کراچی: گڑھے میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 3 کم سن بھائی جاں بحق

ای میل

بچے بارش کے پانی میں نہارہے تھے کہ ڈوب کر جاں بحق ہوگئے—فائل فوٹو: اے پی
بچے بارش کے پانی میں نہارہے تھے کہ ڈوب کر جاں بحق ہوگئے—فائل فوٹو: اے پی

کراچی میں حالیہ بارشوں کے باعث نئی سبزی منڈی کے قریب گڑھے میں جمع پانی میں ڈوب کر 3 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک کو زندہ بچالیا گیا۔

اس بارے میں ایس ایچ او سائٹ سپرہائی وے انڈسٹریل پولیس چوہدری اسلم کا کہنا تھا کہ سپرہائی وے سے متصل نئی سبزی منڈی کے قریب بارش کا پانی جمع ہونے سے بننے والے تالاب میں 4 بھائی نہا رہے تھے کہ 3 ڈوب کر جاں بحق ہوگئے جبکہ چوتھے کو بیہوشی کی حالت میں ریسکو کرلیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ چاروں بھائیوں کی عمریں 5 سے 10 برس کے درمیان ہیں۔

افسر کا کہنا تھا کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث جمع ہونے والے پانی سے ایک گڑھا بن گیا تھا، جس میں تقریباً 5 سے 6 فٹ پانی جمع تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی کے مختلف مقامات پر بارش، میئر نے ایمرجنسی نافذ کردی

پولیس افسر نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم 2 بچے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور تیسرا بچے کی موت کی تصدیق عباسی شہید ہسپتال پہنچ کرہوئی جبکہ چوتھے بچے کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرلیا گیا۔

ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سلیم شیخ کا کہنا تھا کہ 3 بچوں کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا، جن کی شناخت 10 سالہ محمد شفیق، 7 سالہ عبدالباری اور 6 سالہ محمد نبی کے نام سے ہوئی جبکہ چوتھا بھائی 5 سالہ محمد غنی عباسی شہید ہسپتال میں بننے والے چلڈرن ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ بچے کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ پولیس کو بیان دے سکے کہ اصل میں یہ واقعہ کس طرح رونما ہوا۔

خیال رہے کہ ایک ماہ کے دوران کراچی میں مون سون بارشوں کے 2 اسپیل آچکے ہیں جبکہ تیسرے اسپیل کا آغاز آج (28 اگست) سے شروع ہوا ہے۔

اس سے قبل ہونے والے بارشوں کے 2 اسپیل میں شہر میں پیش آنے والی ابتر صورتحال سے نمٹنے کے لیے میئر کراچی وسیم اختر نے شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں بارش، کراچی میں بجلی کا نظام درہم برہم، 16 افراد جاں بحق

خیال رہے کہ گزشتہ 2 اسپیل میں ہونے والی تیز بارش نے شہری اور صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے دعووں کی قلعی کھول دی تھی اور شہر میں نشیبی علاقے زیرآب آنے، گٹر اور نالے ابلنے سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی۔

جولائی کے اواخر میں شہر قائد میں ہونے والی بارش میں کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس میں 4 نوجوان بھی شامل تھے جبکہ نارتھ ناظم آباد میں بھی کرنٹ لگنے سے دو کم عمر لڑکے بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں عیدالاضحیٰ سے قبل ماہ اگست میں مون سون بارشوں سے بھی نشیبی علاقے زیر آب آگئے تھے اور نظام زندگی مفلوج ہوگیا جبکہ مختلف حادثات میں بچے سمیت 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔