وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں میں سختی

28 ستمبر 2019

ای میل

مظاہرین نے آزادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے—فوٹو:اے ایف پی
مظاہرین نے آزادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے—فوٹو:اے ایف پی

بھارتی فورسز نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں مزید سختی کردی۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جب اقوام متحدہ میں اپنی تقریر مکمل کی تو مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیکڑوں افراد اپنے گھروں سے باہر آئے اور آزادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔

کشمیری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے—فوٹو:اے ایف پی
کشمیری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے—فوٹو:اے ایف پی

عینی شاہدین اور مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق بھارتی فورسز نے عمران خان کی تقریر کے ایک روز بعد سری نگر کے متعدد علاقوں میں گاڑیوں پر اسپیکر لگا کر اعلان کیا کہ وہ شہریوں کی نقل وحرکت محدود کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کو روکنے کے لیے اضافی فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

قابض فورسز نے سری نگر کے کاروباری مرکز جانے والے راستوں کو کھاردار تاروں سے بند کردیا۔

ایک پولیس اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'گزشتہ شب عمران خان کی تقریر کے فوری بعد سری نگر شہر بھر میں احتجاج کے بعد یہ ضروری ہوگیا تھا'۔

دوسری جانب بھارتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ خطے میں دو مختلف واقعات میں 6 کشمیری شہید ہوگئے ہیں اور ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سری نگر سے 19 کلومیٹر شمال کی جانب واقع گنربل میں تین نوجوانوں کو شہید کیا گیا تھا۔

بھارتی دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیوندر آنند کا کہنا تھا کہ دیگر تین کشمیریوں کو سری نگر اور جموں کو ملانے والی شاہراہ کے قریب بٹوٹ میں نشانہ بنایا گیا۔

'مقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی کرفیو'

بھارتی جنتہ پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا تھا اور اس سے قبل پورے خطے میں کرفیو نافذ کرکے سخت پابندیاں لگادی تھیں۔

مزید پڑھیں:خبردار کرتا ہوں! اقوام متحدہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلائے، وزیراعظم

بھارتی حکومت نے مسلسل دوسرے مہینے بھی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی جاری رکھی تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل پابندیوں میں معمولی نرمی کی گئی تھی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں پابندیوں پر نرمی کے باجود مرکزی مساجد میں جمعے کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کے علاوہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس سمیت مواصلات کے ذرائع بدستور معطل تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے اپنی 9 لاکھ فوج کو تعینات کر رکھا ہے جہاں کرفیو ہٹاتے ہی لوگ احتجاج کریں جس کے نتیجے میں خون ریزی کا خدشہ ہے اس لیے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے۔

اقوام متحدہ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیوں کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔