چند سیکنڈز میں حقیقت کے قریب تر جعلی ویڈیوز بنانے والی ایپ

اپ ڈیٹ 03 ستمبر 2019

ای میل

زاؤ کو متعارف کراتے ہی اسے لاکھوں مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا — اسکرین شاٹ
زاؤ کو متعارف کراتے ہی اسے لاکھوں مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا — اسکرین شاٹ

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے اس دور میں کسی بھی واقعے کی جعلی ویڈیوز اور تصاویر کو وائرل کرنا کوئی نئی بات نہیں۔

تاہم گزشتہ 2 سال میں ’ٹک ٹاک، ڈیپ فیک اور حال ہی میں مشہور ہونے والی ’فیس ایپ‘ کے بعد انٹرنیٹ پر جعلی اور غلط مواد کے پھیلنے میں اضافہ دیکھا گیا۔

لیکن اب چینی کمپنی نے انٹرنیٹ پر جعلی مواد کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والی ایک اور نئی ایپلی کیشن تیار کرلی، جس کے ریلیز کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا۔

جی ہاں، چین میں ’ٹنڈر‘ کے چینی ورژن کی ڈیٹنگ ایپلی کیشن بنانے والے گروپ مومو کی جانب سے ’زاؤِ' نامی ایپلی کیشن کو سیکیورٹی مسئلہ قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی ادارے ’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق ’زاؤ‘ نامی ڈیپ فیک جیسی ٹیکنالوجی پر مبنی ایپ کو ابتدائی طور پر چند دن قبل صرف چین میں ہی متعارف کرایا گیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی۔

اس ایپلی کیشن کو چین میں’آ او ایس‘ کے ایپ اسٹور پر متعارف کرایا گیا اور اسے متعارف کرائے جانے کے بعد ہی ریکارڈ تعداد میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔

چین میں چند گھنٹوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اسے جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت سمیت ایشیا کے دیگر چند ممالک میں بھی متعارف کرایا گیا اور وہاں بھی اس ایپ نے مقبولیت حاصل کرلی۔

شکایات کے بعد چین میں اس ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ بند کردی گئی—اسکرین شاٹ
شکایات کے بعد چین میں اس ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ بند کردی گئی—اسکرین شاٹ

یہ ایپ بھی دیگر ایپلی کیشن کی طرح مفت ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اور اس پر صارف کی جانب سے اکاؤنٹ بنائے جانے کے بعد کام کرتی ہے۔

صارف کو اکاؤنٹ بنانے کے لیے اپنا ای میل اور فون نمبر ایپلی کیشن کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔

یہ ایپلی کیشن کسی بھی صارف کی محض ایک ہی سیلفی سے اس کی مرضی کی ویڈیوز کو 8 سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت میں تخلیق دیتی ہے۔

یہ ایپ صارف کو ہزاروں ویڈیوز تک رسائی دے کر اسے اپنی مرضی کی ویڈیو منتخب کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور صارف اپنی مرضی کی کوئی بھی ویڈیو منتخب کرکے اپنی ایک سیلفی اپ لوڈ کرتا ہے اور اگلے 8 سیکنڈ میں وہ اس ویڈیو کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔

یہ ایپلی کیشن صارف کی سیلفی کو ویڈیوز میں منتخب کیے گئے کردار یا شخص کے چہرے میں بدل دیتی ہے اور ایپ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے حقیقت سے قریب تر ایسی ویڈیوز بناتی ہے جنہیں دیکھ کر یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ وہ جعلی ہیں۔

یہ ایپ ایک سیلفی پر حقیقت سے قریب تر ویڈیو بنا دیتی ہے—اسکرین شاٹ
یہ ایپ ایک سیلفی پر حقیقت سے قریب تر ویڈیو بنا دیتی ہے—اسکرین شاٹ

ایپلی کیشن کو متعارف کرائے جانے کے بعد درجنوں چینی افراد نے اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے ہولی وڈ فلموں کے مشہور کلپس کی ویڈیوز بنائیں، جن میں چینی افراد کو ہولی وڈ کے معروف اداکاروں کی جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی ایپ کو استعمال کرتے ہوئے ایک چینی نوجوان نے ہولی وڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کے فلمی مناظر میں خود کو پیش کیا جب کہ ایک لڑکی نے ہولی وڈ اداکارہ کیٹ ونسلیٹ کی جگہ خود کو پیش کیا۔

ان کے علاوہ دیگر کئی افراد نے بھی اس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہولی وڈ فلموں کے سین میں چینی چہروں کو شامل کرکے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

صارفین نے اس ویڈیو کو ’ڈیپ فیک‘ کی بہترین ایپ قرار دیتے ہوئے اسے سیکیورٹی کے لیے رسک قرار دیا اور ہزاروں افراد نے اس ایپ کو رپورٹ کرنا شروع کیا جس کے بعد ابتدائی طور پر ان ویڈیوز کو ایپ اسٹور سے ہٹالیا گیا، تاہم یہ ایپ کچھ ممالک میں اب بھی کام کر رہی ہے۔