’کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا، اقوام متحدہ قراردادوں پر عملدرآمد کروائے‘

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی— فائل فوٹو: اے پی
بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی— فائل فوٹو: اے پی

ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلیٹی انسٹیٹیوٹ یونیورسٹی (ایس اے ایس ایس آئی یو) کی ڈائریکٹر جنرل نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کشمیر سے متعلق قراردادوں پر فوری عملدرآمد کروایا جائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کرکے کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا ہے۔

ترک میڈیا کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے ایس اے ایس ایس آئی یو کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اقوام متحدہ دہائیوں پرانے اس حل طلب مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں 1948 میں ایک قرارداد منظور ہوئی تھی، جس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا جبکہ انہیں آزاد رائے شماری کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو غیرقانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو ختم کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’کیا مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ 50 سال بعد کردار ادا کرے گا؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا یہ غیرقانونی اقدام نئی دہلی اور اسلام آباد کو کشیدگی کی طرف لے گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیریوں کو بھارت نے زندہ درگور کردیا ہے، وہ اپنے ہی گھر میں بے یارو مددگار ہوگئے ہیں، وہاں بھارت نے انسانی حقوق کی پامالیاں کی ہیں۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صدارتی نظام رائج نہیں کیا جاسکتا، جموں و کشمیر میں صرف گورنر راج ہی لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 35-اے کو 1954 میں آئینی حکم نامہ (جموں و کشمیر) کے تحت اس وقت کے بھارتی صدر ڈاکٹر راجیندرا پرساد کی ہدایت پر جواہر لال نہرو کی کابینہ نے آئین میں شامل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'کشمیر میں کچھ ہوا تو بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے'

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بتایا کہ آئینی حکم نامے 1954 نے 1952 کے دہلی معاہدے کی پیری کی جو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور جموں اور کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کے درمیان ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 35-اے کے علاوہ 164 قوانین منسوخ ہوئے ہیں، 166 قوانین کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ 106 قوانین کو جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019 کے تحت وسعت دی گئی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے یہ اقدام اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اور جموں و کشمیر کی حکومتوں کے درمیان ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی۔


یہ خبر 21 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی