ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

ای میل

شاہد خاقان عباسی کو 16 جولائی کو نیب نے گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان
شاہد خاقان عباسی کو 16 جولائی کو نیب نے گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا۔

عدالت میں جج نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ مزید کتنا ریمانڈ چاہیے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ 14 روز کا ریمانڈ مزید چاہیے۔

جج نے شاہد خاقان عباسی سے دریافت کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ جتنا ریمانڈ مانگتے ہیں آپ دے دیں، مجھے ریمانڈ کی توسیع پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی کے ریمانڈ میں 15 اگست تک توسیع

بعدازاں جج محمد بشیر نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ 14 روز کا ریمانڈ دے دیتا ہوں، تفتیش مکمل کرنے کی کوشش کریں اور شاہد خاقان عباسی کو 29 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

کمرہ عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، مصدق ملک اوردیگر رہنماؤں سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔

پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نیب کو ایل این جی کیس سمجھادیا ہے؟جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ سمجھارہے ہیں ابھی وقت لگے گا مزید 2 ہفتے مل گئے ہیں۔

ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں مزید 14 روز میں سمجھ آجائے گی تو ان کا جواب تھا کہ کوشش کریں گے یہ تعلیم بالغان کا کورس ہے۔

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کر کے 13 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا تھا۔

پہلے ریمانڈ کی مدت کے اختتام پر یکم اگست کو انہیں دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں احتساب عدالت نے ان کے ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کردی گئی تھی جس کی مدت آج اختتام پذیر ہونے کے بعد آج انہیں ایک مرتبہ پھر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

نیب نے 16 جولائی کو سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو تفتیش کے لیے طلب کر رکھا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھےجس پر ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، اس سے قبل نیب نے انہیں 8 مرتبہ طلبی کے نوٹس جاری کیے جس میں سے وہ 5 نوٹسز پر تفتیش کے لیے پیش ہوئے۔

شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں وزیر پیٹرولیم تھے جبکہ پاناما کیس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد انہیں وزیراعظم بنادیا گیا تھا۔

ایل این جی کیس

یاد رہے کہ نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سوئی سدرن کیس کمپنی لمیٹٰڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کی انتظامیہ نے غیر شفاف طریقے سے ایم/ایس اینگرو کو کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کا کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ایس ایس جی سی ایل نے اینگرو کی ایک ذیلی کمپنی کو روزانہ کی مقررہ قیمت پر ایل این جی کی ریگیسفائینگ کے 15 ٹھیکے تفویض کیے تھے۔

نہ صرف شاہد خاقان عباسی بلکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پر بھی اپنی مرضی کی 15 مختلف کمپنیوں کو ایل این جی ٹرمنل کا ٹھیکا دے کر اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی گرفتار

2016 میں مسلم لیگ (ن) کی دورِ حکومت میں نیب کراچی میں منعقدہ ریجنل بورڈ کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف انکوائری بند کردی تھی۔

رواں برس 2 جنوری کو ای بی ایم نے اس وقت شاہد خاقان عباسی کے خلاف 2 انکوائریز کی منظوری دی تھی، جب وہ سابق وزیر پیٹرولیم اور قدرتی وسائل تھے، ان انکوائریز میں سے ایک ایل این جی کی درآمدات میں بے ضابطگیوں میں ان کی مبینہ شمولیت جبکہ دوسری نعیم الدین خان کو بینک آف پنجاب کا صدر مقرر کرنے سے متعلق تھی۔

تاہم شاہد خاقان عباسی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایل این کی درآمد کے لیے دیے گئے ٹھیکے میں کوئی بے ضابطگی نہیں کی اور وہ ہر فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرسکتے ہیں اور یہ کہ 2013 میں ایل این جی برآمد وقت کی اہم ضرورت تھی۔

مزید پڑھیں:ایل این جی کے ’غیر شفاف‘ ٹھیکوں پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ

مارچ میں سابق وزیر اعظم ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے، جس کے بعد احتساب کے ادارے نے ان پر سفری پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔

جس کے بعد رواں برس اپریل میں حکومت نے36 ارب 69 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت 5 افراد کے بیرونِ ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

سابق وزیراعظم گزشتہ ماہ (جون ) میں بھی تفتیش کے لیے نیب میں پیش ہوئے تھے جس کے بعد نیب نے شاہد خاقان عباسی کو ان کے خلاف جاری تفتیش کے پیشِ نظر بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔

تاہم شاہد خاقان عباسی نے نیب کی جانب سے مزید ریکارڈ طلب کیے جانے پر مہلت طلب کی تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ متعلقہ ریکارڈ ان کے پاس نہیں بلکہ وزارت پیٹرولیم کے پاس ہے۔