ایران کا پڑوسی ممالک کے ساتھ خطے کی ’سیکیورٹی کا نیا منصوبہ‘ پیش

11 اکتوبر 2019

ای میل

جواد ظریف نے کہا کہ مسلم ممالک زیادہ سنجیدگی سے نئے عمل کے بارے میں سوچیں—فوٹو: اے ایف پی
جواد ظریف نے کہا کہ مسلم ممالک زیادہ سنجیدگی سے نئے عمل کے بارے میں سوچیں—فوٹو: اے ایف پی

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اسلامی خلیجی ممالک کی سیکیورٹی کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے خبردار دیا کہ غیرملکی طاقتیں خطے کی سیکیورٹی کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک سے سیکیورٹی منصوبے میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم انہوں نے منصوبے سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں تھیں۔

مزیدپڑھیں: سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کویت کے روزنامہ اخبار الرای میں شائع مضمون میں جواد ظریف کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے ’ہرمز امن کوشش‘ منصوبہ پیش کیا۔

اس ضمن میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’مذکورہ منصوبے سے مربوط سیکیورٹی اور ایران، سعودی عرب، عراق، عمان، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین کے مابین تعاون یقینی ہوگا۔

جواد ظریف نے کہا کہ علاقائی عدم جارحیت کا معاہدہ، انسداد دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی، توانائی اور بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خطے کو تباہی کے دہانے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے نئے عمل کے بارے میں سوچیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے برطانوی تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کا الزام مسترد کردیا

جواد ظریف نے کہا کہ خلیج فارس کی قوموں اور لوگوں کی قسمت الجھ چکی ہے، خطے میں سیکیورٹی منصوبے سے ہر شخص کو فائدہ پہنچے گا بصورت دیگر سب اس سے محروم رہیں گے۔

واضح رہے کہ امریکا اورسعودی عرب کی ایران کے ساتھ پہلے سے جاری کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب 14 ستمبر کو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئےتھے جس کے بعد تیل برآمد کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو نے اپنی پیداوار روک دی تھی۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا اور سعودی عرب دونوں نے ایران کو اس کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا تھا تاہم ایران نے ان بیانات کو جنگ کے لیے ایک بہانہ قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے اس لیے کسی قسم کی جارحیت سے گریز کیا جائے۔

مزیدپڑھیں: ‘ایران پر امریکی، سعودی فضائی حملے کی صورت میں کھلی جنگ ہوگی‘

بعدازاں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکا، تیل کی سعودی تنصیبات پر ہونے والے حملے سے جنم لینے والے بحران کا پر امن حل چاہتا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں اتحادیوں سے ملاقات کرنے کے بعد مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ’خطے میں اتفاقِ رائے‘ پایا جاتا ہے کہ ایران کی تردید کے باجود حملے اسی نے کیے ہیں۔