آرٹیکل 370 کا خاتمہ: عرب ممالک، بھارت سے تجارتی مفادات کے باعث خاموش

اپ ڈیٹ اگست 15 2019

ای میل

کویت، قطر، بحرین اور عمان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا — فائل فوٹو: اے پی
کویت، قطر، بحرین اور عمان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا — فائل فوٹو: اے پی

بھارت سے تجارتی مفادات کے باعث اکثر خلیجی ممالک، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی اقدام پر خاموش ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ’ اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت سے سالانہ 100 ارب ڈالر کی تجارت کے باعث خلیجی ممالک اس معاملے پر چپ سادھے ہوئے ہیں، کیونکہ بھارت خلیج نما عرب کا سب سے اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا جبکہ خطے میں بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن دیگر خلیجی ممالک کویت، قطر، بحرین اور عمان کی جانب سے اس تمام معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے معاملے کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق سعودی عرب کا ردعمل، بھارت اور پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے کافی پیچیدہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حالیہ چند دنوں میں سعودی عرب اور بحرین کے رہنماؤں سے بھارتی اقدام سے متعلق بات چیت کی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اگر وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ معاملہ لے کرجاتے ہیں تو انہیں عرب کی حمایت حاصل ہوگی یا نہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق سعودی عرب کے مختصر بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب موجودہ صورتحال پرغور کررہا ہے اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق پُرامن حل کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں 70 لاکھ سے زائد بھارتی تارکین وطن موجود ہیں، جو خطے کی معیشت میں ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، ڈرائیورز، کنسٹرکشن ورکرز اور دیگر مزدوروں کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھی بھارت سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور ہر 3 اماراتی میں سے ایک شخص بھارتی ہے۔

بھارت اور یو اے ای کے درمیان دو طرفہ تجارت گزشتہ برس 50 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی، جس کے بعد بھارت متحدہ عرب امارات کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا تھا۔

بھارت کے وزیر خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں بھارتی سرمایہ کاری 55 ارب ڈالر ہے اور دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں بھارتی شہری سب سے بڑے غیر ملکی سرمایہ کار ہیں۔

علاوہ ازیں دبئی کے گلوبل پورٹ آپریٹر ڈی پی ورلڈ مقبوضہ کشمیر میں لاجسٹکس حب کے قیام کا ارادہ رکھتا ہے۔

ادھر بھارت میں اماراتی سفیر احمد البنا نے کہا تھا کہ کشمیر میں کی گئی تبدیلیوں سے انصاف، سیکیورٹی میں بہتری آئے گی، جس سے امن و استحکام پیدا ہوگا۔

تاہم نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے سے مقبوضہ کشمیر میں موجود مسلمانوں پر مذہبی دباؤ پیدا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اظہارِ تشویش

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے کشمیری ملازمتوں کے حصول، اسکالرشپ اور ملکیت کا حق کھودیں گے۔

بھارتی حکومت کے ناقدین کے مطابق اس اقدام سے مقبوضہ کشمیر کے غیر رہائشی بھارتی شہری مستقل رہائش قائم کرسکیں گے، جو کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں خلیج-بھارت تعلقات کے ماہر حسن الحسن نے کہا کہ کشمیر میں موجود مذہبی دباؤ سعودی عرب، ایران اور ترکی کے درمیان مقابلے کی ایک اور وجہ بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ترک کشمیر میں اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایرانی، کشمیر میں اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو مجھے شک ہے کہ سعودی عرب، مسلم دنیا کی قیادت کے طور پر اس علامتی مقابلے میں ترکوں اور ایرانیوں سے زیادہ اثر قائم کرنا چاہے گا‘۔

خیال رہے کہ ترکی اور بھارت کی سالانہ دو طرفہ تجارت 7 ارب ڈالر سے کم ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستانی وزیراعظم خان سے ٹیلیفونک گفتگو میں کشمیریوں کے خود ارادیت پر زور دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کیا دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان

گزشتہ ہفتے ایران نے تہران میں واقع بھارتی سفارت خانے کے باہر 60 کے قریب طلبا کو مظاہرے کی اجازت دی تھی اور ایک سینئر مذہبی رہنما نے کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کو ’ ایک غلط عمل‘ قرار دیا تھا۔

تاہم ایرانی صدر اور وزارت خارجہ نے اس حوالے سے جاری بیانات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات اور امن کا مطالبہ کیا۔

یہ ردعمل امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی تیل کی خریداری روکنے کے بھارتی فیصلے کے بعد دیا گیا۔

بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں 27 لاکھ بھارتی شہری موجود ہیں اور عراق کے بعد سعودی عرب، بھارت کو تیل فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

گزشتہ برس دوطرفہ تجارت کے تحت سعودی عرب نے بھارت کو 27 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات برآمد کی تھیں۔

تاہم 12 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے آٹھویں روز بھارت نے ملک میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا کہ بھارت کے ریلائنس آئل اور کیمیائی کاروباری افراد سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی ارامکو سے 15 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدیں گے۔

علاوہ ازیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2021 تک بھارت میں 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

لیفایٹ کالج میں جنوبی ایشیائی تاریخ کی کشمیری نژاد امریکی اسسٹنٹ پروفیسر حفصہ کنجوال نے کہا کہ ’خلیجی عرب ممالک کشمیریوں کے حقوق کی حمایت میں ہوشیار ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کی اپنی آزادی کے لیے ان کے حق پر مرکوز ہے‘۔

خیال رہے کہ بحرین میں 11 اگست کو عیدالاضحیٰ کی نماز کی ادائیگی کے بعد بھارت مخالف اور کشمیر کے حق میں مظاہرے کرنے والے جنوبی ایشیائی رہائشیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

حفصہ کنجول نے کہا کہ ’ کشمیر، خود ارادیت، لوگوں کے حقوق اور جمہوریت کے لیے تحاریک سے منسلک ہے لیکن خلیجی ممالک اور اسرائیل اس کے کافی حد تک خلاف اور محتاط ہیں‘۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق صدارتی فرمان جاری کیا تھا۔