جعلی اکاؤنٹس کیس: یو اے ای کی کاروباری شخصیت وعدہ معاف گواہ بن گئی

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

نیب نئے شواہد کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
نیب نئے شواہد کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: جعلی اکاونٹ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر احتساب عدالت نے پاکستان میں ایک نجی بینک کے مالک ناصر عبداللہ لوتاہ کے وارنٹ گرفتاری واپس لے لیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہری اور اعلیٰ کاروباری شخصیت ناصر عبداللہ لوتاہ، فریال تالپور، اومنی گروپ کے چیئرمین عبدالغنی مجید اور دیگر ملزمان کے ساتھ جعلی اکاؤنٹ کیس میں نامزد تھے۔

وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے قبل عدالت نے انہیں آصف زرداری کے خلاف کیس میں متعدد مرتبہ طلب کیا تھا جس کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں ناصر عبداللہ لوتاہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا کر جعلی اکاؤنٹ کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور، آصف زرداری کے ریمانڈ میں 5 ستمبر تک توسیع

نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے ناصر عبداللہ لوتاہ کی جانب سے کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست قبول کرلی ہے۔

چنانچہ جیسے ہی سماعت کے دوران عدالت نے کارروائی کا اشارہ دیا نیب نے ان کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کردیا۔

سماعت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے احتساب عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب نئے شواہد کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

جس پر وکیل دفاع سردار لطیف کھوسہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کیس کراچی کی بینکنگ عدالت سے منتقل ہوا ہے لہٰذا نیب ضمنی ریفرنس دائر نہیں کرسکتا۔

مفتاح اسمٰعیل کے ریمانڈ میں توسیع

دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر عمران الحق کے جسمانی ریمانڈ میں 11 روز کی توسیع کردی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے عدالت کو بتایا کہ نیب انہیں حراست میں رکھنے کے باجود باقاعدہ تفتیش نہیں کررہا۔

انہوں نے شکایت کی کہ انہیں ایک چھوٹے کمرے میں رکھا گیا ہے جبکہ نیب کے تفتیش کار ایک روز کے دوران 5 منٹ سے زیادہ دیر کے لیے نہیں آتے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس: مفتاح اسمٰعیل کا 11 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں صرف 30 منٹ کے لیے چہل قدمی کی اجازت ہے اور دن میں 23 گھنٹے انہیں سیل میں رکھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی استدعا مسترد ہونے کے بعد حراست میں لیا تھا۔