جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب نے ساڑھے 10 ارب روپے کی پلی بارگین منظور کرلی

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2019

ای میل

نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پلی بارگین کی منظوری دے دی اور اب یہ معاملہ احتساب عدالت میں بھیجا جائے گا — فائل فوٹو/ نیب ویب سائٹ
نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پلی بارگین کی منظوری دے دی اور اب یہ معاملہ احتساب عدالت میں بھیجا جائے گا — فائل فوٹو/ نیب ویب سائٹ

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملوث 7 ملزمان کو 10 ارب 60 کروڑ روپے کی پلی بارگین کے تحت رہا کرنے سے متعلق ڈیل کی منظوری دے دی۔

مذکورہ ملزمان سندھ حکومت اور پاکستان اسٹیل ملز کی ملکیت میں موجود زمین کے غلط استعمال کے حوالے سے کیس کا سامنا کررہے تھے۔

پلی بارگین کے تحت عبدالغنی نے 37 کروڑ 50 لاکھ مالیت کی صنعتی اراضی اور پلی بارگین کے تحت 2 ارب روپے سے زائد جمع کروانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: ملزم کی 2 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور

اسی طرح محمد توصیف نے 37 کروڑ 50 لاکھ روپے کی صنعتی اراضی اور 2 ارب 9 کروڑ روپے، عامر 40 ایکڑ اراضی اور 2 ارب 20 کروڑ روپے، سراج شاہد 50 ایکڑ اراضی اور 2 ارب 78 کروڑ روپے، حماد شاہد 34.2 ایکڑ رہائشی اراضی اور 49 کروڑ 70 لاکھ روپے، طارق بیگ 34 ایکڑ رہائشی اراضی اور 49 کروڑ 10 لاکھ روپے، محمد اقبال 33 ایکڑ اراضی اور 47 کروڑ 60 لاکھ روپے دینے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

نیب ذرائع کے مطابق چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پلی بارگین کی منظوری دے دی اور اب یہ معاملہ احتساب عدالت میں بھیجا جائے گا۔

مذکورہ بالا تمام 7 افراد سرکاری اداروں کے ذریعے زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف تحقیقات کا سامنا کررہے تھے۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب نے 2 ارب روپے سے زائد کی پہلی پلی بارگین منظور کرلی

اس کیس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی منظور قادر کاکا بھی ملزم ہیں۔

خیال رہے کہ نیب کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ زمین کے پلاٹس کی ادائیگی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی۔

مذکورہ ملزمان کے نام 172 افراد کی اس فہرست میں بھی شامل تھے جو جعلی اکاؤنٹس کی تفتیش کرنے والی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ میں پیش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر نیب عہدیدار کا متنازع پلی بارگین کا دفاع

دوسری جانب سابق صدر آصف علی زردری اور ان کی بہن فریال تالپور بھی جلعی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی استدعا مسترد ہونے کے بعد سے گرفتار ہیں۔


یہ خبر 5 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔