ٹویوٹا گاڑی بنانے والی کمپنی نے پلانٹ بند کردیا

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2019

ای میل

اے ڈیلر شپ نیٹ ورک میں 3 ہزار سے زائد غیر فروخت شدہ گاڑیاں موجود ہیں — فائل فوٹو: ڈان
اے ڈیلر شپ نیٹ ورک میں 3 ہزار سے زائد غیر فروخت شدہ گاڑیاں موجود ہیں — فائل فوٹو: ڈان

پاکستان میں ٹویوٹا کی گاڑیاں بنانے والی انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے مانگ میں کمی کی وجہ سے ستمبر کے باقی دنوں میں اپنی پیداوار کو بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 'نان پروڈکشن ڈیز' (این پی ڈیز) یا غیر پیداواری ایام کو 15 کردیا۔

انڈس موٹرز کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمپنی کو پہلے ہی جولائی میں 8 این پی ڈیز اور اگست میں 11 سے 12 این پی ڈیز کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد انجن کی صلاحیت والی گاڑیوں پر لگنے والی 2.5 سے 7.5 فیصد تک کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی جبکہ درآمد شدہ پارٹس اور خام مال پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور شرح سود میں اضافے سے ان کی گاڑیوں کی قیمت مارکیٹ سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے جبکہ ستمبر کے لیے 'آدھے سے زائد ماہ تعطیل کا ہے'۔

مزید پڑھیں: سست معیشت کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی

دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ 'آئی ایم سی پلانٹ اور ملک بھر میں اس کے ڈیلر شپ نیٹ ورک میں 3 ہزار سے زائد غیر فروخت شدہ گاڑیاں موجود ہیں، جس کی وجہ سے ستمبر میں یہ پلانٹ اپنی 50 فیصد صلاحیت پر کام کر رہا تھا۔

دریں اثنا ٹویوٹا نے بھی ڈان کو تصدیق کی کہ آئی ایم سی کی پیداوار 20 ستمبر سے 30 ستمبر تک بند رہے گی۔

ادھر اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ٹویوٹا کرولا کے جولائی اور اگست کے درمیان بالترتیب 5 ہزار 308 اور 3 ہزار 708 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 8 ہزار 804 اور 8 ہزار 770 یونٹس تھیں، جس سے اس فروخت میں 40 اور 57 فیصد کمی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا کی گاڑیوں کی قیمتوں میں 8 لاکھ 30 ہزار روپے تک اضافہ

اسی طرح ٹویوٹا ہائیلکس کے جولائی اور اگست کے درمیان بالترتیب 793 اور 716 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد ایک ہزار 383 اور ایک ہزار 292 یونٹس تھیں، جو 42 اور 44 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

ٹویوٹا فورچیونر کی فروخت بھی اسی عرصے میں کم ہو کر بالترتیب 232 یونٹس اور 162 یونٹس رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 484 اور 424 فیصد تھیں، اس طرح اس میں 52 اور 62 فیصد کمی آئی۔


یہ خبر 20 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی