ملک بھر میں یومِ دفاع کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا گیا

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2019

ای میل

پاک فوج کے جوان واہگہ بارڈر کے نزدیک قائم یادگارِ شہدا پر گارڈ آف آرنر پیش کرتے ہوئے—تصویر: رائٹرز
پاک فوج کے جوان واہگہ بارڈر کے نزدیک قائم یادگارِ شہدا پر گارڈ آف آرنر پیش کرتے ہوئے—تصویر: رائٹرز

ملک بھر میں یوم دفاع، یوم یکجہتی کشمیر کے طورپر منایا گیا جس کامقصد وطنِ عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے ساتھ ساتھ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی حمایت کا اعادہ کرنا تھا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق یومِ دفاع کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی و خوشحالی اور بھارت کے ظالمانہ تسلط سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعائیں مانگ کر کیا گیا۔

مزارِ اقبال پر پھولوں کی چادر رکھنے کے ساتھ فاتحہ خوانی کی گئی—تصویر: ڈان نیوز
مزارِ اقبال پر پھولوں کی چادر رکھنے کے ساتھ فاتحہ خوانی کی گئی—تصویر: ڈان نیوز

اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں21 ،21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔

علاوہ ازیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے مزارات پر گارڈ کی تبدیلی کی پُروقار تقاریب منعقد ہوئیں، جس میں پاک فضائیہ نے مزارِ قائد جبکہ پاک فوج نے مزار اقبال پر گارڈ کے فرائض سنبھالے۔

کراچی میں مزار قائد پر پاک فضائیہ کے کیڈیٹس سے فرائض سنبھالے اس موقع پر مہمان خصوصی کو جنرل سیلوٹ پیش کیا گیا، تقریب کے مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل حامد راشد رندھاوا نے گارڈ آف آرنر کا معائنہ کیا مزار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا 'یوم دفاع' کو 'یوم یکجہتی کشمیر' کے طور پر منانے کا فیصلہ

قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر فضائیہ کے کیڈٹس نے فرائض سنبھالے —تصویر:اے ایف پی
قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر فضائیہ کے کیڈٹس نے فرائض سنبھالے —تصویر:اے ایف پی

لاہور میں مزار اقبال پر منعقدہ تقریب میں میجر جنرل محمد عامر نے پھولوں کی چادر چڑھائی، اس دوران پاک فوج کے چاق و چوبند دستے سے سلامی پیش کی۔

شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یوم دفاع کی مرکزی تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ہوئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔

اس خصوصی تقریب میں آرمی چیف نے یادگارِ شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی گئی۔

یومِ دفاع و شہدا کے سلسلے میں ایک تقریب نیول ہیڈ کورٹر اسلام آباد میں بھی منعقد کی گئی جس کے مہمانِ خصوصی وائس ایڈمرل کلیم شوکت تھے۔

جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں شہدا کو سلامی پیش کی گئی—تصویر: ڈان نیوز
جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں شہدا کو سلامی پیش کی گئی—تصویر: ڈان نیوز

انہوں نے بھی یادگارِ شہدا پر پھول چڑھائے اور وطن عزیر کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

علاوہ ازیں یوم دفاع کی مناسبت سے وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آج سہ پہر 3 بجے ملک بھر میں تمام دفاتر بند کردیے جائیں گے اور پاکستانی عوام کشمیریوں سے اظہارِیکجہتی کریں گے۔

صدر مملکت و وزیر اعظم کے پیغامات

دوسری جانب صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے یوم دفاع اور شہداء کے موقع پر اپنے پیغامات میں کہا کہ قوم دشمن کی کسی بھی مہم جوئی سے پوری طرح آگاہ ہے اور ممکنہ طورپر ردعمل کے لیے تیار ہے۔

صدر مملکت نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاک فوج جدید ہتھیاروں اور اسلحے سے لیس ہونے سمیت حب الوطنی اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہے اور کسی بھی اندرونی و بیرونی خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں 52ویں یومِ دفاع پاکستان کی تقاریب

صدر نے کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا بھی اعادہ کیا اور اس عزم کی تجدید کی کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہماری مسلح افواج ،قوم، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اور سوشل میڈیا مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے یک طرفہ اور غیر قانونی بھارتی فیصلے کے خلاف ہم آواز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یوم دفاع پاکستان قومی اتحاد، ناقابل تسخیر ہمت و حوصلے اور ہمارے بہادر فوجی جوانوں کی بے مثال قربانیوں کی علامت ہے۔