‘ایران پر امریکی، سعودی فضائی حملے کی صورت میں کھلی جنگ ہوگی‘

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب جھوٹ اور دھوکے پر مبنی الزام لگا رہے
—فائل فوٹو: اے ایف پی
جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب جھوٹ اور دھوکے پر مبنی الزام لگا رہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران نے اپنے ملک پر امریکا یا سعودی عرب کے فضائی حملوں کی صورت میں ’مکمل جنگ‘ سے خبردار کردیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا اور اس کے اتحادی خلیج ممالک پر واضح کیا کہ ’اگر ایران پر فضائی حملہ ہوا تو کھلی جنگ ہوگی‘۔

مزیدپڑھیں: تیل کی تنصیبات پر حملے یمن سے نہیں ایران سے ہوئے، سعودی عرب

واضح رہے کہ سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ’یمن کے حوثی باغیوں‘ نے ڈرون سے حملے کیے تاہم امریکا اور سعودی عرب نے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی تھی جبکہ تہران نے حملے سے متعلق کسی بھی الزام کو قطعی مسترد کردیا تھا۔

سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ ’اگر امریکا یا سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملہ ہوا اس کے نتائج کیا ہوں گے؟‘

سوال کے جواب میں جواد ظریف نے دوٹوک کہا کہ ’کھلی جنگ‘، ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم عسکری جارحیت میں ملوث نہیں ہونا چاہتے‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں نتائج لاتعداد اموات ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب تیل تنصیبات پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے، امریکا

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’لیکن ہم ملکی دفاع پر خوفزدہ نہیں ہوں گے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب نے آرامکو تیل کمپنی پر حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون اور میزائل کے ٹکڑے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’یہ ایرانی جارحیت کے ناقابل تردید شواہد ہیں‘۔

سعودی دعویٰ سے متعلق سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’سعودی عرب اپنی طرف سے کہانیاں بنا رہا ہے‘۔

جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب ایران پر الزام لگا کر ’کچھ حاصل‘ کرنا چاہتا ہے اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ طرز عمل جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے‘۔

مزیدپڑھیں: سعودی عرب کے تیل کے پلانٹ پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ یمن میں حکومت مخالف حوثی باغیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے حوثی باغیوں کے بیان کو مسترد کر دیا تھا۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا تھا کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل کے کل 25 حملے یمن سے نہیں بلکہ ایران سے کیے گئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ڈرون حملہ

مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا تھا کہ کشیدگی ختم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے ’دنیا کی توانائی سپلائی‘ پر حملہ کیا۔

دوسری جانب ایران نے سعودی عرب میں ڈرون حملے میں ملوث قرار دینے کے امریکی الزام کو مسترد کردیا تھا اور وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ 'پومپیو زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ میں ناکامی کے بعد اب ’زیادہ سے زیادہ دھوکا‘ دینے کی جانب چلے ہیں۔

آرامکو آئل فیلڈ حملہ

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پالیا گیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں: سعودی عرب کے تیل کے پلانٹ پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ

اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔

سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمن میں حکومت مخالف حوثی باغیوں سے جنگ لڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے کیے جا چکے ہیں۔