افسانہ: ’محبت اپاہج نہیں ہوتی‘

اپ ڈیٹ 03 ستمبر 2019

ای میل

’یہ تمہارے لیے ہے۔‘ حیدر نے سرخ مخملی ڈبیہ ماہم کے آگے پھینک دی۔

ماہم نے سر اٹھا کر حیدر کی طرف دیکھا، وہ ڈبیہ کھولے بغیر بھی اندازہ کرسکتی تھی کہ اس میں کیا ہے؟

’کپڑے تبدیل کرو اور سو جاؤ۔‘ حیدر نے حکم صادر کیا۔ بیڈ سے تکیہ اٹھاکر وہ صوفے پر دراز ہوگیا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ گزشتہ 2 مہینے میں اس کی زندگی میں کتنی تبدیلیاں آ گئی تھیں۔ والد کے اچانک ایکسیڈنٹ اور موت نے اسے توڑ پھوڑ دیا تھا۔ دکھ کی اس گھڑی میں وہ بالکل اکیلا تھا۔

والد کے چہلم تک وہ ان کے تمام دوست احباب سے اچھی طرح واقف ہو گیا تھا جو شاکر صاحب کے ساتھ فیکٹری میں کام کرتے تھے اور تعزیت کے لیے حیدر کے پاس آئے تھے۔ ان میں فیکٹری کے مالک ریاض الدین بھی شامل تھے جو چہلم تک حیدر سے بارہا ملے۔ چہلم کے فوراً بعد ریاض الدین نے حیدر کو اپنے دفتر بلایا اور ایک فائل اس کے آگے رکھ دی۔

’بات یہ ہے برخوردار ،میں نے اکاؤنٹنٹ کو بلایا تھا تاکہ شاکر کے واجبات کا حساب کتاب کیا جائے۔ جو واجبات ہم نے ادا کرنے ہیں اس کی رقم تقریباً دو لاکھ روپے ہے جبکہ خود شاکر نے گزشتہ 2 برسوں میں 15 لاکھ کا قرضہ لیا ہے۔ وہ کچھ رقم تمہاری تعلیم کے لیے بطور قرض لے چکے ہیں۔‘ حیدر دم بخود ان کی بات سُن رہا تھا۔

’کیا تم 13 لاکھ روپے یکمُشت ادا کرسکتے ہو؟‘

’دراصل میری فیکٹری کچھ نقصان میں جا رہی ہے اور مجھے کچھ رقم کی فوری ضرورت ہے۔‘ ریاض الدین اپنے مہرے آگے بڑھا رہے تھے۔

’کچھ عرصہ پہلے ہی میں نے اپنی تعلیم مکمل کی ہے، اب مین ایک فرم میں عارضی طور پر جاب کر رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ تھوڑے وقت میں مجھے بہترین جاب مل جائے گی لیکن 13 لاکھ روپے اتنی بڑی رقم ہے کہ میں یکمشت ادا نہیں کرسکتا، مجھے کچھ وقت چاہیے۔‘ حیدر ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا۔

’اگر میں اپنا گھر بھی سیل کروں تو اس کے بمشکل 5 سے 7 لاکھ روپے ہی ملیں گے۔‘ حیدر نے سوچتے ہوئے آہستگی سے کہا۔

’نہیں، تمہیں اپنا گھر سَیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ ریاض الدین نے فوراً اس کی بات کاٹی۔

انہوں نے ریوالونگ چئیر سے ٹیک لگا لی اور آنکھیں بند کرلیں۔ وہ اپنی کرسی کو مسلسل گھمارہے تھے۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے حیدر انہیں دیکھ رہا تھا۔

’حیدر! میں یہ رقم معاف کرسکتا ہوں اگر۔۔۔‘ ریاض الدین نے توقف کیا۔

’اگر تم میری بیٹی سے شادی کرلو، میں اپنی بیٹی کے لیے اچھے رشتہ کی تلاش میں تھا اور تم میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو میں اپنے داماد میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘ ریاض الدین نے اپنا مہرہ آگے بڑھایا۔

’شادی؟ مگر سر میں شادی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ میرے والد کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، اور شادی کے اخراجات اور انتظامات۔۔۔‘ حیدر کو صاف انکار کرنا قدرے مشکل لگ رہا تھا۔

’اس کی تم فکر نہ کرو، تمام اخراجات اور انتظامات میرے ذمہ ہوں گے۔‘ ریاض الدین اسے سوچنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔

’ورنہ۔۔۔‘ پھر وہ خاموش ہوگئے۔

حیدر نے ان کی چھپی ہوئی دھمکی کو فوراً محسوس کرلیا۔ مجھے کسی نہ کسی کے ساتھ تو شادی کرنی ہے تو ریاض الدین کی بیٹی ہی سہی، اور پھر میری 13 لاکھ روپے کے قرض سے بھی چھوٹ جائے گی۔ وہ اب مختلف زاویوں سے سوچ رہا تھا۔ خوبصورت، تعلیم یافتہ بیوی، قیمتی جہیز، کیریئر بنانے کے مواقع، بہترین معیار زندگی۔۔۔ ایک مرد کو کامیاب زندگی گزارنے کے لیے یہی لوازمات تو چاہیے ہوتے ہیں۔

ریاض الدین نے حیدر کے چہرے پر رضامندی کے آثار دیکھ لیے تھے۔

’اگلے ہفتے میں اور میری وائف عمرہ ادا کرنے جا رہے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ پرسوں جمتہ المبارک کو تمہارا اور ماہم کا نکاح کردیا جائے۔ ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر اللہ کے گھر حاضری دینا چاہتے ہیں۔‘ ریاض الدین حیدر کو فرار کا کوئی لمحہ نہیں دینا چاہتے تھے۔

نکاح بہت سادگی سے ہوا۔ نکاح کی شرائظ حیدر کو بہت سخت لگیں۔ 5 لاکھ روپے حق مہر مقرر ہوا اور طلاق بھی ماہم کو دے دیا گیا، جس پر حیدر کو شدید اعتراض تھا مگر وہ صبر سے برداشت کر گیا۔

’ارے دولت تمام عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ آج اس مقولے کا عملی مظاہرہ دیکھ لیا۔‘ اس کے دوست کی بیوی کسی خاتون سے گفتگو کر رہی تھیں۔

’چاند سورج کی جوڑی ہے مگر چاند کو گرہن لگا ہے۔‘ ارے دلہن آ گئی۔

ان دونوں کا تبصرہ جاری رہتا مگر دلہن کے لان میں آجانے سے سب کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی۔ حیدر بھی اپنی دلہن کو دیکھ رہا تھا۔ اپنے نام کی طرح نہایت خوبصورت، حسین اور چاند سی لڑکی۔ وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔

مگر وہ چاند ہی کی طرح ’داغدار‘ بھی تھی، اسے 2 لڑکیوں نے سہارا دیا ہوا تھا، وہ اپنی دائیں ٹانگ کو گھسیٹ کر چل رہی تھی۔ اس کا پاؤں مخالف سمت میں مڑا ہوا تھا۔ پولیو زدہ ٹانگ کا کولہا بے ہنگم انداز میں باہر کو نکلا ہوا تھا۔

اتنا بڑا دھوکا، فراڈ! حیدر کو خود پر غصہ آیا۔ میں کتنی آسانی سے بے وقوف بن گیا اس کے پورے وجود میں ماہم اور اس کے والدین کے خلاف نفرت کی ایک لہر اٹھی۔

میں اسے اتنی نفرت اور اذیت دوں گا کہ یہ خود مجھ سے طلاق مانگے گی۔ حیدر نے دل ہی دل میں یہ فیصلہ کیا۔

رخصتی کے موقعے پر بڑی بدمزگی ہوئی کیونکہ حیدر نے ماہم کو جہیز میں ملنے والی کوٹھی میں جانے سے صاف انکار کردیا تھا۔

’اگر اس نے میرے ساتھ رہنا ہے تو میرے ہی گھر جائے گی۔‘ حیدر نے مستحکم لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا۔

’حیدر بہت اچھا انسان ہے، مجھے امید ہے کہ ایک دن سب ٹھیک ہوجائے گا۔ تم بہت بہادر ہو بیٹا ہر بات کو بہت صبر سے برداشت کرنا۔‘ رخصتی کے وقت ریاض الدین نے ماہم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

معلوم نہیں والدین کو اپنی معذور اولاد بے حد بہادر اور صابر ہی کیوں نظر آ تی ہے؟

نامانوس آواز سے حیدر کی آنکھ کھل گئی، صحن میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے کی آواز آ رہی تھی۔

’اس سر درد کو نہ جانے کب تک برداشت کرنا ہوگا۔‘ اس نے ناگواری سے سوچا۔

منہ ہاتھ دھو کر وہ کمرے سے باہر آ گیا۔ ماہم کچن میں تھی۔

’میں ناشتہ لے کر آتا ہوں۔‘ کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر اس نے اندر اطلاع دی۔

کچھ دیر بعد وہ انڈے اور ڈبل روٹی لے کر سیدھا کچن میں آ گیا اور کچن سلیپ پر شاپر رکھ دیے۔

’تم آئندہ اپنے والدین سے نہیں ملو گی۔‘ انڈے توڑتے ہوئے ایک لمحے کے لیے ماہم کے ہاتھ کانپے۔

گھر کے کاموں کے لیے خالہ جی آتی ہیں اور اگر ضرورت پڑے گی تو ایک اور مددگار خاتون رکھوا دوں گا۔

’کیا تم گو نگی بھی ہو؟‘ جواب نہ آنے پر وہ زچ ہو کر بولا۔

’نہیں۔‘ ماہم نے مدھم لہجے میں جواب دیا۔

ماہم آملیٹ بنانے کے لیے پیاز کاٹ رہی تھی اور وہ اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ حیدر نے کیبنٹ سے تمام مصالحہ جات نکال کر شیلف پر رکھ دیے جائے کے لیے ماہم نے ساس پین میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھا۔

’چائے کیسی بناؤں؟‘ وہ سوالیہ نظروں سے حیدر کی طرف دیکھ رہی تھی۔

’اسٹرانگ۔ جب ناشتہ تیار ہوجائے تو مجھے آواز دے دینا۔

میرے لیے صرف خالہ جی ہی کافی ہیں۔‘ وہ کچن سے باہر نکل رہا تھا جب اسے ماہم کی آواز سنائی دی۔

کچھ عرصے میں ہی حیدر نے محسوس کیا کہ اس کی تمام ذاتی اشیاء دوبارہ اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اپیا کی شادی کے بعد اس کے بیڈ روم اور وارڈ روب میں جیسے بھونچال آ گیا تھا، اس کے کپڑے، جوتے جرابیں کتابیں کمرے میں بکھری پڑی ر ہتی تھیں۔ چیزوں کو سمیٹنے کی بھلا اسے عادت کہاں تھی۔

گھر چاہے چھوٹا ہو بڑا ہو، عورت کے وجود کے بغیر نامکمل ہوتا ہے 2 بیڈ روم، ڈرائنگ روم، کچن اور چھوٹے سے صحن پر محیط گھر کو دیکھ کر ماہم کو اپنا وسیع و عریض بنگلہ یاد آ جاتا۔ لگتا ہے اپیا کے جانے کے بعد کسی نے بھی گھر کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔

’ماہم ! تمہارے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے۔ کھانا بہت مزیدار بناتی ہو۔‘

’تم کتنی سادہ اور پر خلوص ہو ،ہر وقت مسکراتی رہتی ہو۔‘

’کاش بیٹی اللہ نے تمہیں صحت و تندرستی بھی دی ہوتی، اور بے عیب پیدا کیا ہوتا۔‘ خالہ جب بھی اس کی تعریف کرتیں تو اللہ سے شکوہ ضرور کرتیں۔

حیدر صبح 8 بجے آفس جاتا۔ شام کو 6 بجے اس کی واپسی ہوتی۔ کھانا کھا کر وہ ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتا اور پھر سوجاتا۔ ضرورتاً وہ ماہم سے کوئی بات کرلیتا ورنہ خاموشی کی گہری دھند دونوں کے درمیان چھائی رہتی۔ وہ ماہم کو اسٹور میں رکھے کاٹھ کباڑ کی طرح بھول چکا تھا۔

’نہیں یار! ابھی میں بہت مصروف ہوں، ہم تمہارے گھر پھر کبھی آ جائیں گے۔ نہیں بھئی کھانے کا تکلف تم نہ ہی کرو۔‘ حیدر فون سننے میں مصروف تھا، جب وہ کمرے میں داخل ہوئی۔

’تمہاری بھابھی بے حد مصروف رہتی ہیں۔ انشاء اللہ کچھ عرصے میں تمہارے گھر آئیں گے۔‘ حیدر نے اپنے دوست کو ٹالا۔

’معلوم نہیں لوگ دوسروں کی ذاتی زندگی میں اتنی مداخلت کیوں کرتے ہیں؟‘ فون بند کرتے ہوئے وہ بُڑبُڑایا۔

’کس کا فون تھا؟‘ ماہم کمرے میں بکھری چیزوں کو سمیٹنے لگی۔

’میرے کولیگ کا۔۔ ہم دونوں کو کھانے پر انوائیٹ کرنا چاہتا ہے۔‘ وہ تلخی سے بولا۔

’پھر؟‘ وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

’لوگوں کی نگاہوں اور ہونٹوں پر سوال ہی سوال ہوتے ہیں اور میرے پاس کسی بھی سوال کا کوئی جواب نہیں۔‘

’کس قسم کے سوالات؟‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھی۔

’جیسے’’اپاہج لڑکی کو سہارا دے کر تم کو دنیا میں ہی جنت مل گئی ہے نا؟‘‘ کیا ثواب کمانے کے لیے شادی کی ہے؟ یا پھر یہی کہتے پھرتے ہیں کہ ’یقیناً سسر کی دولت پر خوب عیش ہو رہی ہوگی؟‘اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

’کیا میں انہیں الف سے یے تک کہانی سنایا کروں؟ میرے ساتھ کس طرح کا دھوکہ ہوا؟ میری مجبوری سے فائدہ اٹھایا گیااور تمہیں میرے پلے باندھ دیا گیا۔‘

’لوگ مجھے لالچی سمجھتے ہیں۔ میرے دوستوں کا خیال ہے کہ میں نے دولت کی لالچ میں آکر تم سے شادی کی ہے جبکہ میں خود تمہارے باپ کا مقروض ہوں۔ کوئی بھی حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ سب مفروضوں پر کہانیاں بُن لیتے ہیں۔ جس دن میرے پاس مطلوبہ رقم ہوگی میں تمہیں چلتا کروں گا‘ حیدر نے دھمکی دی۔

وہ سُن ہوگئی۔

’حیدر مجھے ایک بات بتائیے، کیا آپ اپنے جسم کا کوئی عضو خود تخلیق کرسکتے ہیں؟‘

’کیا مطلب؟‘حیدر کی آنکھوں میں حیرت تھی۔

’کیا آپ اپنے جسم کا کوئی حصہ مثلاً ناک، آنکھ، کان ٹانگیں، بازو وغیرہ خود بناسکتے ہیں؟‘

’نہیں۔‘ حیدرنے نفی میں سر ہلایا۔

’کیا آپ اپنا مقدر خود لکھ سکتے ہیں؟‘

’بالکل نہیں۔‘

’کیا آپ دوسرے انسان کا مقدر بدل سکتے ہیں؟‘

’نہیں بھئی!‘ اب کی بار وہ اُکتا کر بولا۔

’جب ہم انسان اپنے جسم کا کوئی عضو تو کیا ایک ٹشو یا ایک خلیہ بھی خود نہیں بناسکتے تو سوچیے کہ ہم کتنے مجبور و بے بس ہیں۔ ہم اپنا مقدر لکھ نہیں سکتے، کوئی بھی شخص کسی دوسرے انسان کا مقدر بدل نہیں سکتا۔ ہم تو صرف کٹھ پتلیاں ہیں جو مقدر کے ہاتھوں ناچ رہی ہیں۔ کبھی ہم تماشا بن جاتے ہیں اور کبھی تماشائی۔‘ وہ سانس لینے کو رکی۔

’حیدر! میرا وجود تمہارے لیے تو باعث شرمند گی ہوسکتا ہے مگر میرے لیے نہیں۔‘ وہ بولتی گئی۔ حیدر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر پیر پٹختا ہوا کمرے سے نکل گیا۔

’بابا جان۔ حیدر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ ان کے کولیگ کا فون آیا تھا۔ وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ ’ماہم ہچکیوں میں بتا رہی تھی۔

’تم مجھے صرف یہ بتاؤ کہ وہ کس ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے۔ میں اور تمہاری ممی ہسپتال پہنچتے ہیں اور چندا پریشان مت ہو۔ میں گاڑی تہماری طرف بھیج رہا ہوں ۔تم بھی فوراً ہسپتال پہنچو۔‘

ریاض الدین نے ماہم کو تسلی دی۔

ماہم کو گاڑی سے اترتا دیکھ کر مسٹر اور مسز ریاض الدین فوراً اس کی طرف لپکے۔

’حیدر کی بائیک سلپ ہو گئی تھی۔ اللہ نے بہت کر م کیا ہے۔‘ ماہم کی والدہ نے اسے اپنے سے لپٹا لیا۔

’میں نے ڈاکٹر ہارون سے حیدر کا کیس ڈسکس کیا ہے۔ دائیں ٹانگ فریکچر ہوگئی ہے۔ گبھرانے کی کوئی بات نہیں۔ 3 دن ہسپتال میں رہے گا، لیکن کم از کم ایک ماہ بیڈ ریسٹ کرنا پڑے گا۔‘ ریاض الدین نے اپنی بیٹی کو بتایا۔

ماہم کو ایسا لگا جیسے وہ تپتی دھوپ سے یکدم ٹھنڈی چھاؤں میں آگئی ہو۔

’اللہ میرے سب رشتوں کو سلامت رکھنا۔‘ ماں کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔

’میں حیدر سے مل لوں۔‘ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ تھاما۔

حیدر کو دیکھ کر ماہم کا دل بھر آیا۔ وہ بیڈ پر چت لیٹا ہوا تھا۔

اس کی ٹانگ پر سفید پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے پر درد اور تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔ وہ اس کے نزدیک کرسی پر بیٹھ گئی۔ تقریباً 2 گھنٹے بعد حیدر کو ہوش آگیا۔ اس کی پہلی نظر ماہم پر پڑی۔ نیم وا آنکھوں سے وہ اس کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس نے اپنے سسر اور ساس کے چہروں پر اپنے لیے پریشانی کو محسوس کیا۔

’تم اپنے آپ کو اکیلا مت سمجھنا۔‘ انکل نے اس کاہاتھ تھپتھپایا۔

2 دن بعد وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھر آگیا۔

گھر آکر حیدر کو اپنی بے چارگی، بے بسی اور بے کسی کا شدت سے احسا س ہوا۔

مکمل جسمانی اور ذہنی صحت رکھنے والے شخص کو ایک معذور انسان کی پریشانی اور تکلیف کا صرف اس وقت احساس ہوتا ہے جب خود اس کا اپنا کوئی عضو بے جان ہوجاتا ہے۔ وہ تمام ذاتی کام جنہیں صحت مند شخص خود سے انجام دیتا ہے Disable Person کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوتے ہیں۔ حیدر کو اس صورتحال کا اس وقت اندازہ ہوا جب اسے خود واش روم جانا، کپڑے بدلنا، فرج سے پانی نکال کر پینا، شیلف سے کتاب پکڑنا وغیرہ بے حد مشکل اور ناممکن دکھائی دیا۔ ماہم کے والد نےاس کے ذاتی کاموں کے لیے ایک میل نرس کا بندو بست کردیا جو اسے روزانہ 6 سے 7 گھنٹوں کے لیے اٹینڈنٹ کرتا۔

اب وہ مکمل طور پر ماہم اور اس کے والدین کے رحم و کر م پر تھا۔ ایک دن ناشتہ کرنے کے بعد وہ ایک گھنٹے تک اخبار پڑھتا رہا پھر اس نے ریموٹ سے ٹی وی لگا لیا۔ تقریباً 2 گھنٹے تک وہ مختلف چینلز گھماتا رہا پھر ٹی وی بند کردیا۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ کسی سے باتیں کرے۔ کسی سے اپنی تنہائی کو شئیر کرے۔

’کیا ماہم کو آواز دوں؟‘ گھڑی کی ٹِک ٹِک کی آواز اسے بہت بری لگ رہی تھی۔

’وقت ٹھہر کیوں گیا ہے؟ یہ جلدی سے کیوں نہیں گزر جاتا۔‘ وہ سوچنے لگا۔

کمرے کا دروازہ کھلنے پر وہ چونکا۔ ماہم خالہ جی کے ہمراہ کمرے میں داخل ہورہی تھی۔

’ٹرے آپ یہیں رکھ دیں۔ خالہ جی آپ سبزی بنانا شروع کریں۔ میں ابھی آتی ہوں۔‘ ماہم نے سائیڈ ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔

’آپ نے ناشتہ ٹھیک طرح نہیں کیا تھا۔ اب سوپ ضرور پینا ہے۔‘ ماہم نے گرم گرم سوپ کا پیالہ اٹھایا۔

’ابھی دل نہیں چاہ رہا۔ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ۔‘ حیدر کے چہرے پر یاسیت چھائی ہوئی تھی۔

’حیدر! بچوں کی طرح ضد نہیں کرتے۔‘ ماہم اس کے نزدیک بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ حیدر نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ ماہم کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔

’میں کچن میں ہوں۔ جب آپ نے سوپ پینا ہو تو مجھے آواز دے دینا۔‘ ماہم کمرے سے نکلتے ہوئے کہا۔

حیدر یکدم لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔

ٹیلی فون کی بیل بجنے پر اس نے آنکھیں کھولیں۔ فون سننے کے لیے وہ بیڈ سے اٹھنے لگا لیکن درد کی شدت سے اس کے منہ سے آہ نکلی۔ وہ اپنی ٹانگ کو بالکل بھی حرکت نہیں دے سکتا تھا۔ اسے اپنا وجود بے جان لگنے لگا۔ صوفے کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر موجود فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی۔ کمرے کا دروازہ بند تھا۔ وہ بے بسی سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔

’خالہ جی! ماہم! خالہ جی! ماہم!‘ وہ چیخ چیخ کر دونوں کو پکار رہا تھا۔ دو سے تین منٹ تک فون کی بیل بجتی رہی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ وہ دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا۔ تھکن اس کے حواس پر چھانے لگی۔

’کم از کم دروازہ تو کھلا رہنے دیا ہوتا۔ نجانے کس کا فون تھا اور مجھے بے حد پیاس بھی لگ رہی تھی۔‘ ماہم کو اس کے لہجے میں جھنجھلاہٹ اور کر ب محسو س ہوا۔

’سوپ دوبارہ گرم کردوں؟‘ ماہم نے پوچھا۔

’میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ مجھے ٹیبلٹ اور پانی دے دو۔‘

’پلیز! تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھ جاؤ۔‘ ماہم اٹھ کرجانے لگی تو حیدر نے ملتجی انداز میں کہا۔

ماہم بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اپنا ہاتھ حیدر کے ماتھے پر رکھا اور آہستگی سے اس کا سر دبانے لگی۔ حیدر کا دل چاہا کہ وہ اس کا ہاتھ جھٹک دے لیکن ماہم کا لمس اسے سکون دے رہا تھا۔

اگلے دن حیدر کے سرہانے اس کی پسندیدہ کتاب دھری تھی۔ سائیڈ ٹیبل پر فون، پانی کی بوتل اور ٹی وی کا ریموٹ بھی موجو د تھا۔

15 دن بعد حیدر کی ٹانگ کا پلستر اتر گیا لیکن ابھی بھی اسے چلنے میں بے حد دقت ہو رہی تھی۔

’آپ اسٹک کے سہارے چل سکتے ہیں لیکن اس میں احتیاط کی بے حد ضرورت ہے۔‘ ڈاکٹر نے اسے مشورہ دیا۔

اسٹک کی ٹک ٹک کی آواز سن کر حیدر کو بے اختیار ماہم کے گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے پیدا ہونے والا سر درد یاد آگیا۔

’شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ میرے لیے وارننگ تھی۔ میں معمولی سے معمولی کام کے لیے بھی ماہم کی مدد کا منتظر رہتا ہوں اور میں نے آ ج تک یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ماہم کو میری کتنی ضرورت پڑتی ہے؟‘ دل ہی دل میں یہ سب سوچتے ہوئے اسے ندامت نے آن گھیرا۔

وہ اپنی اور ماہم کی زندگی کو نئے زاویے سے دیکھ رہا تھا۔ تقریباً ایک ماہ کے مکمل بیڈ ریسٹ کے بعد وہ اس قابل ہوگیا کہ آفس جوائن کرے۔

کچن سے کسی چیز کے گرنے کی آواز سن کر حیدر نے ٹی وی کی آواز آہستہ کردی۔ ’کیا ٹوٹا؟‘ ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ ماہم کی چیخ اسے سنائی دی۔ وہ کچن کی طرف لپکا۔ شیشے کے جگ کرچیاں زمین پر بکھری پڑی تھیں۔ ماہم کا ہاتھ خون سے تر بتر تھا۔

وہ تیزی سے کمرے کی طرف دوڑا اور فرسٹ ایڈ باکس اٹھا لیا۔ کانچ سے اس کی انگلی کٹ گئی تھی۔ وہ انگلی کی بینڈج کرنے لگا۔

’کیا بہت درد ہورہا ہے؟‘ اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر حیدر نے پوچھا۔

ماہم نے اثبات میں سر ہلایا۔

’کمرے میں چلو۔‘ اس کا ہاتھ ابھی بھی حیدر کے ہاتھ میں تھا۔ تمہیں کیا مصیبت پڑی تھی کرچیاں کوئی بھی سمیٹ لیتا۔‘ بیڈ پر اسے بٹھاتے ہوئے حیدر بڑ بڑایا۔

’کانچ کی کرچیاں تو کوئی بھی سمیٹ لیتا مگر جو لوگ ٹوٹے اوربکھرے ہوئے ہوتے ہیں انہیں کون سمیٹے گا۔‘ ماہم نے سوچا۔

رات کے پچھلے پہر سسکیوں کی آواز سے حیدر کی آنکھ کھل گئی۔ ’لگتا ہے اْس کو ابھی بھی درد محسوس ہورہا ہے۔‘ اس نے اندازہ لگایا۔

ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا کہ بیڈ کے دوسرے کنارے پر موجود ماہم کو دلاسا دے۔

’عورت جادوگرنی کی طرح ہوتی ہے۔ مرد ایک دفعہ اس کے سحر میں گرفتار ہوجائے تو ساری عمر اس کے سحر سے باہر نکل سکتا۔ کیا میں بھی ماہم کے سحر میں گرفتار ہو رہا ہوں۔‘ حیدر اس قسم کی سوچوں میں متغرق تھا۔

ماہم کی سسکیاں دم توڑ رہی تھیں۔

’شاید سوچکی ہے۔‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔

’اگر ماہم اپاہج نہ ہوتی تو یقیناً میرے دل کی ملکہ ہوتی۔ وہ بھی تو ایک انسان ہے، ایک جیتا جاگتا وجود، اس کے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے، اسے بھی تو چاہے جانے کی آرزو ہوگی کہ میں اسے دیکھوں اور سراہوں۔ کیا وہ اپنی تمام باتیں، چاہتیں اور مسکراہٹیں میرے ساتھ شئیر نہیں کرنا چاہتی ہوگی؟‘ وہ اپنی ذات کے دائرے سے باہر نکل رہا تھا۔

پتھریلی زمین پر ماہم گول گول گھوم رہی ہے، اس کے ٹانگیں اور پیر محو رقص ہیں۔ ہوا میں تیزی آرہی تھی، پتوں کی سرسراہٹ بڑھ رہی تھی، لمحہ لمحہ گھومنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے، دھیرے دھیرے اس کی رفتار میں کمی آنا شروع ہ جاتی ہے۔ اس کے پاؤں مسلسل گھومنے سے درد کرتے ہیں، اس کی ٹانگیں تھک جاتی ہیں، خوف سے یا تھکن سے۔ لیکن وہ رکتی نہیں ہے، چٹانی زمین پر اب وہ گر رہی ہے۔ اس کے حلق سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ وہ رو رہی ہے، بے تحاشا، بے حساب۔ پھر دو ہاتھ آگے بڑھتے ہیں، اسے تھامنے کے لیے، اس نے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو تھامنا چاہا۔مگر فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ڈوربیل کی آواز سے ماہم کی آنکھ کھل گئی۔ ’اوہ میرے اللہ! کیا یہ خواب تھا۔ اسے پھر بیل کی آواز سنائی دی۔ وہ جلدی سے اٹھی۔

’لگتا ہے حیدر آگئے ہیں۔‘ حیدر آفس کے کام سے 3 دن کے لیے کراچی گیا ہوا تھا۔ اس نے گیٹ کھولا۔

’میرا خیال ہے تم گہری نیند میں تھی۔ ٹرین لیٹ ہوگئی تھی اس لیے دیر ہوگئی۔‘ اس کی نیند سے بو جھل آنکھوں کو دیکھ کر حیدر نے وضاحت کی۔ وہ اپنا بیگ اٹھا کر کمرے میں چلا گیا۔

وہ صحن میں کھڑے چاند کو تکنے لگی۔ چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے آسمان پر چمک رہا تھا۔

’شاید تمہاری اور میری قسمت ایک جیسی ہے، تم آسمان پر تنہا ہو اورمیں زمین پر۔‘ اس نے بے دلی سے سوچا۔

’ماہم!‘ حیدر نے اسے پکارا۔

’یقیناً انہیں بھوک لگی ہوگی۔‘ اس نے سوچا اور بیڈ روم میں داخل ہوئی۔

’آپ کے لیے دودھ لاؤں یا کھانا۔‘ لفظ اس کے ہونٹون پر آکر بکھر گئے۔ حیدر نے یکدم اس کا ہاتھ تھاما اور اپنی طرف کھینچ لیا۔

’کیا میں ابھی بھی خواب دیکھ رہی ہوں؟کیا یہ میرا وہم ہے۔‘ ماہم نے سوچا۔

’میں تمہاری موجودگی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔‘ حیدر کی آواز جذبات سے بھاری ہورہی تھی۔

’میں نے ہزار راستے بدل کر دیکھے مگر میرا ہر راستہ صرف تمہاری طرف پلٹ کر آیا۔‘ اس نے ماہم کے چہرے پر بکھرے بالوں کو سمیٹا۔

’مرد کو عورت سے کیا چاہیے؟ سکون۔ مکمل سکون، اور تم نے مجھے سکون دیا۔ تمہیں معلوم ہے تم میرے لیے کیا ہو۔ میری سب سے قیمتی ہستی۔ میری چاندنی۔‘ وہ اس کے بالوں میں افشاں سجا رہا تھا۔

’تمہارے وجود میں اللہ نے ایک کمی رکھی ہے مگر تم اس کمی کی وجہ سے کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئیں اور اللہ نے تمہیں وہ ہر خوبی عطا کی جو میں اپنے شریک حیات میں چاہتا تھا۔‘ وہ اس کی آنکھوں میں محبت کے دیپ جلا رہا تھا۔

’کچھ آنسو میرے بھی بچا کر رکھو۔‘‘وہ اس کی بھیگی پلکوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھو رہا تھا۔

’یوں لگتا ہے جیسے تمہاری ذات ایک نکتہ ہے، معمولی سے اس نکتے سے مختلف سمتوں میں کئی لکیریں کھینچی جاسکتی ہیں۔ میری ذات ایسی ہی کسی لکیر کی مانند ہے جو شاید تمہاری ذات کے نکتے سے ملتی ہے۔‘ وہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر رہا تھا۔

ماہم نے اپنا سر حیدر کے کندھوں پر ٹکا دیا، اس کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔ اس کے ادھورے وجود کو حیدر نے مکمل کردیا تھا۔ اس نے پرسکون ہو کر اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اس ایمان کے ساتھ کہ اپاہج انسان کی محبت اپاہج نہیں ہوتی۔