نیب نے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک اور ریفرنس کی سفارش کردی

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

عمران الحق کو تعینات کرتے وقت ان کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیت کی جانچ نہیں کی گئی، نیب—فائل فوٹو: اے پی
عمران الحق کو تعینات کرتے وقت ان کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیت کی جانچ نہیں کی گئی، نیب—فائل فوٹو: اے پی

قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں غیرقانونی تعیناتی سے متعلق ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کردی۔

نیب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کے مقررہ کردہ طریقہ کار اور قوانین کے خلاف وزری کرتے ہوئے شیخ عمران الحق کو پی ایس او کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا۔

مزیدپڑھیں: ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

نیب نے اپنے اعلامیہ میں دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے ’انکشاف‘ ہوا کہ عمران الحق کی پی ایس او میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر تعیناتی محض سابق وزیر پیٹرولیم سے ’ذاتی تعلقات‘ کی بنیاد پر ہوئی۔

نیب کراچی نے بتایا کہ عمران الحق کو منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کرتے وقت ان کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیت کی جانچ نہیں کی گئی۔

اس ضمن میں نیب نے تحقیقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ شیخ عمران الحق نے 2013 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں ایل این جی ٹرمینل کی تعمیرات کے دوران اس وقت کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات قائم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ایل این جی اسکینڈل میں نیب کی حراست میں ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے تب انہوں نے ایل این جی ٹرمینل کا 15 سالہ ٹھیکہ تفویض کرتے وقت قوانین کو مد نظر نہیں رکھا۔

نیب نے مذکورہ مقدمہ 2016 میں بند کردیا تھا تاہم 2018 میں دوبارہ کھول دیا گیا۔

ایل این جی کیس

یاد رہے کہ نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سوئی سدرن کیس کمپنی لمیٹٰڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کی انتظامیہ نے غیر شفاف طریقے سے ایم/ایس اینگرو کو کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کا کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ایس ایس جی سی ایل نے اینگرو کی ایک ذیلی کمپنی کو روزانہ کی مقررہ قیمت پر ایل این جی کی ریگیسفائینگ کے 15 ٹھیکے تفویض کیے تھے۔

نہ صرف شاہد خاقان عباسی بلکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پر بھی اپنی مرضی کی 15 مختلف کمپنیوں کو ایل این جی ٹرمنل کا ٹھیکا دے کر اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی گرفتار

2016 میں مسلم لیگ (ن) کی دورِ حکومت میں نیب کراچی میں منعقدہ ریجنل بورڈ کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف انکوائری بند کردی تھی۔

رواں برس 2 جنوری کو ای بی ایم نے اس وقت شاہد خاقان عباسی کے خلاف 2 انکوائریز کی منظوری دی تھی، جب وہ سابق وزیر پیٹرولیم اور قدرتی وسائل تھے، ان انکوائریز میں سے ایک ایل این جی کی درآمدات میں بے ضابطگیوں میں ان کی مبینہ شمولیت جبکہ دوسری نعیم الدین خان کو بینک آف پنجاب کا صدر مقرر کرنے سے متعلق تھی۔

تاہم شاہد خاقان عباسی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایل این کی درآمد کے لیے دیے گئے ٹھیکے میں کوئی بے ضابطگی نہیں کی اور وہ ہر فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرسکتے ہیں اور یہ کہ 2013 میں ایل این جی برآمد وقت کی اہم ضرورت تھی۔

مزید پڑھیں: ایل این جی کے ’غیر شفاف‘ ٹھیکوں پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ

مارچ میں سابق وزیر اعظم ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے، جس کے بعد احتساب کے ادارے نے ان پر سفری پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔

جس کے بعد رواں برس اپریل میں حکومت نے36 ارب 69 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت 5 افراد کے بیرونِ ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

سابق وزیراعظم گزشتہ ماہ (جون ) میں بھی تفتیش کے لیے نیب میں پیش ہوئے تھے جس کے بعد نیب نے شاہد خاقان عباسی کو ان کے خلاف جاری تفتیش کے پیشِ نظر بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔

تاہم شاہد خاقان عباسی نے نیب کی جانب سے مزید ریکارڈ طلب کیے جانے پر مہلت طلب کی تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ متعلقہ ریکارڈ ان کے پاس نہیں بلکہ وزارت پیٹرولیم کے پاس ہے۔