کراچی: سپرہائی وے پر فائرنگ سے تین مظاہرین جاں بحق

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

پولیس کے مطابق ڈرائیوروں کے احتجاج کے دوران فائرنگ کی گئی—فائل/فوٹو:ڈان
پولیس کے مطابق ڈرائیوروں کے احتجاج کے دوران فائرنگ کی گئی—فائل/فوٹو:ڈان

کراچی میں سپرہائی وے کے قریب کاٹھور موڑ پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے عہدیداروں کی مبینہ فائرنگ سے 3 مظاہرین جاں بحق ہوگئے۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق ایف ڈبلیو او کے عہدیداران مال بردار گاڑیوں میں حد سے زیادہ لوڈ کو روکنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل درآمد کی کوشش کررہے تھے جس پر ڈرائیورز سپر ہائی وے پر گاڑیاں کھڑی کرکے احتجاج کررہے تھے۔

ڈی آئی جی ایسٹ کراچی عامر فاروقی نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حد سے زیادہ لوڈ کا ایک مسئلہ تھا جس پر سینئر افسران نے سپریم کورٹ کی جانب سے حد سے زیادہ لوڈ پر عائد کی گئی پابندی کے حالیہ فیصلے کی نشاندہی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی کوشش کی جبکہ ڈرائیوروں نے احتجاجاً سپر ہائی وے میں گاڑیوں کو کھڑی کرنا شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان جاں بحق

ڈی آئی جی ایسٹ نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ جب ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے ڈرائیوروں کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے اہلکاروں پر مبینہ طور پر پتھراؤ کیا۔

عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے۔

جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ چکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کی شناخت 35 سالہ ایوب، نیاز علی اور رسول خان کے نام سے ہوئی اور تینوں افراد ڈرائیور تھے۔

جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ایوب اور نیاز علی کو کمر اور سینے پر گولیاں لگی تھیں اور اس کے علاوہ ولی خان نامی زخمی زیر علاج ہے۔

سپرہائی وے میں پیش آنے والے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری فوری طور پر جائے وقوع پہنچی۔

مزید پڑھیں: کراچی: فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق، دوسرا زخمی

ڈی آئی جی ایسٹ کراچی عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ پولیس اس وقت سپرہائی وے کو ٹریفک کے لیے کھولنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ یہی شاہراہ کراچی کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے حوالے سے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا اور فائرنگ کس جانب سے ہوئی تھی اس کی نشاندہی کی جائے گی تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

دوسری جانب آئی جی جند ڈاکٹر سید کلیم امام نے کاٹھور کے قریب فائرنگ کے واقعے میں تین افراد کے جاں بحق اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر نوٹس لیا۔

آئی جی سندھ نے ایس ایس پی ملیر کو ہدایت کی کہ وہ واقعے کی رپورٹ فوری طور پر جمع کرایں اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔