ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرنے کا مطالبہ

15 ستمبر 2019

ای میل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ دنیا جاننا چاہتی ہے کہ وادی میں کیا ہورہا ہے—فوٹو: اے ایف ہی
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ دنیا جاننا چاہتی ہے کہ وادی میں کیا ہورہا ہے—فوٹو: اے ایف ہی

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرنے کے لیے آن لائن پٹیشن کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کردی تھی جس کے بعد سے تاحال وادی میں مواصلات کا نظام مکمل طور پر غیرفعال ہے اور کرفیو کے باعث معمولات زندگی تباہ ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے

انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے 80 لاکھ افراد 5 اگست سے مواصلات کے بغیرزندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زور دیا کہ ’دنیا جاننا چاہتی ہے کہ وادی میں کیا ہورہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ بھارتی حکومت پر زور دیں کہ وہ کشمیر کو بولنے کا موقع دیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں چھاپوں، گرفتاریوں، جھڑپوں اور حراست سے متعلق متعدد رپورٹس ہیں۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں منصفانہ پالیسی اختیار کی جائے، ایران

انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا صرف قیاس ہی کرسکتی ہے کہ وادی میں کس نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف سنگین ورزیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنے اور انہیں نظر بند رکھنے کی رپورٹس موجود ہیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ ’تدریس اور طبی مراکز کی سہولیات بھی سمیت ایمرجنسی سروسز تک رسائی متاثر ہورہی ہے‘۔

عالمی ادارے برائے انسانی حقوق نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانیت کو پہلے مد نظر رکھے اور کشمیریوں کو بولنے کی آزادی دے۔

یہ بھی پڑھیں: 'اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ظلم روکنے کیلئے کردار ادا کرے'

انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’وادی میں غیرمشروط اور رکاوٹ سے محفوظ معلومات اور خبروں تک رسائی کو یقینی بنائے۔

23 اگست کو بھارت کی 9 اپوزیشن جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہاں کچھ بہت سنگین ہورہا ہے اور ساتھ ہی کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا

واضح رہے کہ رواں برس اگست میں ہی وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کے فیصلے کی اصولی منظوری دی گئی تھی۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی

5 اگست کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 کو صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ بل پیش کردیا تھا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے پیش نظر انٹرنیٹ، موبائل سروس اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کو بھی معطل کر دیا گیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ خطے میں امن و استحکام لانا بہت ضروری تھا جس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

مزیدپڑھیں: پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا فیصلہ

بھارتی حکومت کے بیانات کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو بدستور جاری ہے جہاں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوچکی ہیں تاہم ہفتے کو کرفیو میں کسی حد تک نرمی کی گئی تو عوام کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی۔

خیال رہے کہ 1989 سے مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کے دوران اب تک 50 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔