طبیعات کا نوبیل انعام امریکی و سوئس سائنسدانوں کے نام

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2019

ای میل

تین میں سے دو سائنسدانوں کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے ہے—فوٹو: اے پی
تین میں سے دو سائنسدانوں کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے ہے—فوٹو: اے پی

دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے ’فزکس‘ (طبیعات) کا ایوارڈ سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے تین سائسندانوں کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کردیا۔

نوبیل پرائز کمیٹی کے مطابق طبعیات کا رواں سال کا انعام تین سائنسدانوں امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیبلز و سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو دیا جائے گا۔

کمیٹی کے مطابق تینوں سائنسدانوں نے کائنات کی تخلیق میں تحقیق میں مدد کرنے سمیت نئے سیاروں کی دریافت میں مدد کرنے کے حوالے سے کام کیا، جس وجہ سے انہیں ان کی خدمات کے عوض انعام دیا جا رہا ہے۔

امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیپلز نے کائنات کی تخلیق کے حوالے سے مدد کرنے کے حوالے سے تجربات کیے اور ان کے مشاہدوں سے نئی تحقیق میں مدد ملی۔

جب کہ سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو فلکیاتی سائنس میں تجربات اور مشاہدوں پر انہیں انعام دیا جا رہا ہے۔

دونوں سائنسدانوں کی تحقیق، تجربے اور مشاہدوں نے کائنات میں موجود نئے یا چھپے سیاروں تک رسائی میں سائسنسدانوں کو مدد فراہم کی جس پر انہیں ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا، تینوں سائنسدانوں کو انعام دینے کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا گیا۔

تینوں سائنسدانوں میں نوبیل انعام کی رقم دو حصوں میں تقسیم کی جائے گی، انعام کی رقم کا نصف حصہ امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جب کہ نصف حصہ دونوں سوئٹزرلینڈ کے سائننسدانوں کو دیا جائے گا۔

فزکس کے نوبیل انعام سے قبل طب کے نوبیل انعام کا بھی اعلان کیا گیا تھا اور طب کا نوبیل بھی تین سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: طب کا نوبیل انعام برطانوی اور امریکی سائنسدانوں کے نام

طب کا نوبیل انعام آکسفورڈ یونیورسٹی کے سر پیٹر ریٹکلیف، ہارورڈ یونیورسٹی کے ولیم کیالین اور جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے گریگ سمینزا کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ان تینوں سائنسدانوں کا تحقیقی کام خون کی کمی اور کینسر وغیرہ کے نئے طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد دے سکے گا۔

طب کا انعام بھی تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا—فوٹو: اے پی
طب کا انعام بھی تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا—فوٹو: اے پی