ایران میں قید برطانوی خاتون کی رہائی کیلئے اہلخانہ کا لندن سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

عصر امیری کے خلاف عدالتی کارروائی یکطرفہ تھی جس میں انہیں 10 برس کی سزا سنائی گئی،—فوٹو: بشکریہ دی گارجین
عصر امیری کے خلاف عدالتی کارروائی یکطرفہ تھی جس میں انہیں 10 برس کی سزا سنائی گئی،—فوٹو: بشکریہ دی گارجین

ایران میں جاسوسی کے الزام میں قید برطانوی خاتون کے اہلخانہ نے لندن حکومت پر زور دیا کہ زیر حراست عصر امیری کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق اہلخانہ نے الزام لگایا کہ عصر امیری کے خلاف مقدمے کی کارروائی یکطرفہ تھی، جس میں 10 برس کی سزا سنائی گئی۔

مزیدپڑھیں: ایران: برطانیہ کیلئے 'جاسوسی' کے الزام میں خاتون کو 10 سال قید

واضح رہے کہ برٹش کونسل کی 33 سالہ ملازمہ عصر امیری کو مئی میں جیل ہوئی تھی اور انہیں تہران میں اپنی بیمار دادی کی تیمارداری کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران کی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ عصر امیری کی سزا کے خلاف اپیل بھی مسترد کردی گئی ہے۔

کینیڈا میں عصر امیری کے کزن ڈاکٹر محسن امرانی نے بتایا کہ زیرحراست برٹش کونسل کی ملازمہ کے اہلخانہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر محسن امرانی نے بتایا کہ عصر امیری کی والدہ نے انہیں پیغام میں کہا کہ اپیل سے متعلق فیصلے کے وقت عصر امیری کا وکیل بھی موجود نہیں تھا۔

عصر امیری کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’ایران میں اہلخانہ کے قریبی افراد اور لندن میں ان کا منگیتر بازیابی کے لیے کوشش کررہے ہیں، تاہم کوئی امید نظر نہیں آرہی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایران: جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن کو 5 سال قید کی سزا

ان کا کہنا تھا کہ ’اہلخانہ کی جانب سے بعض اراکین پارلیمنٹ سے بھی بات کی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا‘۔

ڈاکٹر محسن کے مطابق اہلخانہ کو خدشہ ہے کہ امریکا، برطانیہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عصر امیری کو ’تبادلے‘ کے طور پر استعمال کیا جائےگا۔

واضح رہے کہ رواں برس مئی میں ایران کی عدالت نے برٹش کونسل کی ملازمہ کو برطانیہ کے لیے ‘جاسوسی’ کے الزام میں 10 برس کی قید سنادی تھی۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی خاتون کو جاسوسی کے جرم میں سزا دی گئی۔

میزان آن لائن نے عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ایک ایرانی خاتون برٹش کونسل میں ایرانی ڈیسک کی انچارج کے طور پر کام کر رہی تھیں اور وہ برطانوی خفیہ ایجنسیوں سے تعاون کر رہی تھیں’۔

مزید پڑھیں: ایران میں انسانی حقوق کی وکیل کو 38برس قید، 148کوڑوں کی سزا

ادھر برطانوی دفتر خارجہ و دولت مشترکہ دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ان رپورٹس پر شدید تشویش ہے کہ برٹش کونسل کی ایرانی ملازمہ کو جاسوسی کے الزام میں قید کی سزا دی گئی ہے’۔

خیال رہے کہ برٹش کونسل ایک ثقافتی اور تعلیمی ادارہ ہے، جس کی شاخیں دنیا بھر میں موجود ہیں جہاں انگریزی زبان کے علاوہ دیگر تعلیمی اور ثقافتی کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔

غلام حسین اسماعیلی نے برٹش کونسل کی سرگرمیوں کو ‘غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام نے برٹش کونسل کے دفتر کو ایک دہائی سے بھی زائد عرصہ قبل بند کردیا تھا۔

تاہم برٹش کونسل کا کہنا ہے کہ ‘ملازمین کی سلامتی اور تحفظ ہمارا پہلا مقصد ہے اور ہم دفتر خارجہ اور دولت مشترکہ کے دفتر سے قریبی رابطے میں ہیں، ہم غیر سیاسی ادارہ ہیں اور شہریوں کے شہریوں سے تعلق بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ ہمارا اسٹاف کسی قسم کی جاسوسی سے منسلک نہیں ہوتا’۔

مزیدپڑھیں: ایران: عوامی مقام پر اسکارف اتار کر لہرانے پر ایک سال قید کی سزا

خیال رہے کہ ایرانی عدالت کی جانب سے یہ سزا ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور برطانیہ کے تعلقات ایرانی نژاد برطانوی شہری کی والدہ کی گرفتاری پر پہلے ہی کشیدہ ہیں۔

ایرانی نژاد برطانوی شہری کی والدہ نازنین زغیری ریٹکلف کو ایرانی حکام نے 2016 میں اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ تہران سے باہر جارہی تھیں، جس کے بعد انہیں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا تھا، انہیں ایرانی حکومت گرانے کی سازش کے جرم میں سزا دی گئی اور اب وہ 5 سالہ قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔