مقبوضہ کشمیر میں 'فائرنگ کا تبادلہ'، نوجوان جاں بحق

اپ ڈیٹ 21 اگست 2019

ای میل

فائرنگ کے تبادلے میں پولیس افسر بھی ہلاک ہوا — فائل فوٹو: اے ایف پی
فائرنگ کے تبادلے میں پولیس افسر بھی ہلاک ہوا — فائل فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ ایک پولیس افسر ہلاک ہو گیا۔

بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور سیکیورٹی لاک ڈاؤن کے بعد شمالی ضلع بارہ مولا میں یہ جھڑپ کا پہلا واقعہ ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کشمیر پولیس کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ جاں بحق نوجوان کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق نوجوان بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزرو پولیس، پولیس اور خصوصی آپریشن گروپ کے مشترکہ آپریشن کے دوران جاں بحق ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کا اسی طرح کا آپریشن ضلع پلوامہ میں بھی جاری ہے جہاں سیکڑوں نوجوان بھارتی جبر کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور ان کی فوج سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 16واں روز، مظاہرے اور گرفتاریاں جاری

دوسری جانب بھارتی فوج نے سری نگر کے مختلف علاقوں سے مزید 40 افراد کو گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج کرفیو کا 17واں روز ہے اور اس عرصے میں 4 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مسلسل کرفیو کے باعث کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی ہیں اور قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں مواصلاتی روابط کے تمام ذرائع بھی بند کر رکھے ہیں اور مستقل ناکہ بندی کے باعث لوگ علاج کے لیے ہسپتال بھی نہیں جا پارہے۔