شعبہ ٹرانسپورٹ کو ایل این جی فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2019

ای میل

ٹریفگورا ایک کثیرالملکی کمپنی ہے جس کے ٹرمینل میں 5 فیصد حصص ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی
ٹریفگورا ایک کثیرالملکی کمپنی ہے جس کے ٹرمینل میں 5 فیصد حصص ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سنگاپور سے تعلق رکھنے والی کمپنی ٹریفگورا نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کے لیے اپنی اضافی گنجائش پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ (پی جی پی ایل) ٹرمینل کو دینے کے لیے یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) سے معائدہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹریفگورا ایک کثیرالملکی کمپنی ہے جس کے ٹرمینل میں 5 فیصد حصص ہیں اور پی جی پی ایل ٹرمینل پر ایل این جی کی 150 ملین اضافی گنجائش اس نے 2 سال قبل حاصل کی تھی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے تیل اور گیس کی تجارت کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ایگزون موبل نے شعبہ ٹرانسپورٹ کو ایل این جی فراہم کرنے کے لیے یو جی ڈی سی سے معاہدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ایل این جی کی فراہمی کے لیے ایگزون موبل سے معاہدہ

جس کے تحت تھرڈ پارٹی رسائی (ٹی پی اے) کے تحت ایگزون موبل کی جانب سے درآمد کردہ ایل این جی اب پی جی پی ایل ٹرمینل پر محفوظ اور ری گیسیفائیڈ کی جاسکے گی۔

یہ بھی مدِ نظر رہے کہ ٹریفگورا اور یو جی ڈی سی میں گزشتہ برس تعاون کے لیے سمجھوتہ ہوا تھا لیکن اس کا استعمال ایل این جی فراہمی اور درآمد کے انتظامات کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔

چنانچہ اب ایگزون موبل کی جانب سے ایک سال میں 4 ایل این جی شپمنٹ کی فراہمی کے وعدے پر 2 کمپنی نے 50 سے 80 (ملین کیوبک فٹ یومیہ) فراہم کرنے کا معاہدہ کرلیا۔

مزید پڑھیں: نئے ایل این جی ٹرمینل کے مقام کے تعین کیلئے اسٹڈی کا حکم

ٹریفگورا کچھ عرصے سے اپنی اضافی گنجائش کی کھپت کے لیے نجی ایل این جی صارفین تلاش کررہی تھی چنانچہ اب یو جی ڈی سی اور ٹریفگورا باضابطہ طور پر’ لو اور ادا کرو‘ کی بنیاد پر 50 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ کرچکے ہیں۔

اس بارے میں یو جی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) غیاث عبداللہ پراچہ کا کہنا تھا کہ ٹریفگورا اور ایگزون موبل کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان میں گیس سیکٹر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نجی شعبہ کتنا موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے حکومت کو غیر ملکی زر مبادلہ محفوظ کرنے اور نجی شعبے اور ٖغیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے درمیان خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔