وزیراعظم کی امریکی قانون سازوں سے ملاقات، بھارتی مظالم سے آگاہ کیا

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

وزیراعظم عمران خان کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کومی نائیڈو سے ملاقات —تصویر: پی آئی ڈی
وزیراعظم عمران خان کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کومی نائیڈو سے ملاقات —تصویر: پی آئی ڈی
وزیراعظم سے زلمے خلیل زاد کی ملاقات میں وزیرخارجہ بھی موجود تھے—فوٹو:پی آئی ڈی
وزیراعظم سے زلمے خلیل زاد کی ملاقات میں وزیرخارجہ بھی موجود تھے—فوٹو:پی آئی ڈی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے 7 روزہ دورہ امریکا کا دوسرا روز امریکی قانون سازوں، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے مضمرات سے آگاہ کرتے ہوئے گزارا۔

وزیراعظم سے اتوار کے روز ملاقات کرنے والے قانون سازوں میں امریکی سینیٹ میں اقلیتوں کے رہنما چک شومر اور سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے چیئرمین لنزے گراہم شامل تھے یہ دونوں قانون ساز نہ صرف کیپٹل ہل میں اہم اثر و رسوخ کے حامل ہیں بلکہ اپنی سیاسی جماعتوں قابل ذکر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر چک شومر کا تعلق نیویارک سے ہے اور وہ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کے مسائل پر خاص توجہ دینے کے حوالے سے معروف ہیں۔

دوسری جانب سینیٹر گراہم لنزے ریپبلکن قانون ساز ہیں جن سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہم امور پر کرتے ہیں، اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے پہلے دورہ امریکا کا سہرا بھی سینیٹر گراہم کو دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِِاعظم عمران خان نے پہلے دورہ امریکا سے کیا کچھ حاصل کیا تھا؟

سینیٹر گراہم ان چار امریکی سینیٹرز میں بھی شامل تھے جنہوں نے صدر ٹرمپ کو خط لکھ کر ان سے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ان کے ساتھ وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو سے بھی ملاقات کی اور بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کے غیر قانونی الحاق کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بات چیت کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے74 ویں اجلاس سے خطاب سے قبل امریکا کے دورے میں افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات کی۔

زلمے خلیل زاد نے ایک وفد کے ہمراہ نیویارک میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی بھی موجود تھیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان کی دوسری ملاقات زلمے خلیل زاد کے ساتھ ہوئی جس میں انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی نوعیت اور آئندہ کے امکانات سے آگاہ کیا'۔

زلمے خلیل زاد سے ملاقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے اپنا پورا جائزہ پیش کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'خلیل زاد نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اعتراف کیا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا کردار بڑا تعمیری رہا ہے'۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'وزیراعظم کی اگلی ملاقات سینیٹر لنزے گراہم سے ہوئی اور ہم نے کشمیر کی جانب توجہ دلانے پر ان کا شکریہ ادا کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر لنزے گراہم وہ سینیٹر ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورت کی جانب توجہ دلانے کے لیے خط لکھا تھا اور ہم نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے اس سے قبل نیو یارک میں ہی ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا۔

بیان کے مطابق 'کومی نائیڈو سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں 5 اگست 2019 کو کیے گئے غیر قانونی اور یک طرفہ فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی سنگین صورت حال پر گفتگو کی'۔

وزیر اعظم عمران خان نے 'مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی اصل صورت حال کا پیش کرنے اور کشمیری آبادی کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کردار کو سراہا'۔

انہوں نے کہا کہ 'ان کوششوں سے کشمیریوں کی مسلسل تکالیف سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے میں مدد ملی ہے'

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں پر بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گنز کی شیلنگ اور اس کے زہریلے اثرات کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی تعریف کی۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیریوں کے ساتھ سول سوسائٹی کی مسلسل حمایت کی مضبوط بنیاد کی مظہر ہے'۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو نے وزیر اعظم کو 'مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے ایمنسٹی کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا'۔

کومی نائیڈو نے وزیراعظم کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے کام سے بھی آگاہ کیا اور اس حوالے سے مسائل پر عالمی تنظیموں کی تجاویز پر عمل کرنے کی تجویز دی۔

کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی سے ملاقات

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ عمران خان کشمیر مشن  پر امریکا آئے ہیں — فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ عمران خان کشمیر مشن پر امریکا آئے ہیں — فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کریں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق امریکا پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی فاروق کتھواری سے ملاقات کی اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس دوران انہوں نے فاروق کتھواری پر زور دیا کہ وہ اپنے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم، اس کے غیر قانونی تسلط اور انسانی حقوق کی پامالی اور اس کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں تاکہ نریندر مودی کی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوسکے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر پر ’کنٹرول' سے متعلق بھارتی وزیر کا بیان غیر ذمہ دارانہ قرار

خیال رہے کہ فاروق کتھواری ایشیائی نژاد امریکیوں کے بارے میں امریکی صدر کے مشاورتی کمیشن کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اس ملاقات کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی نعیم الحق کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی اور امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اس دوران فاروق کتھواری نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیر اسٹڈی گروپ کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔

واضح رہے 5 اگست کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 کو صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد کشمیر کو بھارت سے منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ بل پیش کردیا تھا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا، اقوام متحدہ قراردادوں پر عملدرآمد کروائے‘

مذکورہ اقدام سے قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جو تاحال برقرار ہے جبکہ اس دوران حریت رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو گرفتار یا نظربند کیا جاچکا ہے۔

اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

پاکستان متعدد مرتبہ خدشات کا اظہار کرچکا ہے کہ بھارتی اقدام کے بعد دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

عمران خان ’کشمیر مشن‘ پر امریکا آئے ہیں، ملیحہ لودھی

ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مشن کشمیر پر امریکا آئے ہیں۔

—فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان
—فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان اپنا دورہ سعودی عرب مکمل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ روز نیو یارک پہنچے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ امریکا ان کے اور پوری قوم کے لیے 'کشمیر مشن‘ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا امریکا میں پیغام واضح ہوگا کہ ‘مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کے لیے پُرامن حل تلاش کیا جائے‘۔

مزید پڑھیں: ’بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں، پاکستان بہت کچھ کرچکا‘

پاکستان کی مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کریں گے جو لاک ڈاؤن اور سفاکانہ قبضے کا شکار کشمیری مسلسل برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کو عالمی برادری اور امریکی میڈیا میں توجہ حاصل ہوگئی ہے، وہ نیویارک میں میڈیا نشستوں میں بھی شرکت کریں گے۔

پاکستانی مندوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی کا پہلا دورہ ہے اور وہ اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کی آواز بنیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کا غیرقانونی الحاق ختم کرنے پر ہی بھارت سے مذاکرات ہوں گے، عمران خان

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں جہاں نیویارک میں 21 سے 27 ستمبر کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیراعظم عمران خان پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

دفتر خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27 ستمبر کو اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت پر پاکستانی موقف کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہ کریں گے‘۔

دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان عصر حاضر کے دیگر اہم امور پر عالمی دنیا کو اپنا موقف پیش کریں گے۔

مزید پڑھیں: کشمیر معاملے پر بھارت کو مذاکراتی ٹیبل پر کس طرح لایا جاسکتا ہے؟

اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ ’مجموعی طور پر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ تمام سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا‘۔

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے آئندہ چند روز میں اہم ملاقاتیں کریں گے جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ 'جنوبی ایشیا میں 2 جوہری قوت کے حامل پڑوسیوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے'۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کروں گا، اس کے علاوہ پاکستان کے وزرا اعظم سے ملاقات ہوگی'۔