وزیراعظم عمران خان کا انسداد پولیو مہم کی سربراہی خود کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بلوچستان خصوصی طور پر شریک ہوئے— تصویر: حکومت پاکستان
وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بلوچستان خصوصی طور پر شریک ہوئے— تصویر: حکومت پاکستان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک میں پولیو کیسز میں غیر معمولی اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے بھرپور آگاہی پھیلانے اور ویکسینیشن کی موثر مہم چلانے کی ہدایت کی تاکہ اس بیماری پر قابو پایا جاسکے۔

اس کے ساتھ وزیراعظم نے نومبر سے انسداد پولیو پروگرام کی سربراہی خود کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا، انسداد پولیو پروگرام کے فوکل پرسن بابر بن عطا، پاک فوج کے انجینئرنگ ان چیف لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز اور ہائی کمشنر آف کینیڈا وینڈی گلمور کے ساتھ ساتھ وفاقی سیکریٹری صحت، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور بل اینڈ میلنڈا گیٹ فاؤنڈیشن کے نمائندوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو کیسز میں اضافہ، وزیراعظم نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس طلب کرلیا

اس ضمن میں وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بابر بن عطا نے اجلاس کے شرکا کو انسداد پولیو مہم کے حوالے سے حالیہ واقعات، اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی۔

خیبرپختونخوا میں پولیو کیسز کے سالانہ اعداد و شمار—فوٹو بشکریہ اینڈ پولیو پاکستان
خیبرپختونخوا میں پولیو کیسز کے سالانہ اعداد و شمار—فوٹو بشکریہ اینڈ پولیو پاکستان

اس کے علاوہ انہوں نے انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ کی رپورٹ برائے سال 18-2017 میں مہم کے طریقہ کار کے حوالے سے بیان کردہ خامیوں پر بھی بریف کیا جس کے باعث ملک کے کچھ علاقوں بالخصوص بنوں میں پولیو کیسز کی تعداد میں خاصہ اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ انہوں نے ذہن سازی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جس میں ویکسین مخالف پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا، مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے، دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے 7 روز کام کرنے والے کال سینٹر کے قیام اور ماحولیاتی اور انسانی کیسز کی تشہیر شامل ہے۔

مزید پڑھیں: مزید 4 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 41 ہوگئی

فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر پولیو مہم کے دوران عوام میں بداعتمادی دیکھی گئی جبکہ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ والدین نے اپنے بچوں کو ویکسینیشن سے بچانے کے لیے ان کی انگلیوں پر خود نشان لگا دیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیر اعظم سے ضلعی کونسلز کے لیے ایک حکم نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا کہ اگر والدین بچوں کو پولیو کی ویکسین دینے سے انکار کریں تو ان کے خلاف ایف آئی آر نہ درج کی جائے کیونکہ اس سے انکار کی شرح میں مزید اضافہ ہوتا ہے جس پر وزیر اعظم نے رضامندی کا اظہار کیا اور آئندہ چند روز میں حکم نامہ جاری ہو جائے گا۔

بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیرِ غور آیا کہ ضلعی کمشنرز صوبائی پولیو افسران کی بات نہیں سنتے، لہٰذا اب گریڈ 20 کے سرکاری افسر کو اس پوسٹ پر تعینات کیا جائے گا جو صوبائی پولیو چیف کہلائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو پروگرام کی کارکردگی کے اعداد و شمار تبدیل کیا گیا، ترجمان وزیر اعظم

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ ہوا کہ انسداد پولیو مہم اب 4 ستونوں پر کام کرے گی جس میں لوگوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں مہم میں شامل کیا جائے گا، حکومت بیماری کی روک تھام سے لے کر اس کے مکمل خاتمے تک اس پروگرام کی 100 فیصد اونر شپ لے گی اور اس کے 100 فیصد احتساب کی بھی یقین دہانی کروائی جائے گی۔