مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے4 نوجوان شہید

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2019

ای میل

مظاہرین کے حملے میں ایک بھارتی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا—فوٹو: اے ایف پی
مظاہرین کے حملے میں ایک بھارتی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا—فوٹو: اے ایف پی

بھارتی قابض سیکیورٹی فورسز نے جموں وکشمیر میں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر 4 حریت پسندوں کو شہید کردیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مقامی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جموں کے علاقے بٹوٹ مارکیٹ میں کارروائی کے دوران 3 نوجوانوں کو شہید کیا گیا جو مبینہ طور پر ایک مقامی شخص کو یرغمال بنا کر ان کے گھر میں موجود تھے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دل باغ سنگھ کا کہنا تھا ک ایک اور کشمیری کو شمالی علاقے کنگان میں شہید کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سری نگر کے علاقے صفاکدل میں کشمیری حریت پسندوں نے گرینیڈ پھینکا لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ضلع گاندربل اور رام بن میں ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں 6 کشمیریوں کو شہید کردیا جبکہ ایک بھارتی سیکیورٹی افسر نے خودکشی کرلی۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے گاندربل کے علاقے نرانگ کا محاصرہ کیا اور سرچ آپریشن کے دوران 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

مزیدپڑھیں: بھارتی فورسز کی فائرنگ سے مزید 3 کشمیری حریت پسند شہید

اس ضمن میں بتایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع رام بن کے علاقے بٹوٹ میں 3 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بٹوٹے میں مظاہرین کے حملے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

کے ایم ایس کے مطابق گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے پر کشمیریوں کی بڑی تعداد خوشی میں گھروں سے باہر نکل آئی۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس کے بعد سے تاحال وادی میں کرفیو نافذ ہے اور مواصلات کا نظام معطل ہے۔

کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق کشمیری نوجوانوں کرفیو کی پرواہ کیے بغیر پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے جمع ہوگئے۔

بھارتی سیکیورٹی افسر کی خودکشی

مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے افسر نے سرکاری بندوق سے خودکشی کرلی۔

کے ایم ایس کے مطابق جموں میں ریل ہیڈ کامپلکس کے پاس چیک پوسٹ پر تعینات انڈو تبتی بارڈر فورس (آئی ٹی بی پی) کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) جیشونت سنگھ مردہ حالات میں پایا گیا۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر: 24 گھنٹے میں دوسرے بھارتی فوجی کی خودکشی

اس ضمن میں بتایا گیا کہ جیشونت سنگھ نے سرکاری رائفل سے گولی چلا کر خود کو ختم کردیا۔

خیال رہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں میں خودکشی کے رجحان میں گزشتہ کئی برس سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ جنوری 2007 سے اب تک کم ازکم 442 اہلکار اپنی زندگی کا خاتمہ کر چکے ہیں۔

عمران خان نے کیا خطاب کیا؟

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم پر بھرپور انداز میں اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ 'جناب صدر! میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے، دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں ہم آئے تھے'۔

مزیدپڑھیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرنے کا مطالبہ

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ 'اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں'۔

'اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں اور ہم لڑیں گے، اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں'۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، ساتھ ہی اس اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل وہاں پہلے سے لاکھوں کی تعداد میں موجود فوج میں بھی اضافہ کردیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ بھارت نے وادی میں کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو تاحال جاری ہے جبکہ موبائل، انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ہزاروں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو گرفتار کیا تھا جبکہ حریت قیادت سمیت مقبوضہ وادی کے سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی نظر بند و گرفتار کرلیا گیا۔