بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایت، چیف جسٹس کا از خود نوٹس

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

ہائی کورٹ نے معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا—فائل/فوٹو: بلوچستان ہائی کورٹ ویب سائٹ
ہائی کورٹ نے معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا—فائل/فوٹو: بلوچستان ہائی کورٹ ویب سائٹ

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

ایف آئی اے نے بلوچستان یونیورسٹی کے تین افسران سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے تفتیش کی۔

ایف آئی اے کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے افسران کے ہاتھوں ہراساں ہونے والے طلبہ میں اکثریت طالبات کی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس کی روشنی میں ایف آئی اے نے متعدد مرتبہ چھاپے مارے اور یونیورسٹی کے عہدیداروں سے تفتیش کی۔

یہ بھی پڑھیں:جنسی ہراساں انکوائری: ملازمت سے برخواست کے فیصلے کےخلاف پروفیسرکی پٹیشن خارج

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کو ہراساں کرنے کے الزامات پر تحقیقات کرکے 28 اکتوبر تک رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جائے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے شکایات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘کسی کو نہیں بخشا جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا ہے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

ایف آئی اے کے افسر کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں طالبات کو ہراساں کرنے کی 12ویڈیوز موصول ہوئی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے طالبات کو ہراساں کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باوجود مزید 6 اضافی کیمرے نصب کردیے تھے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد: بحریہ کالج کی طالبات کو امتحان کے دوران ہراساں کرنے کا انکشاف

تفتیش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اسکینڈل کی جامع تفتیش شروع کردی ہے اور یونیورسٹی کے 200 عہدیداروں سے تفتیش کی گئی ہے۔

ایف آئی اے کے افسر کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کسی افسر کو تاحال گرفتار نہیں کیا بلکہ ان سے تفتیش کررہے ہیں اور باقاعدہ گرفتاریاں مقدمے کے اندراج کے بعد کی جائیں گی’۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں لاہور ہائی کورٹ نے طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے سے متعلق مقدمے میں ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کے خلاف نجی یونیورسٹی کے پروفیسر کی پٹیشن خارج کردی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جاوید حسن نے درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستان مردوں کی سوسائٹی ہے جہاں خواتین کو کام کی جگہ پر مخالفت اور رکاوٹ کا سامنا رہتا ہے جس کے باعث ملکی ترقی میں ان کا حصہ محدود ہوجاتا ہے۔

مئی 2018 میں اسلام آباد میں بحریہ کالج کی طالبات کو انٹرمیڈیٹ کے عملی امتحانات کے دوران وفاقی بورڈ کے مقرر کردہ امتحانی عملے کی جانب سے مبینہ طور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

بحریہ کالج اسلام آباد کے پرنسپل اقبال جاوید نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے سامنے اٹھایا گیا ہے تاہم بورڈ کی جانب سے اس عمل میں ملوث شخص کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ ہائیکورٹ کا یونیورسٹی طالبہ کو ہراساں کرنے پر نوٹس

ملزم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اس وقت زور پکڑ گیا تھا جب کالج کی ایک طالبہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اسے 24 مئی کو ہونے والے امتحانات کے دوران ممتحنر کی جانب سے 2 مرتبہ ہراساں کیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے 6 ستمبر 2018 کو شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی (ایس بی بی یو) نوابشاہ میں طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔

رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس نے طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا نوٹس لیا ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے مقامی اخبار کی خبر پر نوٹس لیتے ہوئے سیشن جج شہید بے نظیر آباد، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی بے نظیر آباد سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔