کے ایم سی نے اربن فاریسٹ پارک اپنی تحویل میں لے لیا

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2019

ای میل

شہزاد قریشی کا کہنا ہے کہ ہمارے لگائے گئے پودے کے ایم سی کے عملے نے اکھاڑ دیے
—فوٹو: بشکریہ اربن فاریسٹ
شہزاد قریشی کا کہنا ہے کہ ہمارے لگائے گئے پودے کے ایم سی کے عملے نے اکھاڑ دیے —فوٹو: بشکریہ اربن فاریسٹ

کراچی میڑوپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے کلفٹن میں قائم اربن فاریسٹ (شہری شجرکاری) پارک اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ کے ایم سی کی جانب سے مذکورہ فیصلہ اربن فاریسٹ کی ناقص صورتحال سے متعلق الزامات کے بعد لیا گیا۔

مزیدپڑھیں: شہری شجرکاری: کیا حکومت اتنی عجلت میں یہ کام کرپائے گی؟

کے ایم سی حکام کے مطابق کلفٹن بلاک 5 میں قائم اربن فاریسٹ کا چارج میونسپل حکام نے سنبھال کر صفائی و ستھرائی کا کام شروع کردیا جس کے بعد درخت لگائے جائیں گے۔

حکام نے بتایا کہ اربن فاریسٹ چیف شہزاد قریشی کو پارک 5 سالہ مدت کے لیے تفویض کیا گیا تھا لیکن معاہدے کی خلاف ورزی پر پارک کو تحویل میں لیا گیا۔

کے ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر پارک شاہد نے بتایا کہ پارک میں قائم اربن فاریسٹ کو نہیں ہٹایا جائے گا اور پارک میں مورنگا کے مزید درخت لگائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پارک کی ضروری تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لیے کھول دیا جائےگا‘۔

دوسری جانب سربراہ اربن فاریسٹ شہزاد قریشی نے کے ایم سی پر الزام عائد کیا کہ پارک میں ہمارے لگائے گئے پودے کے ایم سی کے عملے نے اکھاڑ دیے۔

یہ بھی پڑھیں: خان صاحب، بس 10 ارب درخت لگانے کا وعدہ مت بھولیے گا

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے عملے نے ویٹ لینڈ طریقے سے گندے پانی کو صاف کرکے پودوں کو دینے کے عمل کو خراب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کے ایم سی کی ان سے گفتگو جاری تھی کہ اس دوران کارپوریشن نے درخت اکھاڑنے کے لیے عملہ بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپویشن نے اربن فاریسٹ 5 سال کے لیے مجھے دیا تھا جس کے تحت 50 ہزار پودے لگانے کا منصوبہ ہے تاہم اب تک اربن فاریسٹ میں 15 ہزار درخت لگے ہوئے ہیں۔

شہزاد قریشی نے مزید بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کے ایم سی نے پارک اپنی تحویل میں کیوں لیا اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کے ایم سی کو میرے ساتھ تعاون کرناچاہے لیکن وہ مجھے ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما خرم شیر زمان نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی اربن فاریسٹ کے لیے 50 ہزار درخت عطیہ کرے گی جبکہ کراچی میں 10 لاکھ درخت لگائے جائیں گے۔

مزیدپڑھیں: شجرکاری کے موسم میں درخت لگانے کا درست طریقہ سیکھیں

بعدازاں کراچی میئر وسیم اختر نے معاملے میں مداخلت کی اور شہزاد قریشی سمیت متعلقہ شہریوں کے ساتھ اجلاس کیا۔

اس ضمن میں شہزاد قریشی نے بتایا کہ ’میئر کراچی کے ساتھ ساز گار ماحول میں بات چیت ہوئی جبکہ کے ایم سی ڈائریکٹر جنرل پارک آفاق مرزا نے بھی اجلاس میں شرکت کی‘۔

انہوں نے میئر کراچی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وسیم اخترچاہتے ہیں کہ کے ایم سی ’ڈیزائن کے مطابق پارک کی تعمیراتی کام مکمل‘ کرے۔

شہزاد قریشی نے بتایا کہ ’وسیم اختر نے ذاتی طور پر اربن فارسٹ کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ شہریوں کے ساتھ مل کر پارک اور جھیل بنائی اور ساتھ ہی پانی کو صاف کرنے کا پلانٹ بھی لگایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ماحول دوست مینگرووزسے ہماری دشمنی کیوں؟

انہوں نے بتایا کہ ’پارک میں سبزیاں بھی اگائی گئیں جو علاقے کے مستحق لوگوں میں مفت تقسیم کی جاتی ہیں‘۔

شہزاد قریشی نے امید ظاہر کی کہ کے ایم سی پارک اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ منسوخ کرکے ہمیں کام مکمل کرنے کی اجازت دے گا۔