امریکا میں وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2019
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی—تصویر: پی آئی ڈی
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی—تصویر: پی آئی ڈی

وزیراعظم عمران خان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا کے 7 روزہ دورے پر نیویارک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے متعدد عالمی رہنماؤں، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان اور امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم نے دورہ امریکا کا پہلا دن بھی نہایت مصروف گزارا اور انہوں نے امریکی قانون سازوں، انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر جنرل کومی نائیڈو سے ملاقات کی تھی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم ان اہم ملاقاتوں کے دوران عالمی رہنماؤں اور شخصیات کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی جانب مبذول کروارہے ہیں جہاں بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کے بعد سے کرفیو نافذ ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت چاہیں تو کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے مابین ثالث کا کرداد ادا کرنے کی پیشکش کو دہرایا۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن سے بھی ملاقات کی اور دونوں رہنماﺅں نے باہمی، علاقائی اور دوطرفہ دلچسپی کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

عمران خان نے برطانوی وزیراعظم کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری انسانی حقوق اور انسانی صورتحال کی سنگینی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے قریبی رابطے پر اتفاق کیاتصویر: پی آئی ڈی
ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے قریبی رابطے پر اتفاق کیاتصویر: پی آئی ڈی

وزیراعظم نے جموں و کشمیر تنازع کے پر امن حل میں سہولت اور امن و سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر کرفیو اور دیگر پابندیاں اٹھانے پر زور دیا۔

اس موقع پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ اس صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی، وزیراعظم

علاوہ ازیں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے افغان امن عمل اور مفاہمتی عمل سمیت علاقائی اہمیت کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور سیاسی، تجارتی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا

وفود کے ہمراہ ایرانی صدر سے ملاقات

دونوں رہنماؤں نے اپنے وفود کے ہمراہ ملاقات کی—تصویر: پی آئی ڈی
دونوں رہنماؤں نے اپنے وفود کے ہمراہ ملاقات کی—تصویر: پی آئی ڈی

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے ہمسایہ ملک ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی اور علاقائی صورتحال سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ترک صدر کے ساتھ تبادلہ خیال

ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی، ملاقات میں وزیراعظم نے ترک صدر کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو درپیش صورتحال کی جانب مبذول کروائی، ترک صدر نے اس موقع پر وزیراعظم کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا—تصویر: پی آئی ڈی
دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا—تصویر: پی آئی ڈی

سوئس صدر کے ساتھ بات چیت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سوئس کنفیڈریشن کے صدر اولی مارر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں 50 روز سے جاری کرفیو اور دیگرپابندیاں فوری طورپر ختم کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو فروغ دینے پربھی اتفاق کیا—تصویر: پی آئی ڈی
دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو فروغ دینے پربھی اتفاق کیا—تصویر: پی آئی ڈی

وزیراعظم نے انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی تازہ ترین صورتحال بالخصوص وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور درپیش انسانی بحران سے آگاہ بھی کیا۔

چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے بھی ملاقات کی اور تنازع کشمیر سمیت پاکستان کے اہم مفادات کے تحفظ و فروغ کے لئے چین کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آزمودہ، سدا بہار اور سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لئے اہم عنصر ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کے لیے چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا—تصویر: پی آئی ڈی
چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کے لیے چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا—تصویر: پی آئی ڈی

انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات روز بروز مستحکم سے مستحکم تر ہو رہے ہیں کیونکہ یہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر باہمی احترام، مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جس نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ لاکھوں کشمیری محاصرے میں ہیں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور مقبوضہ وادی میں بدترین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی امریکی قانون سازوں سے ملاقات، بھارتی مظالم سے آگاہ کیا

وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے5 اگست کو غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کا مقصد عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنا تھا جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ملاقات میں پاکستانی وفد کی سربراہی جبکہ چینی وفد وزیر خارجہ کی سربراہی میں شریک ہوا—تصویر: پی آئی ڈی
ملاقات میں پاکستانی وفد کی سربراہی جبکہ چینی وفد وزیر خارجہ کی سربراہی میں شریک ہوا—تصویر: پی آئی ڈی

اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین کی قیادت قومی مفادات کے تمام امور پر پاکستان کی حمایت جاری رکھے گی۔

انہوں نے پر امن خطے کے لئے چین پاکستان سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین کی قیادت کمیونٹی کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر اور تمام شعبوں میں تعاون کے لئے پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے پاکستان کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر کامیاب عملدرآمد پر زور دیا اور کہا کہ سی پیک پاکستان اور خطے کی ترقی اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ملاقات کے دوران فریقین نے علاقائی سلامتی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

عالمی بینک کے ساتھ معاشی امور پر گفتگو

وزیراعظم کی  عالمی بنک کے صدر ڈیوڈ میلپس کے ساتھ ملاقات—تصویر: پی آئی ڈی
وزیراعظم کی عالمی بنک کے صدر ڈیوڈ میلپس کے ساتھ ملاقات—تصویر: پی آئی ڈی

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپس سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کے معاشی ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں