کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے، آرمی چیف

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2019

ای میل

آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھول بھی چڑھائے—فوٹو: آئی ایس پی آر
آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھول بھی چڑھائے—فوٹو: آئی ایس پی آر

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے لیکن پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔

راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آج میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق نہیں ہوجاتا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیادوں میں شہدا کا لہو شامل ہے، جنہوں نے بلاشبہ ایک عظیم جدوجہد کے بعد ہمارے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1947 سے لے کر خواہ وہ کسی ملک سے جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں نے لبیک کہا، دھرتی کے بیٹوں کا خون کل بھی پاکستان کی حفاظت کی ضمانت تھا اور آج بھی ہمارے سپوت وطنِ عزیز پر قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔

دوران خطاب آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے جوانوں کی کامیابیاں کبھی رائیگاں نہیں گئیں اور نہ ہی جائیں گی، حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابیاں باقی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں یومِ دفاع کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے منایا جارہا ہے

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک لمبی اور مشکل جنگ تھی، جس میں ہمارے جوانوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کردیا لیکن پاکستان کے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان میں امن کی فضا قائم ہے اور آج کا پاکستان امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے جو خطے اور پوری دنیا کے لیے بھی ہماری قربانیوں اور تعاون کی ایک مثال ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے پوری کی ہیں، اب اقوامِ عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو عملی طور پر رد کرے، ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کا پُرامن اور بدلتا ہوا پاکستان دنیا کے لیے امن، ترقی و رواداری کا پیامبر ہے، ایک پُرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہماری منزل ہے اور ہم پوری حکمتِ عملی سے اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت کا 'یوم دفاع' کو 'یوم یکجہتی کشمیر' کے طور پر منانے کا فیصلہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت سے کامیابی سے لڑنے کے بعد اب ہماری جنگ غربت، بے روزگاری، جہالت اور معاشی پسماندگی کے خلاف ہے تاکہ ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آج جب ہم ایک روشن پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمارا دل مقبوضہ کشمیر میں موجود اپنے بھائیوں کی تکلیفوں، مصیبتوں اور بڑھتی مشکلات کے باعث نہایت بے چین ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ آج کا کشمیر ہندوتوا کی پیروکار ہندوستانی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار بن چکا ہے، ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، کشمیری خون ارزاں ہوچکا اور جنت نظیر وادی ظلم کی آگ میں جل رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت، تعصب، تنگ نظری اور طاقت کے زعم میں کشمیریوں کے حقوق پر جو حملہ کیا ہے وہ بلا شبہ ہمارے اور پوری عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوم آزادی پاکستان، کشمیر بنے گا پاکستان

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بے بس کشمیریوں کی تکالیف اور آئے روز کی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان، کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا، پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان ایک پر امن ملک ہے جبکہ کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہادر عوام، افواج اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں، ہم آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: ’یوم آزادی پر قومی پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم بھی لہرایا جائے‘

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ آج جب خطے کے حالات کو دیکھا جائے تو جنگ اور بے چینی کے بادل بھی نظر آتے ہیں اور امن و سلامتی کی امید بھی مگر تمام حالات میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے، اس عمل میں بھی ہمارے شہدا اور غازیوں کی قربانیاں شامل ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ امن و سلامتی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے، افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ہم نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن کی کوششیں کی ہیں اور آئندہ بھی جاری رکھیں گے، موجودہ افغان مفاہمتی عمل میں ہمارا بھرپور تعاون ہماری سوچ کا عکاس ہے۔

ساتھ ہی ان کا یہ کہنا تھا کہ تنازع کے تمام فریقین کی شرکت اور اتفاق رائے سے ہی افغان قوم کے لیے امن سلامتی خوشحالی لائی جاسکتی ہے، پاکستان نے ہمیشہ افغان سربراہی میں افغانوں پر مشتمل امن عمل کی حمایت کی ہے۔

افغان امن عمل پر پاک فوج کے سپہ سالار کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ کی سرگرم سفارتی کوششوں کی وجہ سے آج امن کی منزل نزدیک نظر آرہی ہے، اس عمل کے حتمی نتیجے پر پہنچنے تک ہمارا بامقصد تعاون جاری رہے گا کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے مکینوں کو ایک ماہ سے بھارتی پابندیوں اور کرفیو کا سامنا

آرمی چیف نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان اور پاکستانی قوم کی جانب سے تمام غازیوں اور بالخصوص شہدا کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کے دُکھوں کا کوئی مداوا نہیں، خون کی کوئی قیمت نہیں مگر آپ کا حوصلہ لازوال ہے پوری قوم آپ کی قربانیوں اور عزم کو سلام پیش کرتی ہے، آپ ہمارا مان ہیں۔

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ شہید ہماری پہچان ہیں، شہدا کی قربانیاں، آپ کے حوصلے اور پوری قوم کی بے مثال جدوجہد پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ یومِ دفاع، شہدائے پاکستان کے اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم کوئی شہادت نہیں بھولے، زندہ قومیں اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہیں، ان کے کارناموں اور کامیابیوں سے اپنے جذبوں کو جلا بخشتی ہیں۔