وزیراعظم کا سعودی ولی عہد کو تیسری مرتبہ فون، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اپ ڈیٹ 03 ستمبر 2019

ای میل

دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ایک ماہ میں یہ تیسرا رابطہ ہے — فائل فوٹو: پی ٹی آئی
دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ایک ماہ میں یہ تیسرا رابطہ ہے — فائل فوٹو: پی ٹی آئی

وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک مرتبہ پھر ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

سعودی خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ایک ماہ میں تیسری مرتبہ ٹیلی فون کیا۔

دونوں رہنماؤں نے فون پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور اب تک کی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد دونوں سربراہان کا یہ تیسرا رابطہ ہے۔

دونوں رہنماؤں نے پہلے 7 اگست اور پھر اس کے بعد 27 اگست کو ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔

بعد ازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔

مزید پڑھیں: 'کشمیر میں کچھ ہوا تو بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے'

بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کے بعد کشمیریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج بھی کیا جارہا ہے، جبکہ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد کشمیری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اس نے اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘

22 اگست کو دنیا میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے وقف عالمی ادارے جینوسائڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وعدہ کرتا ہوں کشمیر کی آزادی تک ہر فورم پر آواز اٹھاؤں گا، وزیراعظم

عالمی ادارے نے کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ اور اس کے اراکین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت کو خبردار کریں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی نہ کرے۔

سفارتی محاذ پر پاکستان متحرک

بھارتی کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔

اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ، دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا جبکہ یورپی یونین کے اجلاس میں بھی اس پر بات چیت ہوئی۔

یاد رہے کہ 22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: 'مسلمانوں کی نسل کشی کی اطلاعات سے دنیا میں خطرے کی گھنٹیاں بجنی چاہئیں'

انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی ۔ کینڈین نیوز چینل 'وائس نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ ’ بھارت اس وقت آگ سے کھیل رہا ہے جو اس کے سیکولرزم کو جلا کر راکھ کردے گی‘۔