ترکی نے شام میں کردوں پر حملہ کیوں کیا؟

12 اکتوبر 2019

ای میل

ترکی نے شمالی شام پر فوج کشی کر رکھی ہے اور اس معاملے کو کردوں کی ریاست کی تشکیل سے جوڑا جارہا ہے۔ یہ بہت حد تک درست ہے لیکن ترکی اور شام کے تعلقات میں کشیدگی ترک جمہوریہ کے قیام سے ہی شروع ہوچکی تھی۔

ترکی کی نظر میں شام کی ریاست جنگِ عظیم اول کے بعد برطانوی اور فرانسیسی فاتحین نے مصنوعی طور پر تخلیق کی۔ شام کا خیال تھا کہ بیرونی حملہ آوروں نے اسے تقسیم کیا اور اس تقسیم پر نظرثانی ہونی چائیے، یہی نہیں بلکہ شام یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ ناجائز طور پر ترکی کے سپرد کیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ابتدا ہی سے سرحدی تنازعات بالخصوص ترک صوبے ہاتے کا معاملہ سنگین رہا ہے اور شام کا اس صوبے پر دعویٰ ہے۔ سرد جنگ کے دوران ترکی اور شام 2 مخالف کیمپوں میں تھے۔ اس کے علاوہ کردوں کا معاملہ اور دجلہ و فرات کے پانی کا تنازع بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کو طویل عرصے تک یرغمال بنائے رہا۔

پچھلے چند عشروں میں ترکی نے سیکیورٹی ایشوز کو مدنظر رکھتے ہوئے شام کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی پالیسی اپنائی۔ ہمیشہ جنگ کے دہانے پر کھڑے شام اور ترکی نے 1988ء میں ترکی کے شہر اضنہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے اور یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

اس معاہدے سے ہاتے صوبے، کرد علیحدگی پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور پانی کے تنازعات کے حل کا عمل تیز ہوا۔ شام نے کردستان ورکرز پارٹی کو دہشتگرد تنظیم تسلیم کیا اور علیحدگی پسند رہنما عبداللہ اوکلان کو دمشق سے نکالنے کا وعدہ کیا جس سے تعلقات دوستی کی جانب مائل ہوئے۔

2004ء سے 2010ء کے عرصہ میں شام پہلا ملک تھا جس کے ساتھ ترکی نے بطور ہمسایہ صفر مسائل اور زیادہ سے زیادہ تعاون کی پالیسی کے تحت اعلیٰ ترین سطح پر تعاون قائم کیا اور اعلیٰ سطح پر اسٹرٹیجک تعاون کونسل قائم کی۔ 2010ء میں ترکی نے شام، اردن اور لبنان کے ساتھ 4 ملکی آزاد تجارتی معاہدہ کیا۔

2010ء میں تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار جو دراصل سارے عرب حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی ایک لہر تھی، اس نے شام کو بھی لپیٹ میں لیا۔ شام کے صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے ایران اور حزب اللہ نے پراکسی جنگ چھیڑی۔ ایران اور حزب اللہ نے بشارالاسد کو بچانے کے لیے اپنے تمام مالی اور عسکری وسائل جھونک دیے۔ جب ایران کے حمایت یافتہ گروپ بھی کام نہ آسکے تو ایران کی فوج اور حزب اللہ براہِ راست جنگ میں کود پڑے اور روس بھی واحد عرب اتحادی کو بچانے کے لیے میدان میں آگیا۔

ترکی نے بشارالاسد کو ہٹانے کی کوششوں کا ساتھ دیا اور بشارالاسد کے باغیوں کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی اور یوں خطہ پراکسی وار کا گڑھ بن گیا۔ روس اور ایران کی مداخلت کی وجہ سے بشارالاسد کو ہٹانا مشکل ہوگیا اور توازن بشارالاسد کے حق میں ہوگیا۔ ترکی کو شام کے بحران کا ذمہ دار قرار دیا جانے لگا۔ داعش کے خلاف جنگ کے نام پر امریکا بھی 60 ملکوں کے اتحاد کو لے کر جنگ میں کود پڑا۔ دنیا بھر کی طاقتوں کے مفادات اور نظریات کے ٹکراؤ سے شام کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دیا گیا۔

امریکا نے داعش کے خاتمے کے لیے کردوں کے گروپ وائی پی جی کو ساتھ ملایا۔ کچھ عرب جنگجو بھی ساتھ مل گئے اور یوں دونوں گروپوں نے مل کر سیرین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) قائم کرلی۔ امریکا اور اتحادیوں نے ایس ڈی ایف کو داعش سے لڑنے کے لیے فضائی سپورٹ کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کی۔ امریکا اور ایس ڈی ایف داعش کو بھگانے میں کامیاب رہے اور ایس ڈی ایف نے شمالی شام پر کنٹرول مضبوط کرلیا۔

اس صورتحال کے بعد ترکی شام کے ساتھ 570 میل سرحد پر کردوں کے زیرِ انتظام علاقے سے خائف ہوگیا۔ ترکی کے خیال میں شام کے کرد گروپ وائی پی جی اور ترکی کے گروپ پی کے کے میں رابطے ہیں جو ترکی کی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو ترکی کی خارجہ پالیسی مہاجرین کی مدد کے علاوہ بشارالاسد کو براہِ راست فوجی مداخلت کے بغیر نکال باہر کرنے تک محدود رہی لیکن تازہ صورت حال میں ترکی کی پالیسی فوجی پالیسی میں بدل چکی ہے۔ ترکی 2016ء اور 2018ء میں بھی شام کی سرحد پر فوجی کارروائیاں کرچکا ہے۔

شام سے متعلق ترکی کی پالیسی کے 6 بنیادی مقاصد ہیں۔

  • انسانی المیے کو روکنا،
  • بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ،
  • اپوزیشن فورسز کی مدد،
  • ایران کے ساتھ پراکسی وار،
  • داعش کے خطرے کا تدارک، اور
  • کرد گروپ وائی پی جی کو علاقے پر قبضے سے روکنا۔

شام کی خانہ جنگی کے بعد ترکی کی خارجہ پالیسی کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 2011ء سے 2016ء تک ترکی انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر شام کے متعلق پالیسی روا رکھتا رہا لیکن 2016ء میں یہ پالیسی فوجی طاقت کی پالیسی میں بدل گئی اور 24 اگست کو ترکی نے شام آپریشن فرات شیلڈ شروع کیا۔ یہ ترکی کی فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی کا نقطہ آغاز تھا۔ ترکی کی نئی طاقت کی پالیسی میں اب بھی انسانی ہمدردی کا پہلو شامل ہے۔

انسانی ہمدردی کے تحت ترکی نے 36 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا۔ اب بھی ترکی کی پالیسی میں شامی مہاجرین کی مدد شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ترکی چاہتا ہے کہ شامی مہاجرین کی کوئی نئی لہر پیدا نہ ہو، مزید ہجرت روکی جائے اور پہلے سے بے گھر شامی شہریوں کے لیے شام کی سرحدوں کے اندر ایک سیف زون بنایا جائے۔

ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ مہاجرین کی مدد اور نئی ہجرت کو روکنے کے چکر میں کرد گروپ اور داعش اس کی سرحد کے پاس پہنچ گئے ہیں، لہٰذا اس مسئلے کا حل فوجی طاقت کے سوا کچھ نہیں رہا۔

ترکی بشارالاسد کو ہر حال میں حکومت سے بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ شام میں بغاوت شروع ہوئی تو ترکی نے بشارالاسد کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے مطالبات پر مذاکرات کرے اور اصلاحات لائے۔

ابتدائی 6 ماہ ترکی نے شام کے مسئلے میں براہِ راست دخل اندازی سے گریز کیا۔ بشارالاسد نے بغاوت کچلنے کے لیے ایران سے مدد لی اور بغاوت کچل دینے کے عزم کا اظہار کیا جس پر خانہ جنگی شروع ہوگئی اور ترکی میں مہاجرین کا سیلاب آگیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب ترکی نے بشارالاسد حکومت کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا اور باغیوں کی مدد شروع کردی۔ ایران اور روس کے علاوہ امریکا اور دیگر طاقتوں کی مداخلت کے بعد ترکی مقاصد کے حصول میں ناکام ہوتا چلا گیا۔ اس پر ترکی نے بشارالاسد کو ہٹانے کی ضد چھوڑ دی اور بشار کے بغیر مسئلے کے حل کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا۔

2016ء کے بعد ترکی نے بشار حکومت کے خاتمے کو ترجیح بنانے کے بجائے شام کی علاقائی سالمیت اور امن کی بحالی پر توجہ دی جس کی وجہ بشارالاسد کو ایران اور روس کی حمایت کا حاصل ہونا تھا۔ ایک اور وجہ ترکی کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے باغی گروپوں میں نااتفاقی بنی۔

بشارالاسد کی برطرفی ترکی کی ترجیح نہ ہونے کے باوجود انقرہ باغی گروپوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ وہ شام کے مستقبل کے فیصلے میں اپنا کردار رکھنا چاہتا ہے اور کردوں کو مستقبل کے فیصلوں میں مضبوط نہیں ہونے دینا چاہتا۔ اسی لیے ترکی نے آستانہ مذاکرات میں باغی گروپوں کی سفارتی مدد کی اور شام میں باغی گروپ فری سیرین آرمی کی زمینی مدد جاری رکھی۔ ترکی شام کے مستقبل کے لیے آستانہ مذاکرات کو اہمیت دیتا ہے کیونکہ جنیوا میں مذاکرات کا جو عمل شروع کیا گیا اس کے لیے کرد ملیشیا کو بھی مدعو کیا گیا تھا جس کے سبب ترکی اور اس کے اتحادی شامی باغیوں نے شرکت نہیں کی۔

ترکی کا ایک اور مقصد شام کو ایران کی سیٹلائٹ ریاست بننے سے روکنا ہے جس کے لیے ایران اور ترکی کے درمیان پراکسی وار جاری ہے۔ ترکی ایران کو روکنے کے لیے چند خلیجی ملکوں کا بھی اتحادی ہے۔ ترکی شام کے علاوہ عراق، یمن اور لبنان میں ایران کو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے طور پر دیکھتا ہے۔ ترکی سیکولر ریاست کی حیثیت سے فرقہ وارانہ علاقائی پالیسیوں کا سخت مخالف ہے۔

ترکی کی حالیہ فوجی مہم صدر اردوان اور صدر ٹرمپ کی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے بعد شروع ہوئی۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر اردوان نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ہونے کے باوجود امریکا ترکی کے سیکیورٹی خدشات کو اہمیت نہیں دے رہا۔ ترکی کے ساتھ شام کی طویل سرحد کردوں کے کنٹرول میں دے دی گئی ہے۔ صدر اردوان کے ساتھ گفتگو کے بعد صدر ٹرمپ نے شمالی شام سے امریکی فوجی دستے نکال کر ترکی کی کارروائی کا راستہ صاف کیا لیکن جب امریکا میں اس فیصلے پر تنقید تنقید ہوئی تو صدر ٹرمپ نے ترکی کو دھمکیاں دینا شروع کردیں کہ اس نے تجاوز کیا تو اس کی معیشت تباہ کردی جائے گی۔

صدر ٹرمپ کی نہ ختم ہونے والی جنگوں سے بیزاری کے علاوہ اس فیصلے کے پیچھے امریکا کی مبہم شام پالیسی کارفرما ہے۔ سابق صدر بارک اوباما نے شام میں براہِ راست مداخلت کے بجائے مقامی گروپوں کی مدد کی۔ صدر ٹرمپ کے دور میں بھی یہ پالیسی برقرار رہی۔

شام میں امریکی پالیسی کے 3 مقاصد بیان کئے گئے۔

  • پہلا داعش کا خاتمہ،
  • دوسرا ایرانی مداخلت کا خاتمہ اور
  • تیسرا بشار الاسد کو ہٹائے بغیر سیاسی حل تلاش کرنا۔

امریکی صدر نے دسمبر 2018ء میں داعش کی شکست سے متعلق ٹویٹ کیا جبکہ زمینی حقیقت یہ تھی کہ داعش کے خلاف سیرین ڈیموکریٹک فورس اس وقت تک لڑ رہی تھی اور داعش کی پسپائی اس سال یعنی مارچ 2019ء میں ہوئی۔ ایرانی مداخلت اب بھی جاری ہے جبکہ سیاسی حل بھی تلاش نہیں کیا جاسکا اس طرح امریکا اپنے بیان کردہ مقاصد کے حصول سے پہلے ہی شام سے نکلنے کی تیاری کرچکا تھا۔

صدر ٹرمپ کی شام اور افغانستان پالیسی نے امریکا کے اتحادیوں میں بے چینی پیدا کردی ہے اور امریکا ان کے لیے قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا۔ شام میں کرد ملیشیا کی جیلوں میں 20 ہزار سے زیادہ داعش جنگجو قید ہیں اور ہزاروں شام اور عراق کے صحراؤں میں بھٹک رہے ہیں۔ امریکی صدر بار بار یورپی اتحادیوں سے کہتے رہے کہ وہ داعش جنگجوؤں کو واپس لیں، اور جب اتحادیوں نے بات نہیں مانی تو ان قیدیوں کو ان ملکوں کے ساحلوں پر چھوڑنے کی بھی دھمکی دی لیکن وہ دھمکی بھی بے اثر رہی۔

ترکی کے حملے کے بعد یورپی ممالک اب واویلا کر رہے ہیں کہ ترک فورسز کے حملوں میں داعش قیدیوں کے فرار ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے جواب میں ترک صدر ایک اور دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ ترک فوجی کارروائی کی مخالفت ترک نہ کرنے پر یورپ کی سرحدیں کھلی چھوڑ کر شامی مہاجرین کو یورپ میں دھکیل دیں گے۔

ترک فوج کی کارروائی طویل عرصہ کے لیے نہیں۔ ترکی نے 30 کلومیٹر کے علاقے کو ہدف بنایا ہوا ہے اور یہ حملے اسی علاقے کو واگزار کرانے کی تیاری کی ہے۔ کرد ملیشیا نیٹو کی دوسری بڑی فوجی طاقت کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتی۔ فوجی کارروائی طویل نہ ہونے کے باوجود شام طویل عرصے کے لیے پراکسی وار کا شکار رہے گا۔

دوسری طرف ترکی نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ اگر ترکی علاقہ خالی کرانے میں کامیاب رہا تو مہاجرین کو اس حصے میں بسا پائے گا یا نہیں؟ اور مہاجرین کی آبادکاری کے لیے درکار وسائل کہاں سے آئیں گے؟