شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے، امریکا نے ترکی پر پابندیاں لگادیں

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

امریکا نے ترکی سے جنگ بندی کا مطالبہ کردیا — فوٹو: اے ایف پی
امریکا نے ترکی سے جنگ بندی کا مطالبہ کردیا — فوٹو: اے ایف پی

امریکا نے جنگ زدہ ملک شام میں اتحادی کرد فورسز پر حملے کے بعد ترکی کے وزرا اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پنس اور وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے وائٹس ہاؤس کے باہر انقرہ پر نئی پابندیوں کا تذکرہ کیا۔

مزید پڑھیں: شام: ترکی کے کرد ٹھکانوں پر حملے، 8 جنگجوؤں سمیت 15 افراد ہلاک

وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے کہا کہ واشنگٹن نے تین ترک وزرا، ان کے محکمہ دفاع اور توانائی پر پابندی عائد کردی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے فون پر رابطہ کیا اور شام میں جنگی بندی اور ترک فورسز کی پسپائی کا مطالبہ کیا۔

نائب امریکی صدر مائیک پنس نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پابندی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے اور مجھے ہدایت کی کہ وفد کے ہمراہ ترکی میں ترک اور کردش کے مابین مذاکرات کی سربراہی کروں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اسٹیل کے ٹیرف میں اضافے اور ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر پر مشتمل تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو بھی منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’میں بتدریج انقرہ کی معیشت کو برباد کردوں، اگر ترک رہنما خطرناک اور تباہ کن راستہ اختیار کرنے سے باز نہیں آئیں گے‘۔

علاوہ ازیں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ ’اگر ترکی عسکری آپریشن جاری رکھتا ہے تو شام میں انسانی بحران بڑھے گا اور اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ عائد کردہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ترکی، شام کے شمال مشرقی علاقے سے یکطرفہ جنگی بندی کرے اور متاثرہ علاقے میں امریکا سے سیکیورٹی سے متعلق مذاکرات شروع کرے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی کے شام میں حملے: عمران خان کی طیب اردوان کو پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے پناہ گزین ایجنسی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آپریشن سے ترک-شام سرحد کے نزدیک آباد 5 لاکھ لوگوں کو خدشات لاحق ہیں۔

ترکی نے شام میں فوجی آپریشن کا فیصلہ 3 روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے واپس بلانے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد کیا تھا۔

اس ضمن میں ترک وزیر خارجہ میولوت کاووسوگلو کا کہنا تھا کہ 'ہماری فوج شام کی شمالی سرحد کے اندر 30 کلومیٹر تک جائے گی اور ان کا آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا'۔

مزیدپڑھیں: ترکی نے شام میں فوجی بیس کو نشانہ بنانے کا امریکی الزام مسترد کردیا

خیال رہے کہ نیٹو کا رکن ترکی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کو اپنی بقا کی جنگ کہتا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جینز یویز لی ڈریان نے ترکی کے کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن پر بحث کے لیے داعش کے خلاف بننے والے اتحاد کا فوری اجلاس طلب کرلیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ 30 ممالک پر مشتمل اتحاد کو معاملے پر بحث کرنی چاہیے کیونکہ داعش صورتحال کا فائدہ اٹھا کر واپس اٹھ سکتی ہے۔