پاک-بھارت وزرائے اعظم سے بات چیت مثبت رہی، امریکی صدر

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

امریکی صدر کے مطابق کشمیر کے معاملے پر پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا اور یہ بات چیت مثبت رہی — فائل فوٹو/ہیرالڈ
امریکی صدر کے مطابق کشمیر کے معاملے پر پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا اور یہ بات چیت مثبت رہی — فائل فوٹو/ہیرالڈ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطوں کے بعد دونوں ممالک کی قیادت سے بات چیت کے عمل کو مثبت قرار دے دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'کشمیر کے معاملے پر پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم سے بات چیت مثبت رہی'۔

امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹ میں عمران خان اور نریندر مودی کو اپنا بہترین دوست قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے اچھے دوستوں سے بات چیت میں تجارت، اسٹریٹیجک شراکت داری اور سب سے بڑھ کر کشمیر میں کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'خطے میں صورت حال کشیدہ ہے مگر یہ بات چیت مثبت رہی'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگان گڈلے کی جانب سے ایک جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 'صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں امن کو برقرار رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے’۔

ٹرمپ اور مودی کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘دونوں رہنماؤں نے گفتگو کی کہ تجارت میں توسیع کے ذریعے امریکا اور بھارت کے معاشی تعلقات کو کیسے آگے بڑھایا جائے گا’۔

ترجمان نے کہا کہ ‘دونوں ممالک کے رہنما جلد ہی دوبارہ ملاقات کے لیے بھی پرعزم ہیں’۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک مرتبہ پھر رابطہ ہوا، جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا اور ہمیں امید ہے کہ امریکا اس موجودہ کشیدگی اور تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم عمران خان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے 16 اگست کو بھی گفتگو ہوئی تھی، جس میں وزیراعظم نے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا تھا، اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر نریندر مودی سے بات کریں گے اور آج ٹرمپ اور مودی کی خطے میں کشیدگی کم کرنے پر گفتگو ہوئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں دوبارہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے اور خطے میں امن کو ہرصورت برقرار رہنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کا موقف وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جبکہ بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے خطے کی صورتحال کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ نریندر مودی نے انہیں کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے کہا تھا اور وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ‘دو ہفتے قبل میری وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ کیا آپ مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے پوچھا کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے’۔

وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی سے متعلق بیان کا خیرمقدم کیا تھا لیکن بھارت نے اسے امریکی صدر کی غلط فہمی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور اس غیر آئینی اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ اس دوران تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے تھے جو اب تک بند ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اس غیر قانونی اقدام پر شدید مذمت اور احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ عالمی برادری کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی متحرک نظر آرہے ہیں۔

بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا جس کے میڈیا بریفنگ میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا تھا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں جس کی ایک اہم وجہ مسئلہ کشمیر بھی ہے، سالوں سے جاری اس حل طلب مسئلے پر پاکستان کا موقف بہت واضح کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرار دادوں کے ذریعے حل ہونا چاہیے جبکہ بھارت اس مسئلے میں تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا ہے۔