شامی مہاجر نوجوان کا شوارما اور روایتی عربی کھانے پاکستان میں مقبول

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2019

ای میل

ابو عامر کو دوست محمد عدنان بھی کہتے ہیں—فوٹو: ثنا جمال/ گلف نیوز
ابو عامر کو دوست محمد عدنان بھی کہتے ہیں—فوٹو: ثنا جمال/ گلف نیوز

پاکستان میں جہاں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے فیشن اور طرز زندگی کو سراہا جاتا ہے، وہیں پاکستان میں وہاں کے روایتی کھانے بھی بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں۔

خانہ جنگی کا شکار مشرق وسطی کے ملک شام کے کھانوں کا شمار بھی ایسے ہی ذائقہ دار کھانوں میں ہوتا جنہیں پاکستان میں بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے ایف 10 میں شامی مہاجر نوجوان کی جانب سے کھولے گئے ذائقہ دار کھانے دیکھتے ہی دیکھتے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں مقبول ہونے لگے ہیں۔

جی ہاں، شام سے خانہ جنگی کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے 32 سالہ نوجوان ابو عامر، جنہیں پیار سے دوست محمد عدنان بھی کہتے ہیں، کے بنائے گئے روایتی شامی کھانے اور عربی شوارما کی شہرت نہ صرف اسلام آباد بلکہ دیگر شہروں تک بھی پہنچ گئی۔

’گلف نیوز‘ کے مطابق ابو عامر نے محض 5 ماہ قبل رواں برس جون میں اسلام آباد میں کھانوں کا ہوٹل کھولا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ہوٹل مقبول ہونے لگا۔

تین دن قبل ابو عامر پر تشدد کی خبریں وائرل ہوئی تھیں—اسکرین شاٹ
تین دن قبل ابو عامر پر تشدد کی خبریں وائرل ہوئی تھیں—اسکرین شاٹ

ابو عامر کو اگرچہ اسلام آباد میں ہوٹل کھولے جانے کے ابتدائی ہفتوں بعد ہی شہرت ملی تھی لیکن انہیں اس وقت اچانک شہرت ملی جب ان کے حوالے سے کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہوئیں کہ انہیں مقامی ہوٹل مالکان کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ابو عامر کے ہوٹل کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھ کر مقامی ہوٹل مالکان نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس وجہ سے انہیں ہسپتال داخل ہونا پڑا۔

تاہم فوری ہی اس خبر کی تردید ہوگئی اور ابو عامر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ انہیں کسی نے بھی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ وہ موٹر سائیکل سے گر کر زخمی ہوگئے تھے اور وہ خیریت سے ہیں۔

ابو عامر پر مقامی افراد کی جانب سے تشدد کی خبر سامنے آنے کے بعد کئی افراد پریشان ہوگئے اور بہت بڑی تعداد میں لوگ ان کے ہوٹل پر پہنچے اور واقعے سے متعلق دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ابو عامر خیریت سے ہیں۔

اگرچہ ابو عامر پر تشدد کی خبر نے لوگوں کو پریشان کردیا، تاہم اسی واقعے نے انہیں مزید شہرت بھی بخشی اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں مقیم لوگوں نے بھی ان کے ذائقہ دار کھانوں کو چکھنے کے لیے خواہش کا اظہار کیا۔

ابو عامر پاکستان کیسے آئے؟

ابو عامر 7 سال قبل پاکستان آئے تھے—فوٹو: ٹوئٹر
ابو عامر 7 سال قبل پاکستان آئے تھے—فوٹو: ٹوئٹر

گلف نیوز کے مطابق ابو عامر 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اہل خانہ سمیت وہاں سے ہجرت کرگئے تھے۔

ابو عامر کے والدین اور دیگر بہن بھائی پڑوسی ملک لبنان منتقل ہوگئے اور وہ خود پاکستان چلے آئے۔

ابو عامر کی ایک بہن کی شادی پاکستان میں ہوئی ہے اور وہ اپنی بہن کے آسرے پر پاکستان آئے اور وہ کئی سال تک یہاں بطور مہاجر رہے لیکن رواں برس انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا۔

ابو عامر کے مطابق چند ماہ قبل تک وہ گھروں اور دفاتر میں لذیذ عربی و مشرق وسطی کھانے آرڈر پر پہنچاتے تھے، تاہم انہیں احساس ہوا کہ ان کے شوارما کو بہت پسند کیا جا رہا ہے، جس کے بعد انہوں نے پاکستانی دوستوں کی مدد سے ہوٹل کھولا۔

ابو عامر کا تعلق شام کے تیسرے بڑے شہر ہومس سے ہے اور وہ اسلام آباد کے پوش علاقے میں دیگر 5 افراد کے ساتھ مل کر ہوٹل چلاتے ہیں۔

ابو عامر نے 5 پاکستانی لڑکوں کو بھی ملازمت دے رکھی ہے جو مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں کام کر چکے ہیں اور وہ روانی سے عربی زبان بول لیتے ہیں۔

ابو عامر کے کھانے نہ صرف مرد بلکہ خواتین میں بھی مقبول ہیں—فوٹو: ثنا جمال/ گلف نیوز
ابو عامر کے کھانے نہ صرف مرد بلکہ خواتین میں بھی مقبول ہیں—فوٹو: ثنا جمال/ گلف نیوز

ابو عامر نہ صرف لذیذ عربی شوارما بناتے ہیں بلکہ وہ دیگر مشرق وسطی میٹھے روایتی کھانے بھی بناتے ہیں اور ان کے کھانوں کی تعریف اسلام آباد سے نکل کر ملک کے دوسرے شہروں تک پہنچ چکی ہے۔

ابو عامر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ساتھ عربی انداز کی اردو بول لیتے ہیں جس وجہ سے وہ اپنے گاہکوں میں مزید مقبول ہوگئے ہیں اور آنے جانے والے افراد ان کے ساتھ سیلفی بناتے دکھائی دیتے ہیں۔

ابو عامر بتاتے ہیں کہ وہ لذیذ اور روایتی عربی کھانے بنانے کے لیے 20 گھنٹوں تک کام کرتے ہیں اور وہ ہر چیز اپنے ہاتھوں سے گھر میں بناتے ہیں۔

ابو عامر کے ہوٹل پر ایک شوارما 290 روپے میں فروخت ہوتا ہے اور وہ یومیہ 500 کے قریب شوارما فروخت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تاہم بعض مرتبہ کئی افراد شوارما یا دوسرا کھانا حاصل کیے بغیر خالی واپس چلے جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو عامر نے بھی پاکستانی لڑکی سے منگنی کرلی ہے اور وہ جلد ہی شادی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

ابو عامر کے مطابق ان کی منگیتر بھی اچھے اور روایتی کھانے بناتی ہیں اور ان کا پروگرام ہے کہ شادی کے بعد دونوں مل کر کھانے کا کاروبار کریں گے۔

بعض مرتبہ کئی افراد شوارما یا دوسرا کھانا حاصل کیے بغیر خالی واپس چلے جاتے ہیں—فوٹو: ثنا جمال/ گلف نیوز
بعض مرتبہ کئی افراد شوارما یا دوسرا کھانا حاصل کیے بغیر خالی واپس چلے جاتے ہیں—فوٹو: ثنا جمال/ گلف نیوز