سفرِ زندگی کی کچھ حقیقتیں

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

سفرِ زندگی میں اکثر دوراہے آجاتے ہیں، ان دوراہوں پر سوالات کا ایک انبار انسان کو جیسے آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی پردیسی انجان صحرا میں بھٹک گیا ہے، جس کے پاس نہ منزل کا نقشہ ہے نہ آگے بڑھنے کی ہمت۔

اسی طرح کئی موقعوں پر انسان ان سوالوں کے جواب کی تگ و دو شروع کردیتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ سوال ابھرنے لگتے ہیں کہ اچھائی کا تقاضا کیا ہے؟ محبت اور نفرت کے پیمانے کیا ہیں؟ مروت کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ قدرت کے فیصلے کیا انسان کے بس میں ہیں؟ قلب و ذہن کو کتنا وسیع ہونا چاہیے؟ احساسِ جُرم جیسے زہر کا طریاق کہیں ملتا ہے؟ اختلافات کا باوقار حل کہاں تلاش کروں؟ مشکل گھڑی آن گھیرے تو کہاں جاؤں؟ بدگمانی کے بھٹکاوے سے کیسے بچا جائے؟ کیا نفرت کی شدت محبت کو مات دے دیتی ہے؟ کیا میں لوگوں سے حالتِ جنگ میں ہوں؟ آزادی اور بغاوت کے تصورات کتنے حقیقی ہیں اور کس قدر مصنوعی؟ کیا اب کوئی امید نہ رکھوں؟ بدترین تکبر کا تعین کیسے کروں؟

تو آئیے ان سارے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ظاہر اور باطن

اچھائی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کا ظاہری و باطنی، دونوں پہلو اچھے ہوں۔

انسان بھی اپنے نقطۂ کمال کو تبھی پہنچتا ہے جب اس کا ظاہر اور باطن یکساں ہوجائیں۔

تم اپنی اچھائی کا ظاہر اور اپنے ظاہر کی اچھائی تو فوراً کہیں بھی ثابت کرسکتے ہو لیکن کم ظرفوں کے معاشرے میں جہاں ہر طرف بد گمانیاں ڈیرے ڈالے ہوئی ہوں اور بصیرتوں پر تعصبات کی کالی چادریں پڑی ہوں وہاں تمہاری کسی اچھائی کا باطن اور تمہارے باطن کی کوئی اچھائی تسلیم نہیں کی جائے گی۔

پس اگر تمہارا باطن نیک ہے تو اسے ثابت کرنے کی کوشش مت کرنا۔

شک آلود نگاہوں والے پست ذہن لوگوں سے دُور رہ کر اچھائی کرتے رہنا اور یہ کہ باطن بینی قدرت لاکھوں میں کسی ایک کو عطا کرتی ہے ہر ایرے غیرے سے اس کی توقع مت رکھنا۔

محبت اور نفرت

محبت نایاب اور نفرت باآسانی دستیاب اس لیے ہوتی ہے کہ محبت کا اظہار اور نفرت کو چھپانا مشکل ہوتا ہے۔

محبت ثابت کرنی پڑتی ہے اور نفرت پر بے وجہ بھی یقین آجاتا ہے۔

محبت نازک اندام ہوتی ہے اور نفرت سخت جان۔ محبت قلیلُ العُمر ہوتی ہے اور نفرت طویلُ المیعاد۔

محبت کو خون دے کر پالنا پڑتا ہے لیکن نفرت جا بجا بکھری ہوئی زہریلی جڑی بوٹیوں سے ہی پل کر جوان ہوجاتی ہے۔ لہٰذا محبتوں کا کھل کر اظہار کیا کریں، محبتوں کے اظہار پر یقین کیا کریں اور اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی زہریلی جڑی بوٹیوں کی کاشت بند کرکے نفرتوں کو بھوکا مار دیں۔

سب سکھی ہوجائیں گے۔

مروت

مروت دو اجزاء سے مل کر بنتی ہے۔

اوّل: اپنے دل میں کسی کی عزت

دوم: کسی کی نظر میں اپنا وقار

خالص مروت آج کل بہت نایاب ہے کیونکہ عموماً لوگ مروت کے نام پر کم ہمتی، بزدلی یا مفاد پرستی کا منافقت بھرا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔

مروت رشتوں کی شہہ رگ پر بندھی ہوئی رسی کی گانٹھ جیسی ہوتی ہے جو کھل جائے تو رشتے رسوا کرکے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور سخت ہوجائے تو دم گھٹ کر ہاتھ میں دم توڑ دیتے ہیں۔

اگر تمام رشتوں کو رسی ڈال کر اپنے من پسند کھونٹے سے باندھ کے رکھنا چاہتے ہو تو اپنی عزت ہمیشہ بناکر رکھنا اور دوسروں کے وقار پر کبھی آنچ نہ آنے دینا تاکہ باہمی مروتوں کو گزند نہ پہنچے۔

جو یہ کرنے میں کامیاب ہوجائے، بلاشبہ وہ حکمت کے نوبیل انعام کا مستحق ہے۔

قدرت کے فیصلے

اگر عورت بیٹیاں پیدا کرنے پر سسرال سے ملامت نہیں چاہتی تو پھر اسے بیٹا پیدا کرکے اترانا بھی نہیں چاہیے کہ اس کی کوکھ سے وارث پیدا ہوا ہے۔

مرد ہوں یا عورتیں، سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ فیصلے تو قدرت کے ہیں۔ ان پر اترانا پرلے درجے کی کم ظرفی اور ان پر ملامت کرنا سراسر جہالت ہے۔

قلب و ذہن

ٹھوس دلائل ذہن پر تو فوری اثر کرتے ہیں لیکن دلیلیں دل کی دھرتی میں دھیرے دھیرے جذب ہوتی ہیں۔ اسی طرح خواہشات دل میں تو اچانک بھڑک اٹھتی ہیں لیکن انہیں ذہن سے تائید ملنے میں وقت لگتا ہے کیونکہ قلب و ذہن کا درمیانی راستہ نہایت تنگ اور اتنا پرخار ہوتا ہے کہ اس میں ذہن سے آنے والے بڑے بڑے دلائل اور دل سے آنے والی طاقتور خواہشات باآسانی لہولہان ہوجاتی ہیں۔

جس نے یہ راستہ کشادہ کرکے نوکیلے کانٹوں سے پاک کرلیا، اس کا دل کبھی سچائی کو نہیں جھٹلائے گا اور اس کا ذہن کبھی ناجائز خواہشات پر خاموشی اختیار نہیں کرے گا۔

اگر تم اپنے ہی قلب و ذہن کے درمیان ایک پل تعمیر نہیں کرسکتے تو تم وہ خلیج کس طرح عبور کرو گے جو تمہارے اور دوسروں کے درمیان حائل ہیں؟

احساس جرم

جسے غلطی کا احساس دلانے میں ناکام ہوجاؤ، اسے دوبارہ غلطی کرنے کا موقع کبھی نہ دینا۔

کھونا اور پانا

کھونا پانے کے بعد ہوتا ہے لیکن احمق اسے بھی کھونا سمجھتے ہیں جسے پا نہ سکیں۔

جو تم پا نہ سکے وہ کھونا نہیں ناکامی ہے اور ناکامی بذات خود پانے کی معراج ہے، کوئی پانے والا ہو سہی۔

اختلافات کا باوقار حل

باہمی اختلافات کا پیدا ہوجانا عین انسانی فطرت ہے، کوئی عار نہیں۔

اختلافات کا دوسروں پر ظاہر ہوجانا معاشرتی مجبوری ہے، کوئی توہین نہیں۔ لیکن فریقین سرعام ننگے اس وقت ہوتے ہیں جب وہ اختلافات کی تفصیلات عام کرتے کرتے پورے معاشرے کو ایک ایسا منصف بنا بیٹھتے ہیں جو فریقین کو اشتہاری قرار دینے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں رکھتا۔

اس قبیح فعل کے پیچھے 2 انتہائی گھٹیا مقاصد ہوتے ہیں

1. اپنے مؤقف کی تائید حاصل کرکے نفسیاتی سکون پانا

2. موقعے کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے کی ساکھ خراب کرنا

لہٰذا اختلافات چاہے کھل جائیں لیکن اختلافات کی تفصیلات کبھی نہ کھولیں۔ ہمیشہ آپس میں بیٹھ کر اختلافات حل کریں۔

اگر یہ ممکن نہ ہو تو صرف ایسے لوگوں کو تفصیلات بتائیں جو اہل، مخلص، غیرجانبدار، راست گو اور معتبر ہوں۔

مشکل گھڑی

مشکل کی صرف پہلی گھڑی مشکل ہوتی ہے پھر اس کے بعد راستے کھل جاتے ہیں لیکن کس کے لیے؟

ڈھیٹ، انا پرست، جاہل اور سینہ کوبی کرنے والوں کے لیے؟

ہرگز نہیں!

راستے ملتے ہیں تو صرف ڈھونڈنے والے باہمت اور مستقل مزاج لوگوں کو۔

بدگمانی

کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اگر تم نے حقائق کو غیر جانبدارانہ اور غیر متعصبانہ طریقے سے پرکھ لیا ہے تو ٹھیک ورنہ بدگمانی دراصل دوسروں کی ذات میں نظر آنے والا تمہارا اپنا ہی عکس ہے۔

یاد رکھو! اگر ہر کوئی تمہاری توقع کے برابر اچھا نہیں ہوسکتا تو ہر کوئی تمہاری توقع جتنا بُرا بھی نہیں ہوسکتا۔

نفرت کی شدت

شدت میں ان نفرتوں کا مقابلہ کوئی چیز نہیں کرسکتی جو محبتوں پر غالب آچکی ہوں۔

جھگڑا اور جنگ

اپنوں سے جھگڑا ہوتا ہے لیکن جنگ دشمن سے ہوتی ہے۔ جھگڑا غلطی یا غلط فہمی سے شروع ہوتا ہے لیکن جنگ کے پیچھے ہمیشہ مقاصد ہوتے ہیں۔

جھگڑے میں اختلاف کیا جاتا ہے لیکن جنگ میں طاقت دکھائی جاتی ہے۔ جھگڑے میں دہائیاں دی جاتی ہیں جبکہ جنگ میں سازشوں کے جال بچھائے جاتے ہیں۔

جھگڑے کے آخر میں صلح ہوجاتی ہے لیکن جنگ کا اختتام فتح اور شکست پر ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی کو دشمن جان کر، ایک مقصد کے تحت، پوری طاقت استعمال کرتے ہوئے اسے نیچا دکھانے کی کوشش میں دن رات دسیسہ کاریوں میں مصروف ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ جھگڑا نہیں جنگ کر رہے ہیں۔

جھگڑا جتنا چاہیں کریں لیکن خدارا کسی سے جنگ نہ کریں کیونکہ جنگ ہمیشہ تباہ کاریاں لاتی ہے، صرف تباہ کاریاں۔

آزادی اور بغاوت

آزادی کا احساس محض تمہاری محدودیت اور خارجی قیود کے درمیان فاصلوں کا نام ہے ورنہ دنیا میں آزادی نام کی کوئی چیز نہیں۔

خدا نہ کرے کبھی تم اپنے گرد کھڑی کی گئی دیواروں کو دیکھ پاؤ، بلاوجہ قید کی تکلیف سے دوچار ہوکر بغاوت پر آمادہ ہوجاؤ گے۔

پھر کیا معلوم تم بغاوت اور آزادی کی قیمت ادا کرسکو یا نہ کرسکو۔

ابھی وقت ہے

ابھی ذلتیں مسلط نہیں ہوئیں۔ ابھی تنگدستی نے ڈیرے نہیں ڈالے۔ ابھی مہلک بیماریاں لاحق نہیں ہوئیں۔

ابھی مخلوق کی محتاجی پیدا نہیں ہوئی۔ ابھی انجانے خوف و بے قراری نے پریشان نہیں کیا۔ ابھی تو اچانک پڑنے والی آفتیں بھی کافی دُور ہیں۔ حتیٰ کہ سانس بھی چل رہی ہے اور دل بھی دھڑک رہا ہے۔

لہٰذا ابھی وقت ہے اپنے کالے کرتوت چھوڑ دینے کا، پلٹ جانے کا، لوٹ آنے کا، بدل جانے کا، سمجھ جانے کا۔

بدترین تکبر

تکبر کی بدترین شکل اپنے عجز کا کِبر ہے۔

نوٹ: ’عجز‘ کے معنی عاجزی اور ’کِبر‘ کے معنی تکبر کے ہیں۔