خلا میں بیٹھ کر زمین پر کیے جانے والے جرم کی تحقیق کا منفرد کیس

اپ ڈیٹ 26 اگست 2019

ای میل

امریکی خلاباز خاتون کے خلاف تفتیش کا آغاز کردیا گیا—فوٹو: نیو یارک پوسٹ
امریکی خلاباز خاتون کے خلاف تفتیش کا آغاز کردیا گیا—فوٹو: نیو یارک پوسٹ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ (ناسا) ان دنوں اپنی نوعیت کے ایک انوکھے کیس کی تفتیش کر رہا ہے جس میں جرم زمین کے بجائے خلا میں بین الااقوامی خلائی مرکز میں ہوا ہے، لیکن اس کی تحقیقات اور فیصلہ زمین پر ہوگا۔

اس حوالے سے بہت سے نئے سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ جب ناسا اور ایلون مسک کی اسپیس ایکس 2020 میں خلا کے لیے کمرشل فلائٹس کا آغاز کرنے کا باقاعدہ اعلان کر چکی ہے اور انڈیا سمیت دیگر ممالک بھی اپنے خلائی مشنز کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اب زمینی قوانین کے بعد خلائی قوانین بھی تشکیل دیے جائیں تا کہ مستقبل میں خلا میں جرائم کی روک تھام ہو سکے۔

اپنی نوعیت کا یہ منفرد کیس کئی ممالک اور ماہرین کے لیے ٹیسٹ کیس ہے اور اسی کیس کو نظر میں رکھتے ہوئے اب مستقبل میں خلا کے حوالے سے بھی قوانین تشکیل دیے جانے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔

یہ منفرد جرم محض خلا میں بیٹھ کر زمین پر موجود امریکی بینک کے اکاؤنٹ کو آن لائن دیکھنے اور اس میں مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کا کیس ہے اور اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کیس خاتون خلاباز اور اس کی ہم جنس پرست پارٹنر کے درمیان چل رہا ہے، جس کی تحقیق نہ صرف ناسا کر رہا ہے بلکہ دیگر امریکی ادارے بھی اس کیس کی تفتیش میں مصروف عمل ہیں۔

کیس کیا ہے؟

اینی مک کلین پر ان کی پارٹنر سمر وارڈن نے الزامات لگا رکھے ہیں—فوٹو: ہیوی ڈاٹ کام
اینی مک کلین پر ان کی پارٹنر سمر وارڈن نے الزامات لگا رکھے ہیں—فوٹو: ہیوی ڈاٹ کام

اپنی نوعیت کا یہ منفرد کیس دراصل عالمی خلائی مرکز میں بیٹھ کر امریکی خاتون کی جانب سے اپنی خاتون ساتھی کے بینک اکاؤنٹ سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا کیس ہے۔

امریکی آرمی میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز اور انجنیئر خاتون خلا باز اینی مک کلین پر الزام ہے کہ انہوں نے زمین سے انتہائی اوپر عالمی خلائی مرکز میں بیٹھ کر اپنی خاتون پارٹنر کے بینک اکاؤنٹ تک نہ صرف رسائی حاصل کی بلکہ اس کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ بھی کی۔

اینی کو ان کو شخصیت کی مناسبت سے "اینی مل" بھی کہا جاتا ہے، یہ خاتون خلا باز پہلی دفعہ مارچ 2019 میں بین الاقوامی خبروں کا مرکز بنیں جب ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ خلاباز اینی کے لیے مناسب سائز کا خلائی لباس نہ ہونے کی وجہ سے " خواتین کی اسپیس واک"منسوخ کر دی گئی اور کچھ دن بعد اینی کی جگہ دوسری خلا باز کرسٹینا کوچ کو بھیجا گیا۔

اینی مکلین کا اس پر مؤقف تھا کہ انہیں اسپیس واک کے لیے 2 سوٹ دیے گئے تھے جو سائز میں بڑے تھے اور وہ ان میں خود کو آرام دہ محسوس نہیں کر رہی تھیں، حالانکہ ناسا اور اینی دونوں کے موقف کو خاصہ بودہ اور بچکانہ سمجھا گیا تھا اور یہ خبر کئی ہفتوں تک میڈیا پر چھائی رہی کہ خواتین کے لباس اور فیشن کا مسئلہ اب خلائی مشنز میں بھی حائل ہونے لگا ہے۔

ان کی جانب سے لباس والے معاملے کو تھمے کچھ وقت ہی گزر تھا کہ ان کے حوالے سے دنیا کو ایک اور حیران کن خبر موصول ہوئی اور اس بار اینی مک کلین کی خبر نے دنیا کو حیران کردیا، کیوں کہ اس دفعہ معاملہ پہلے سے ذیادہ سنگین ہے، دستیاب معلومات کے مطابق اینی مکلین ہم جنس پرست ہیں اور انہوں نے 2014 میں خاتون امریکی ایئر فورس آفیسر سمر وارڈن کے ساتھ شادی کی تھی جن کا پہلے سے ایک سالہ بیٹا تھا۔

دونوں خواتین ایک بیٹے کی پرورش کرتی ہیں—فوٹو: ہیوی ڈاٹ کام
دونوں خواتین ایک بیٹے کی پرورش کرتی ہیں—فوٹو: ہیوی ڈاٹ کام

دونوں خواتین مل کر اس بچے کی پرورش کر رہی تھیں اور ناسا کی کئی تقریبات میں 6 سالہ اس بچے کو اینی کے ساتھ بھی دیکھا گیا، 2018 میں سمر وارڈن کی جانب سے طلاق اور بیٹے کے تربیتی حقوق میں مداخلت سے متعلق ایک کیس فائل کیا گیا جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے، اس دوران اینی مکلین دسمبر 2018 میں 6 ماہ کے لیے خلائی مرکز میں قیام پر روانہ ہوئیں اور جون 2019 میں ان کی واپسی ہوئی ہے جس کے بعد یہ تنازع سامنے آیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اینی کی پارٹنر سمر وارڈن نے امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور ناسا کے انسپیکٹر جنرل آفس میں ایک کیس دائر کیا ہے کہ اینی نے خلائی مرکز میں قیام کے دوران ان کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی معلومات سے چھیڑ چھاڑ اور خرد برد کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ دوسری جانب اینی مکلین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ شادی کے بعد بیٹے کے ولدیتی حقوق رکھتی تھیں اور خلائی مرکز میں قیام کے دوران یہ یقین کرنا چاہتی تھیں کہ گھر اور بچے کے مالی معاملات احسن طور پر چل رہے ہیں جو کہ ہر شادی کے بعد 2 افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہوتے ہیں۔

اینی اس کیس میں تحقیقات کے لیے ناسا کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی طور سائبر یا خلائیی جرم نہیں ہے بلکہ اگر کچھ معاملات میں گڑ بڑ سامنے آئی ہے تو اس کی وجہ طلاق کیس کے بعد دونوں جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ یا ذاتی چپقلش ہو سکتی ہے جو گھریلوں معاملات کا حصہ ہوتی ہیں۔

وارڈن نے انہیں بینک اکاؤنٹ میں لاگ ان کے لییے پاس ورڈ اور دیگر معلومات دی ہوئی تھیں اور وہ صرف اطمینان کرنا چاہتی تھیں کہ گھر کے مالی معاملات صحیح چل رہے ہیں۔

اس کے بر عکس سمر وارڈن کا مؤقف ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں غیر قانونی مداخلت کی کوشش کی گئی تھی، جسے انہوں نے ٹریک کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کمپیوٹر ناسا کے نام رجسٹرڈ ہے اور خلائی مرکز سے زیر استعمال ہے، اگرچہ یہ کمپیوٹر زمین سے استعمال نہیں کیا گیا مگر یہ سائبر کرائم میں شمار کیا جائے گا اور اسی کے مطابق سزا ہوگی۔

خلا میں ہونے والے جرم پر کون سا قانون لاگو ہوگا؟

عالمی خلائی اسٹیشن پر وقت گزارنے والی خواتین میں کیٹ ربن بھی شامل ہیں—فوٹو: اے پی
عالمی خلائی اسٹیشن پر وقت گزارنے والی خواتین میں کیٹ ربن بھی شامل ہیں—فوٹو: اے پی

ماہرین اس واقعے کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لے رہے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کے بعد قوانین میں تبدیلی یا نئے قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، یہ کیس اس حوالے اور بھی پیچیدہ ہے کیونکہ دونوں خواتتین ہم جنس پرست ہیں اور شادی کے وقت سمر وارڈن کی جانب سے بچے کی ولدیت کے حقوق اینی کو دیے گئے تھے جسے وہ 4 سال سے نبھاتی رہی ہیں اور فی الوقت بچہ دونوں خواتین کی ذمہ داری تھا۔

لہذا مغربی معاشرے میں ہم جنس پرستی بڑھنے بلکہ معمول کا حصہ بن جانے کے بعد ایسے جوڑوں کے خاندانی معاملات اور بچوں کے ولدیتی حقوق کے حوالے سے نئے اور موثر قوانین بنانے کی ضرورت ہے جبکہ کیس کا دوسرا رخ انتہائی دلچسپ ہے کہ انسان نے زمین پر جرائم کے بعد اب خلا کو بھی نہیں بخشا اور خلائی سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ اس طرح کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جائےگا۔

اس حوالے سے ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے خلا میں کسی جرم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور اگر ابھی یا آئندہ ارتکاب ہوا تو خلا باز جس ملک سے تعلق رکھتا ہوگا اس کے قوانین کے مطابق ہی فیصلہ کیا جائے گا مگر نئے اور موثر خلائی قوانین بنا نے پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ اگلے چند برسوں میں شروع ہونے والی خلائی سیا حت کو ابتدا ہی سے پر امن رکھا جا سکے۔

بین الاقوامی خلائی مرکز کیا ہے؟

خلائی اسٹیشن کی تعمیر ابتدائی تعمیر 1998 میں مکمل کرلی گئی تھی—فوٹو: شٹر اسٹاک
خلائی اسٹیشن کی تعمیر ابتدائی تعمیر 1998 میں مکمل کرلی گئی تھی—فوٹو: شٹر اسٹاک

1990 کی دہائی میں جب پہلی دفعہ 5 ممالک امریکا، روس، کینیڈا، یورپین یونین اور جاپان کے تعاون سے خلا میں زمین کے درمیانے درجے کے مدار ( لو ارتھ آربٹ) انسانی مرکز کے قیام کا منصوبے کا آغاز کیا گیا تو محققین اور سائنسدانوں کا مقصد محض اتنا تھا کہ اس مرکز میں کچھ عرصے تک قیام کر کے ناسا اور دیگر ممالک کی خلائی ایجنسیز کے خلاباز خلا میں اہم تحقیقات کریں جن سے مستقبل کے خلائی مشن خاص طور پر مریخ پر انسانی کالونیوں کے قیام کے متعلق اہم معلومات حاصل ہو ں گی۔

یہ خلائی مرکز 1998 سے 2011 کے دوران مختلف مراحل میں تکمیل کو پہنچا اور اب بھی اس میں تبدیلیاں کی جاتی رہتی ہیں تا کہ خلا بازوں کے یہاں قیام اور تجربات کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اگرچہ پہلے ناسا بین الاقوامی خلائی مرکز کو 2022 تک بند کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اب کچھ نا گزیر وجوہات کی بناء پر اس عرصے میں تو سیع کر کے خلائی مرکز کو 2025 تک فعال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

1998 میں جب اس خلائی مرکز پر امریکا اور روس نے اپنے خلا باز بھیجنے شروع کیے تھے تو ابتدا میں ان کے قیام کا دورانیہ کچھ ہفتے یا ایک ماہ رکھا جاتا تھا کیونکہ خلا میں مسلسل بے وزنی کی حالت میں رہنے کے باعث خلابازوں کا جسمانی نظام بری طرح متاثر ہوتا تھا، مگر گزشتہ 21 برس کے دوران یہاں دیرپا قیام اور سائنسی تجربات کے لیے بے پناہ سہولیات فراہم کی گئیں۔

خلائی مرکز کے اپنے محور(ایکسز) کے گرد گردش سے مصنوعی کشش ثقل پیدا کی گئی جس سے بے وزنی کی حالت بتدریج کم ہوتی گئی جس کے ساتھ ہی 3 سے 6 خلابازوں کے مرکز میں قیام کا دورانیہ مسلسل بڑھایا جاتا رہا، خلا بازوں کو اس مرکز میں بھیجنے کے لیئے 2011 سے مستقل روس کا سویوز خلائی کیپسول استعمال کیا جاتا ہے جو ایک وقت میں صرف 3 خلا بازوں کو لا نے لے جانے کا کام کرسکتا ہے۔

خلائی مرکز میں اب تک سب سے زیادہ قیام کا ریکارڈ امریکی خلاباز اسکاٹ کیلی کے پاس ہے جنہوں نے مارچ 2015 سے مارچ 2016 تک پورا ایک سال وہاں گزارا،۔ جب کہ خواتین میں یہ اعزاز پیگی وٹسن کے پاس ہے جنہوں نے 5 مہمات میں کل 665 دن خلائی مرکز میں گزارے ہیں۔


صادقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں اور نیشنل سائنس ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ، بلاگر اور دو سائنسی کتب کی مصنفہ ہیں۔ صادقہ آن لائن ڈیجیٹل سائنس میگزین سائنٹیا کی بانی اور ایڈیٹر بھی ہیں۔ ۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔