد بھی تباہ کاریوں کے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔ مقامی نقل مکانی پاکستان کی بنیادی آبادیات، معاشرے اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جو کسی نہ کسی صورت ملک کی نصف آبادی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ شہروں کی طرف نقل مکانی اب تو بہت ہی عام ہوچکی ہے۔ زیادہ آمدن کمانے کا مواقع کی تلاش اور بہتر شہری خدمات سے متاثر ہو کر لوگ بڑی تعداد میں دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے شہر بڑھتی آبادی کا بوجھ سنبھالنے لیے مطلوبہ سہولیات سے عاری ہیں جبکہ اس قسم کے قدرتی واقعات سے نمٹنے کے لیے تو یہاں بالکل بھی خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں ہیں۔ تو سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ جتنے زیادہ لوگ شہروں کی طرف نقل مکانی کریں گے اتنا زیادہ تباہ کاریوں کا خدشہ بڑھے گا، اور ہمارے شہروں کی کوئی تیاری نہیں ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ 2005ء کے زلزلے کے بعد سے ملک میں ریلیف کی فراہمی اور فوری ریسپانس کے انتظامات بہتر ہوئے ہیں۔

مختلف قدرتی واقعات کے بارے میں قبل از وقت وارننگ دینے کا سسٹم نقصان سے بچنے کا اہم ذریعہ ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے حال ہی میں بذریعہ ایس ایم ایس اردو میں موسم کے حوالے سے الرٹس بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں لوگوں کو احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ خطرے کی زد میں رہنے والے تمام افراد کو ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہ ہو لہٰذا مسجد میں اعلان کے ذریعے پیغام کو پہنچانے کے طریقہ کار بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ تباہ کاریوں کے دوران سب سے زیادہ خطرے کی زد میں رہنے والے افراد کے پاس اپنا تحفظ اور صحت کا خیال رکھنے کے لیے مطلوبہ معلومات، آگاہی اور سپورٹ حاصل ہونا ضروری ہے۔

اگرچہ ہمارا ریلیف اور ریسپانس کا نظام تو بہتر ہوا ہے، لیکن تباہ کاریوں کے ممکنہ خطرات میں کمی لانے، قبل ازوقت تیاری اور مینجمنٹ کے معاملے میں اب بھی کمزوریاں موجود ہیں۔ ایک قدرتی واقعے کو زبردست تباہ کاری میں تبدیل کرنے میں کمزور گورننس اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہاں یہ بھی بات قابل غور ہے کہ اس مسئلے کو صرف ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی، وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی، وزارتِ صحت اور وزارتِ خزانہ سمیت دیگر ریاستی اداروں کو بھی ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ ایک جٹھ ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

شہروں کو تباہ کاریوں کے نقصانات میں زیادہ سے زیادہ کمی لانے کے لیے اپنے کمزور پہلوؤں کو سمجھنے اور بدلتے موسمیاتی حالات سے ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اپنانا ہوں گی۔ ہمیں پائیدار یا لچکدار (resilience) پلاننگ کی ضرورت ہے۔ شہری پائیداری کی تعریف یہ ہے کہ، ’شہری نظامات، برادریوں، افراد، تنظیموں اور کاروباری شعبے میں شامل ایسی صلاحیت جو انہیں ہر نوعیت و شدت کی قدرتی آفت کا سامنا کرنا اور حالات کو پھر سے معمول پر لانے کے قابل بناتی ہے۔‘ ایک پائیدار معاشرہ آفات سے پیدا ہونے والی مشکل صورتحال میں بھی خود کو ثابت قدم رکھ سکتا ہے اور وقتِ ضرورت اپنی ازسرے نو تعمیر کرسکتا ہے۔ اس پائیداری کی پلاننگ وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر نظامی حل فراہم کرتی ہے۔

مثلاً، پائیدار پلاننگ میں پانی، ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیمی مراکز، ہسپتال اور صحت کے دیگر مراکز کو اس طرز پر تعمیر کیا جاتا ہے جو انہیں قدرتی آفات اور تباہ کاریوں کے باوجود محفوظ، مؤثر اور فعال رکھتا ہے۔ عمارات کو ابتدا سے ہی ایسے ڈیزائن اور طریقہ تعمیر کے ذریعے بنانا ہوگا تاکہ یہ آفات میں ثابت قدم رہیں۔ اس میں ریاست کا بھی اہم کردار ہوگا، جو سخت ہاؤسنگ اصول اور معیارات ترتیب دے گی اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

اس پلاننگ میں ایسے کمیونٹی مراکز اور محفوظ مقامات کا قیام بھی شامل ہے جنہیں ایمرجنسی شیلٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا، وہاں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کے مطلوب سامان کا موجود ہونا لازمی ہوگا۔ موجودہ ریسپانس ٹیموں کی افرادی قوت اور رضاکاروں کی تربیت، اور ایمرجنسی کی صورتحال میں بہتر ریسپانس کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنیکل اور لوجسٹکل صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر سے بنانے کی ضرورت پڑے گی۔

پاکستان Sendai Framework for Disaster Risk Reduction 2015-2030 اختیار کرچکا ہے، جو کہ پائیدار تعمیر کے لیے مؤثر منصوبہ فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ پائیدار پلاننگ کے مالی اخراجات پر غیر معمولی لاگت آئے گی لیکن ان اقدامات سے تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات میں زبردست کمی لائی جاسکے گی۔ پائیدار پلاننگ کو مرکزی دھارے کی پلاننگ اور شہری ترقی کا ایک جزو بنا دینا چاہیے۔ ہمارے اداروں کو چاہیے کہ وہ تباہ کاریوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی پیش بینی کریں اور ان تمام کمزوریوں کو سمجھیں جو ایک عرصے سے شہری دباؤ کے باعث سامنے آئی ہیں۔

چونکہ یہ ایک اجتماعی چیلنج ہے اس لیے شراکت داری کے ساتھ کام کرنے کی نہایت ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے۔ سول سوسائٹی انفرادی حیثیت میں کام کرنے کے بجائے پائیدار تعمیرات میں ریاست کا ہاتھ بٹائے۔ مثلاً، سول سوسائٹی مہم چلانے اور خطرے کی زد میں رہنے والے گروہوں کے پاس جا کر سیلاب کے دوران نقصان کے امکانات کو کم سے کم کرنے کے لیے ضروری ہدایات کی فراہمی کا کام انجام دے سکتی ہیں۔

ہمیں اپنے اندر پھر سے احساس ’برادری‘ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سے ذمہ داری لینی ہوگی اور اپنے اپنے علاقوں کے سفیر کے طورپر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں رابطوں کے ایسے ذرائع اور میکینیزم کی ضرورت پڑے گی جس کی مدد سے خطرے کی زد میں رہنے والے گروہوں کو یہ معلوم ہو کہ انہیں کہاں سے مدد مل سکتی ہے۔ ہمیں لوگوں کے اندر تباہ کاریوں سے تحفظ، مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد پھر سے اٹھ کھڑے ہونے اور ذمہ دار شہری بننے کی سوچ اور چاہ کو فروغ دینا ہوگا۔

بطور ادارے، شہر اور برادریاں، ہمیں اپنی تیاری بہتر رکھنی چاہیے اور ایک پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ مضمون 5 اگست 2019ء کو شائع ہوا۔