روی شاستری بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا عہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب

اپ ڈیٹ 16 اگست 2019

ای میل

روی شاستری کے کوچ کے عہدے پر برقرار رہنے میں کپتان ویرات کوہلی کی رائے نے اہم کردار ادا کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
روی شاستری کے کوچ کے عہدے پر برقرار رہنے میں کپتان ویرات کوہلی کی رائے نے اہم کردار ادا کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی آئی) نے روی شاستری کو بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے پر برقرار رکھا ہے اور وہ 2021 کے ٹی20 ورلڈ کپ تک بھارتی ٹیم کے کوچ رہیں گے۔

بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے کے لیے چھ امیدوار سامنے آئے تھے جن میں روری شاستری کے ساتھ ساتھ فل سمنز، مائیک ہیسن ، لال چند راجپوت، روبن سنگھ اور ٹام موڈی شامل تھے۔

کپیل دیو، انشومن گائیکواڈ اور شنتا دنگا سوامی پر مشتمل بی سی سی آئی کی کرکٹ ایڈوائزری کمیٹی نے جمعہ کو 5 امیدواروں کے انٹرویو کیے جبکہ چھٹے امیدوار فل سمنز پہلے ہی دستبردار ہو گئے تھے۔

ان انٹرویوز میں پانچوں امیدواروں کو پانچ شعبوں کے حساب سے ریٹنگ کی گئی جس میں کوچنگ کے فلسفے، تجربہ، کامیابیاں، روابط اور جدید کوچنگ کے آلات جیسے اجزا شامل تھے۔

ایڈوائزری کمیٹی نے متفقہ طور پر روی شاستری کو ہیڈ کوچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس دوڑ میں مائیک ہیسن اور ٹام موڈی بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

ورلڈ کپ کے اختتام پر روی شاستری سمیت بقیہ کوچنگ اسٹاف کا معاہدہ ختم ہو گیا تھا لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نے دورہ ویسٹ انڈیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے معاہدے میں 45دن کی توسیع کردی تھی۔

شاستری کے اس عہدے پر برقرار رہنے میں کپتان ویرات کوہلی کی رائے کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے جنہوں نے سب کے سامنے کہا تھا کہ اگر روی شاستری کوچنگ جاری رکھنا چاہیں تو وہ بحیثیت ہیڈ کوچ انہیں ہی ترجیح دیں گے۔

انیل کمبلے کے بعد 2017 میں بھارتی ٹیم کی کوچنگ سنبھالنے والے روی شاستری کے دور میں بھارتی ٹیم کی کارکردگی انتہائی عمدہ رہی اور وہ ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک ٹیم رہنے کے ساتھ ساتھ ون ڈے اور ٹی20 میں دوسری بہترین ٹیم رہی۔

اس دوران بھارت نے ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین کھیل پیش کیا اور پہلی مرتبہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ میں بھی فتوحات حاصل کیں۔

ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم گروپ اسٹیج میں ٹاپ کیا اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اسے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔