امان اللہ زارکزئی قتل کیس: سابق وزیراعلیٰ کی ضمانت از قبل گرفتاری منظور

25 اگست 2019

ای میل

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان پر قتل سے متعلق لگائے گئے الزامات کی تردید کردی — فوٹو: آئی این پی
سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان پر قتل سے متعلق لگائے گئے الزامات کی تردید کردی — فوٹو: آئی این پی

کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی، ان کا نام نواب امان اللہ زارکزائی کے قتل کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نواب امان اللہ زارکزائی پر ہونے والے حملے میں وہ اور ان کے پوتے کے علاوہ دیگر 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

جس کے بعد مقتول کی اہلیہ لال بی بی نے اپنے خاوند کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری، ان کے بھائی ایم پی اے نعمت اللہ زہری اور سابق وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی آغا شکیل احمد، جو ثنا اللہ زہری کے قریبی عزیز بھی ہیں، کو نامزد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ثنااللہ زہری نے بی این پی رہنما کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کردیا

گزشتہ روز ثنا اللہ زہری بلوچستان ہائی کورٹ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل دو رکنی ڈویژنل بینچ کے سامنے پیش ہوئے، جہاں بینج نے سابق وزیراعلیٰ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو منظور کیا اور ساتھ ہی انہیں 10 روز میں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا گیا۔

واضح رہے کہ سینئر وکیل شاہ محمد جتوئی، ثنا اللہ زہری کی درخواست لے کر عدالت میں پیش ہوئے تھے، جو ٹرائل کورٹ میں بھی ان کے مقدمے کی پیروی کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ ثنا اللہ زہر نے نواب امان اللہ زارکزئی کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اسے ان کے اور ان کے قبیلے کے خلاف ایک سازش قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: خضدار: بی این پی مینگل کے مرکزی رہنما قاتلانہ حملے میں جاں بحق

دو روز قبل بھی سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے ان پر لگائے جانے والے قتل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ نواب امان اللہ خان زرکزئی اور ان کے پوتے کے قتل میں ملوث نہیں۔

خیال رہے کہ 17 اگست کو بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں ایک قافلے پر حملے میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے مرکزی رہنما نواب امان اللہ خان زرکزئی 2 ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے تھے۔