کیمسٹری کا نوبیل انعام بھی تین سائنسدانوں کے نام

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2019

ای میل

انعام کی نصف رقم امریکی جب کہ نصف رقم جاپانی و برطانوی سائسندان کو دی جائے گی—فوٹو: اے پی
انعام کی نصف رقم امریکی جب کہ نصف رقم جاپانی و برطانوی سائسندان کو دی جائے گی—فوٹو: اے پی

دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے ’کیمسٹری‘ (کیمیا) کا انعام مشترکہ طور پر امریکا، برطانیہ اور جاپان کے سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کردیا۔

رواں برس کے ابتدائی تینوں نوبیل انعام یعنی طب، طبیعات اور کیمیا کے انعامات تین تین سائسندانوں کو دیے گئے ہیں۔

کیمسٹری کا نوبیل انعام تینوں سائسندانوں کو ان کی لیتھیم آئن بیٹریز کی ایجادات پر دیا جا رہا ہے۔

لیتھیم آئن بیٹریز دراصل موبائل فونز، لیپ ٹاپ، الیکٹرک گاڑیوں، کمپیوٹرز اور دیگر ایسے کمپیوٹر آلات میں استعمال کی جاتی ہیں، یہ بیٹریاں متعدد بار ریچارج کیے جانے کے علاوہ سالوں تک چلتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طب کا نوبیل انعام برطانوی اور امریکی سائنسدانوں کے نام

تینوں سائسندانوں کو ان بیٹریوں کی ایجادات کرنے، انہیں طاقتور بنانے، انہیں کاروباری استعمال کے قابل بنانے اور انہیں دنیا میں عام کرنے کی خدمات سر انجام دینے پر انعام دیا جا رہا ہے۔

کیمسٹری نوبیل انعام کا نصف حصہ امریکی سائسندان 97 سالہ جان گڈناف کو دیا جائے گا جب کہ انعام کا دوسرا نصف حصہ جاپانی و برطانوی سائسندانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

تینوں سائنسدانوں کو مجموعی طور پر 10 لاکھ ڈالر سے کم اور پاکستانی 14 کروڑ روپے سے زائد کی رقم دی جائے گی۔

نوبیل انعام حاصل کرنے والے 97 سالہ جان گڈناف نے عالمی ریکارڈ بناتے ہوئے طویل عمر میں انعام حاصل کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

جان گڈناف کیمسٹری کا انعام حاصل کرنے والے اب تک کے سب سے عمر رسیدہ سائنسدان ہیں۔

نوبیل پرائز کمیٹی نے اب تک تین نوبیل انعامات کا اعلان کیا ہے، پہلے نوبیل انعام کا اعلان 7 اکتوبر کو کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: طبیعات کا نوبیل انعام امریکی و سوئس سائنسدانوں کے نام

7 اکتوبر کو طب کے نوبیل انعام کا اعلان کیا گیا تھا جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے سر پیٹر ریٹکلیف، ہارورڈ یونیورسٹی کے ولیم کیالین اور جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے گریگ سمینزا کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ان تینوں سائنسدانوں کا تحقیقی کام خون کی کمی اور کینسر وغیرہ کے نئے طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد دے سکے گا۔

فزکس کے نوبیل انعام کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا گیا تھا اور یہ انعام امریکا اور سوئٹزرلینڈ کے تین سائنسدانوں امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیبلز و سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو دیا جائے گا۔

ان تینوں سائسندانوں نے کائنات کی تخلیق میں مدد کرنے اور نئے سیاروں کی دریافت کے حوالے سے مشاہدات کرنے میں مدد فراہم کرنے جیسی خدمات سر انجام دیں۔

نوبیل انعام جیتنے والے تمام افراد کو رواں برس 10 دسمبر کو انعام دیا جائے گا۔