پاکستان کا سیکیورٹی کونسل سے مسئلہ کشمیر پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 14 اگست 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی نے خط دیگر ممالک کو ارسال کرنے کی بھی مطالبہ کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
شاہ محمود قریشی نے خط دیگر ممالک کو ارسال کرنے کی بھی مطالبہ کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے بعد اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (یو این ایس سی) کو جنوبی ایشیا کے امن کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے ہنگامہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کونسل کے اس اجلاس کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات کی جائے گی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر کو خط لکھا ہے جس میں ان سے کونسل کے ہنگامی اجلاس منتعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اقدام پر بات کی جائے گی جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا امریکا سے ڈو مور کا مطالبہ

شاہ محمود قریشی نے پولینڈ کے اپنے ہم منصب جیک کزاپٹووچ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی کشمیر کے مسئلے پر اجلاس بلانے کے لیے بات چیت کریں۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دو ممالک کے درمیان جاری مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے جبکہ یورپی یونین نے بھی ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ بطور یو این ایس سی سربراہ، پولینڈ تمام پیشرفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے جبکہ اپنے شراکت داروں سے رابطے میں بھی ہے۔

بعد ازاں امریکا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیک کزاپٹووچ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خط پر جلد مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت تحمل کا مظاہرہ کریں، یو اے ای

خیال رہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 11 قراردادیں موجود ہیں جن میں سے 3 قراردادیں مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت سے متعلق ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط کو سیکیورٹی کونسل کے دیگر رکن ممالک کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اقوام متحدہ کے اجلاس طلبی سے متعلق قواعد کے مطابق آرٹیکل 35 یا آرٹیکل 11(3) کے تحت کوئی مسئلہ سیکیورٹی کونسل کے صدر کے علم میں لانے یا جنرل اسمبلی کی جانب سے آرٹیکل 11 (2) کے تحت کسی مسئلے پر سفارشات دینے یا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے کونسل کو آرٹیل 99 کے تحت متوجہ کرنے کے بعد سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔

ادھر پاکستان نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر کو آرٹیکل 35 کے تحت خط لکھا ہے جو ایسی صورت سے متعلق ہے جس کی وجہ سے کوئی تنازع جنم لے سکتا ہے یا خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: 'ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے'

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے شاہ محمود قریشی دنیا کو پاکستان کے بیانیے سے آگاہ کرنے میں متحرک نظر آرہے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے چین کا ہنگامی دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے چینی قیادت سے اقوام متحدہ جانے کے پاکستانی منصوبے پر بات چیت کی تھی۔

چینی وزیر خارجہ وانگ زی نے شاہ محمود قریشی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔