میڈیکل کی طالبہ کی پراسرار موت، سندھ حکومت کی عدالتی تحقیقات کیلئے درخواست

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

میڈیکل کالج کی طالبہ کمرے میں مردہ پائی گئی تھی—فائل فوٹو: ٹوئٹر
میڈیکل کالج کی طالبہ کمرے میں مردہ پائی گئی تھی—فائل فوٹو: ٹوئٹر

سندھ حکومت نے لاڑکانہ میں میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ کے پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے عدالت سے جوڈیشل انکوائری کی درخواست کردی۔

سیکشن افسر اعجاز علی بھٹی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ کو لکھے گئے خط میں عدالتی تحقیقات کی درخواست کی اور کہا کہ 30 روز میں محکمہ داخلہ کو رپورٹ دی جائے تاکہ مزید کارروائی کی جاسکے۔

خط میں ڈپٹی کمشنر اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاڑکانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ جوڈیشل انکوائری میں ہر ممکن معاونت فراہم کریں۔

مزید پڑھیں: لاڑکانہ: ڈینٹل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل میں پراسرار موت

خیال رہے کہ نمرتا کی پراسرار موت پر ہندو برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

متضاد بیان پر 2 طالب علم زیر حراست

دوسری جانب پولیس نے میڈیکل کی طالبہ نمرتا کی پراسرار موت کی تحقیقات کے سلسلے میں 2 ساتھی طا لب علموں کو حراست میں لے لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق دونوں طلبہ کو مشکوک ہونے پر حراست میں لیا گیا کیونکہ تحقیقات کے دوران ان دونوں کے بیانات میں تضاد تھا، جس پر مزید تفتیش کے لیے ان کو حراست میں لیا۔

نمرتا کی پراسرار موت

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بی بی آصفہ ڈینٹل کالج (بی ایس ڈی سی) میں بیچلرز ان ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا مہر چندانی ہاسٹل کے کمرے میں پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھیں۔

اس موت پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی تاہم اہل خانہ کی جانب سے خودکشی کی بات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس واقعے سے متعلق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر انیلہ عطا الرحمٰن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نمرتا امرتا مہر چندانی نامی طالبہ ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئی۔

قبل ازیں یونیورسٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو اس واقعے کی اطلاع دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ملی جس کے بعد وائس چانسلر، رجسٹرار، بی اے ڈی سی اور چاند کا میڈیکل کالج کے پرنسپلز پولیس افسران کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور نمرتا چندانی کو این آئی سی وی ڈی کے شعبہ حادثات لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

اس ضمن میں وائس چانسلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گردن کے ارد گرد زخموں کے نشان کے سوا جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھا۔

اس حوالے سے ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبہ نے ایک روز قبل ہی فائنل ایئر کا پہلا پرچہ دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نمرتا چندانی 2 دیگر طالبات کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں رہائش پذیر تھیں جن سے ان کی موت کی وجہ کے بارے میں تفتیش جاری تھی۔

تاہم وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ نمرتا نے شاید اس وقت خودکشی کی جب دیگر 2 طالبات کمرے میں موجود نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ یونیورسٹی: طالبہ کی مبینہ خودکشی پر آئی جی کا نوٹس

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود ڈاکٹر ہوں اور میں نے بھی لاش کا معائنہ کیا ہے جس کے مطابق طالبہ کے گلے پر جس طرح کے نشان پائے گئے ہیں وہ خود کشی کے نہیں، اس کے علاوہ اس کی کلائیوں پر بھی زبردستی پکڑے جانے کے نشانات موجود تھے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جس لڑکی نے سب سے پہلے نمرتا کی لاش دیکھی اس کے مطابق اس کے گلے میں دوپٹہ تھا جبکہ گلے پر جو نشان ہے وہ تار کا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ‘نمرتا کی لاش دوپہر 2 بجے ملی لیکن کالج کی انتظامیہ نے خود بتایا کہ ساڑھے 12 بجے وہ مٹھائی بانٹنے آفس میں آئی تھی تو آخر ڈیڑھ گھنٹے میں ایسا کیا ہوا؟’

بعد ازاں اس معاملے پر اہل خانہ کی جانب سے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد حکومت سندھ نے معاملے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی تھی۔