'بھارت نے پاکستان کو دبے الفاظ میں دھمکی دی ہے'

اپ ڈیٹ 19 اگست 2019

ای میل

بھارتی وزیر دفاع رجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ملک کے جوہری ہتھیار کے استعمال سے انکار کی پالیسی اب حالات پر منحصر ہے — فائل فوٹو/آئی این پی
بھارتی وزیر دفاع رجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ملک کے جوہری ہتھیار کے استعمال سے انکار کی پالیسی اب حالات پر منحصر ہے — فائل فوٹو/آئی این پی

نیو یارک کے ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ کے فرانز اسٹیفن گیڈی نے بھارت کی جوہری پالیسی میں حالیہ تبدیلی کے بیان پر سوال کیا کہ کیا یہ پہلی مرتبہ 'استعمال سے انکار' کے بجائے اب 'استعمال' میں تبدیل ہوگئی ہے؟

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانوی آن لائن اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے نشاندہی کی کہ بھارت کے دفاعی وزیر نے ملک کے جوہری ہتھیار کے حوالے سے، پہلی مرتبہ استعمال سے انکار کا وعدہ اب حالات پر منحصر ہونے، کا بیان دے کر پاکستان کو دبے الفاظ میں دھمکی دے دی ہے۔

16 اگست کو بھارتی وزیر دفاع رجناتھ سنگھ نے پوخران میں بھارت کی جوہری ٹیسٹ سائٹ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ 'بھارت جوہری ہتھیار کے پہلے استعمال سے انکار کی پالیسی پر عمل پیرا تھا لیکن مستقبل میں کیا ہوگا یہ صورتحال پر منحصر ہے'۔

مزید پڑھیں: ’انتہا پسند مودی کے ہاتھوں میں جوہری ہتھیار ہیں، جن کی سیکیورٹی پر غور ہونا چاہیے‘

نیوز ویب سائٹ دی ڈپلومیٹ پر شائع آرٹیکل میں صحافی انکیت پانڈا نے کہا کہ 'بین الاقوامی میڈیا اور اسکالرز نے ان کے بیان کو بھارت کی جوہری پالیسی میں تبدیلی قرار دیتے ہوئے اسے ناقابل تلافی غلطی قرار دیا'۔

دی انڈیپنڈنٹ کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر سامنے آئی جو نئی دہلی کے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے بعد دیکھی گئی تھی۔

میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے 'سیکیورٹی اسٹڈیز' کے پروفیسر وپن نارنگ نے اس بیان کو پالیسی کی جگہ سیاسی بیان قرار دینے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'کوئی غلطی نہ کریں، یہ اب تک کے سب سے اعلیٰ سطح کی جانب سے دیا جانے والا بیان ہے جو وزیر دفاع کے خود منہ سے نکلا ہے اور اب بھارت ہمیشہ پہلی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کی پالیسی پر قائم نہیں رہے گا'۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے یہ سنا ہے کہ بھارت نے اپنے جوہری اصولوں کو تبدیل کرنے کے لیے کئی تبدیلیاں کی ہیں جس کی وجہ سے رجناتھ سنگھ کا بیان نہایت اہم ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کا مودی کو مقبوضہ کشمیر میں عوامی ریفرنڈم کا چیلنج

انہوں نے بھارتی نیوز ویب سائٹ دی وائر پر شائع ہونے والے آرٹیکل کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'اگر بھارت پہلی مرتبہ انکار سے تبدیل ہوگیا ہے تو اسے اپنے جوہری اسٹرکچر، خطرے کی سطح، تعیناتی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے انتظامات میں ضروری تبدیلیاں کرنی ہوں گی'۔

آرٹیکل میں نشاندہی کی گئی کہ اس طرح کی تبدیلی میں ڈلیوری نظام اور وارہیڈز میں اضافے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی انتہا پسند، ہندو بالادستی کی حامی مودی حکومت کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیار ہونے پر دنیا کو ان کی سلامتی اور حفاظت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

نیو یارک کی سرکاری یونیورسٹی البانی کے شعبہ پولیٹیکل سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹوفر کلاری اور وپن نارنگ نے دی ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں کہا کہ 'پہلی مرتبہ استعمال سے انکار کی جوہری پالیسی کا ابھی خاتمہ تو نہیں تاہم اس پر اعتماد کھو گیا ہے'۔

اس آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کرسٹوفر کلاری کا کہنا تھا کہ 'اس سے قبل 2010 میں بھارت کے سابق قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن نے جوہری ہتھیاروں کے پہلی مرتبہ استعمال سے انکار کی پالیسی سے انحراف کرنے کا بیان دیا تھا'۔

دی واشنگٹن پوسٹ کے سابق بھارتی نمائندے نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی کے رہنما منوہر پاریکر، جن کا انتقال مارچ میں ہوا، نے پہلی مرتبہ بھارت کی جوہری پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے 2017 میں ٹھنک ٹینکس اور اسکالرز سے اس بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا تھا'۔

چند ٹوئٹر صارفین نے انڈیا ٹوڈے کا آرٹیکل بھی شیئر کیا جس میں لکھا تھا کہ 'مودی کی ٹیم کا نیوکلیئر بم، حکومت نے بھارت کی بنائی گئی پہلی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کردی'۔